علامہ اقبال کی شاعری میں قرآنی تلمیحات

تحریر: محمد دلشاد قاسمی
6395450560

جانتا ہوں میں یہ امت حامل قرآن نہیں ہے
وہی سرمایہ داری بندہ مومن کا دیں

علامہ اقبال عصر حاضر کے ان مفکروں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں قرآن کی تعلیمات کو ایک نئے سانچے میں ڈھال کر مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ موجودہ بدلتے ہوئے حالات میں بھی اسلام اپنے دامن میں ہماری رہنمائی کا سامان رکھتا ہے انہوں نے اسلام کے بنیادی ماخذ قرآن کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور قرآنی تعلیمات کو اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے کی بھرپور کوشش کی ان کی شاعری پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ سیکڑوں مضامین براہ راست قرآن کریم سے ماخوذ ہیں وہ مسلم امت کو بار بار یاد دلاتے ہیں کہ اگر زندہ رہنا ہے تو قرآن کو اپنا مقصد حیات اور اپنا اوڑھنا بچھونا بناؤ۔

گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن

عصر حاضر کے مسلمانوں کو اگر ایک بار پھر باوقار خودمختار اور الہی قوت بن کر ابھر نا ہے تو رجوع الی القرآن بہت ضروری ہے یہی واحد راستہ ہے جو امت مسلمہ کو اپنے وجود پر کھڑا کر سکتا ہے کیونکہ قرآن ایک شعور ہے جو انسان کو لاشعوری سے نکال کر باشعور اور باصلاحیت بنا دیتا ہے۔

تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف

علامہ اقبال نے مغربی نظام تعلیم کو کھنگالا اور مغربی فلسفے کی تہہ تک پہنچے اور پھر قرآن کریم کی طویل غور و خوض کے بعد اس نتیجے تک پہنچ گئے تھے کہ حقیقت صرف قرآن مجید ہے اور وہ تمام علوم کا سرچشمہ ہے انہوں نے علم کی ہر شاخ کو قرآن پاک کی کسوٹی پر پرکھا اور پھر یہ فیصلہ کیا کہ قرآن انسانیت کی روح اور زندہ قوموں کے لیے مشعل راہ ہے وہ مانتے تھے کہ علم کی پیاس کی آسودگی صرف کتاب اللہ سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
میرے جرم خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں

ان کے تمام تصورات یا تو قرآن مجید سے حاصل کیے گئے ہیں یا ان پر قرآن مجید کے اثرات پائے جاتے ہیں علامہ اقبال ایک روز کہنے لگے فلسفہ ہو یا سائنس زندگی ہو یا اس کے مسائل کوئی عقدہ حل نہیں ہوتا تو قرآن مجید کی طرف رجوع کرتا ہوں اس عہد نے جسے سائنس کا عہد کہا جاتا ہے مذہب کے بارے میں بڑی بدگمانیاں پیدا کردی ہے بلکہ اس کے خلاف ایک معاندانہ روش اختیار کر رکھی ہے یہ اس لیے کہ لوگ علم و حکمت کی صحیح روح سے نا واقف ہے اور قرآن مجید کی تعلیمات سے محروم ہیں مگر یہ حقیقت بھی منکشف ہو گئی جب ہم قرآن مجید کی آیات بیانات پر تدبر و تفکر سے کام لیں گے یہ بدگمانی اور کشمکش ختم ہو جائے گی لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں نے قرآن کو وظائف کی کتاب تک محدود کر دیا ہے حالانکہ اس کا بنیادی مقصد زندہ انسانوں کے مسائل حل کرنا ہے علامہ اقبال کا اس بات پر کامل ایمان تھا کہ تمام مسائل چاہے وہ سماجی ہوں اقتصادی ہوں سیاسی ہوں یا سائنسی اور فلسفیانہ ہوں انکا حل قرآن کریم میں موجود ہے اسی لئے ان کی شاعری کا اکثر حصہ قرآن سے ماخوذ ہے, مثلاً

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تاریک قرآن ہو کر

اس شعر کا پہلا مصرع سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 139 وأنتم الأعلون ان کنتم مؤمنین سے ماخوذ ہے اس آیت کا ترجمہ: اور تم ہی سر بلند رہوگے اگر تم مومن ہو
اور دوسرا مصرع سورہ فرقان کی آیت نمبر 30
وقال الرسول یا ربی ان قومی التخذوا ھذا القرآن مہجورا سے ماخوذ ہے
اس آیت کا ترجمہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تاریکین قرآن کے سلسلے میں اپنے رب کے سامنے خود گواہی دیں گے اے میرے رب میری قوم نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔
سورہ احزاب کی آیت نمبر دو میں یہ کہا گیا ہم نے یہ امانت آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں پر پیش کی لیکن ان سب نے اٹھانے سے انکار کر دیا اور وہ اس سے خوفزدہ ہوئے اور انسان نے اسے اپنے ذمے لے لیا بے شک وہ بڑا ظالم اور بڑا جاھل ہے اسکی طرف تلمیح اقبال کے اشعار شکوہ میں ملتی ہے

میرے بگڑے ہوئے کاموں کو بنایا تو نے
بار جو مجھ سے نہ اٹھا وہ اٹھایا تو نے
سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں
ہائے کیا اچھی کہی ظالم ہوں میں جاہل ہوں میں

عظمت آدم سے متعلق قرآنی آیت
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِىٓ اٰدَمَ وَحَـمَلْنَاهُـمْ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُـمْ مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُـمْ عَلٰى كَثِيْـرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا (70)
اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے اور خشکی اور دریا میں اسے سوار کیا اور ہم نے انہیں صاف ستھری چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں فضیلت عطا کی اس حوالے سے اقبال کہتے ہیں

جائے حیرت ہے برا سارے زمانے کا ہوں میں
مجھ کو یہ خلعت شرافت کا عطا کیونکر ہوا

قرآن مجید میں آدم و ابلیس کا واقعہ بہت سے مقامات پر مذکور ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ابلیس نے آدم کو بہکا کر جنت کا ممنوعہ پھل کھانے پر تیار کر لیا اس طرح وہ ان کے جنت سے نکالے جانے کا سبب بنا اس کی طرف اشارہ علامہ اقبال کے اس شعر میں ملتا ہے

شجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کو

اقبال نے قرآن مجید میں پیغمبروں کے ذکر کو بھی جا بجا موضوع بنایا ہے مثلا نمرود کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالے جانے کے حوالے سے اقبال کا یہ شہر زبان زد عام ہے

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

یہ قرآن کریم کی آیت قلنا یٰنارکونی بردا وسلاما علی ابراہیم سے ماخوذ ہے
حضرت موسی علیہ السلام کو ید بیضا کا معجزہ دیا گیا تھا اس کو موضوع سخن بناتے ہوئے اقبال کہتے ہیں

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی, ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

قرآن میں ہے حضرت موسی علیہ السلام نے ایک مرتبہ اللہ تعالی سے خواہش کی کہ میرے پروردگار مجھے اپنا جلوہ دکھا کہ میں تجھے ایک نظر دیکھ لو اللہ تعالی نے فرمایا اللہ لن ترانی , تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے اس کے حوالے سے علامہ اقبال نے اشعار کہے ہیں

ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا
وہی لن ترا سنا چاہتا ہوں
کچھ دکھانے دیکھنے کا تھا تقاضا طور پر
کیا خبر ہے تجھ کو اے دل فیصلا کیونکر ہوا
کبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچا
چھپایا نور ازل زیر آستیں میں نے

اسی طرح نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کا ذکر سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں آیا ہے اس کے حوالے سے اقبال صاحب نے کہا ہے

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہیں گردوں

اقبال کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن کی تلاوت کو ثواب تک محدود کر دیا انہوں نے قرآن پڑھا مگر اس کی تعلیمات اور اس کے احکام پر عمل کرنے کے بجائے ان کو اپنی خواہشات کے تابع کر دیا

خود نہیں بدلتے قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق

علامہ اقبال نے یہ تصور سورہ فرقان کی آیت نمبر 43 سے اخذ کیا ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے
افرايت من اتخذ الهه هواه افانت تكون عليه وكيلا
کیا تم نے اُسے دیکھا جس نے اپنے جی کی خواہش کو اپنا خدا بنالیا تو کیا تم اس کی نگہبانی کا ذمہ لو گے۔

دوسری جگہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے
واتخذوا من دون الله الهه لا يخلقون شيئا وهم يخلقون ولا يملكون لانفسهم ضرا ولا نفعا ولا يملكون موتا ولا حياه ولا نشورا
اور لوگوں نے اس کے سوا اَور خدا ٹھہرالیے کہ وہ کچھ نہیں بناتے اور خود پیدا کیے گئے ہیں اور خود اپنی جانوں کے برے بھلے کے مالک نہیں اور نہ مرنے کا اختیار نہ جینے کا نہ اُٹھنے کا

انہوں نے اپنے کلام کے تقریبا تین چوتھائی حصے میں قرآن کی تعلیمات اور اسلامی تاریخ کی ترجمانی کی ہے اس کا بنیادی مقصد مسلم دنیا کو قرون اولیٰ کی یاد تازہ کرانا ہے تاکہ وہ قرآن کے مقاصد کو سمجھ کر اپنے اندر حرکت پیدا کریں اور تاریخ سے سبق حاصل کریں علامہ اقبال کے مطابق قرآن کریم سے دوری, بے حسی اور بے رغبتی اصل میں مسلمانوں کے زوال اور ذلت و خواری کا سبب ہے اس لئے وہ قرآنی لفظ مہجورا کا استعمال کرتے ہیں:

خور از مہجوری قرآن شدی
شکوہ سنج گردش دوراں شدی

آہ اے مرد مسلماں کیا تجھے یاد نہیں
حرف لا تدع مع اللہ الہا اخر

خلاصہ یہ کہ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں قرآن حکیم کا ذکر بار بار مختلف اسالیب میں کیا ہے ان کے نمایاں افکار و تصورات یعنی فلسفہ خودی , تصور بے خودی مرد کامل فقر , تصوف وغیرہ اصلاً قرآن کی تعلیمات کی بنیاد پر ہی تشکیل پذیر ہوئے ہیں انہوں نے آیت کے معنی اور مفاہیم کو بہت خوبصورتی سے اپنی شاعری میں سمویا ہے اور ان کے ذریعے امت مسلمہ کو عزت و عظمت اور اقبال اور سربلندی کا پیغام دیا ہے

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے