وقت کی قدر و قیمت: وقت کی اہم ضرورت

از قلم: محمد ریحان ورنگلی
متعلم:ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد

وقت گزرتے ہوۓ لمحات کا ایک دریا ہے اس کا بہاؤ تیز اور زبردست ہے جیسے ہی کوئ چیز اس کی زد میں آجاتی ہے اس کی لہریں اسے بہالے جاتی ہیں پہر دوسری چیز اس کی جگہ لے لیتی ہے لیکن وہ بھی اسی طرح بہہ جاتی ہے ،
صوفیاۓ کرام فرماتے ہیں: الوَقْتُ سَیْفٌ قاطِعٌ (وقت کاٹنے والی تلوار ہے) انبیاء کرام نصیحت فرماتے ہیں کہ وقت کے بارے میں ہوشیار رہو ، وقت کو برباد نہ کرو ، وقت کو غیر مفید باتوں میں صرف نہ کرو ، ہر ایک گھڑی کا لمحہ لمحہ کا تمہیں حساب دینا پڑے گا اسی لے وقت کو برباد نہ کرو ، تاریخ بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے ، صدیوں کا تجربہ بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے ، کہ دنیا میں جس قدر کامیاب و کامران ہستیاں گزری ہیں ان کی کامیابی کا راز صرف وقت کی قدر اور اس کا صحیح استعمال ہے ،
ایک مثال مشہور ہے ؛ الوَقْتُ اثمن مِن الذھبٍ (وقت سونے سے زیادہ قیمتی ہے) اسی طرح الوَقْتُ ھو الحیاة (وقت ہی زندگی ہے)
اس عالم فانی میں انسان کی زندگی کتنے عرصہ تک کی ہے ؟ اس کی پیدائش اور موت کے درمیان ایک معمولی سا وقت ہے سونا تو آنے جانے والی چیز ہے لیکن وقت ایک ایسی چیز ہے جو ایک مرتبہ گزر جاۓ تو دوبارہ واپس نہیں آسکتا آپ ذرا سونچیے کہ کیا وقت سونے سے زیادہ قیمتی نہیں ہے ؟ کیا وقت ہر چیز سے زیادہ قیمتی نہیں ہے؟

وقت کو کام میں لائیں

یہ بات سچ ہے کہ جن لوگ وقت کی قدر کی وہ وقت کے بڑے بزرگان دین اور اولیاء کرام بن گئے اور دین و دنیا کے مالک بن گیے ، اس کے بر خلاف ننگے ، بھوکے، فاقہ کش جو تم دنیا میں دیکھ رہے ہو یہ سب وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنا بچپن کا وقت رائیگاں کردیا ، فضول کاموں میں سے روزانہ ایک دو گھنٹے بچا کر معمولی آدمی بھی سائنس کو پوری طرح قابو میں رکھ سکتا ہے، دن میں ایک گھنٹہ بچاکر جاہل سے جاہل آدمی بھی دس سال کی مدت میں ایک باخبر عالم بن سکتا ہے،ایک معمولی صلاحیت کا بچہ خوب اچھی طرح سمجھ کر ایک کتاب کے بڑے بیس صفحے کا روزانہ مطالعہ کرے گا تو اس حساب سے سال میں سات ہزار صفحے پڑھ سکتا ہے ، غرض ایک گھنٹہ کی بدولت جوانی کی زندگی ، کارآمد اور مسرت بھری زندگی میں بدل سکتی ہے _

وقت کی قدر اہم علم کی نظر میں

علامہ ابن الجوزیؒ وقت کی قدر وقیمت کے متعلق لکھتے ہیں : کہ وقت کو ضائع کرنے سے بچایا جاسکتا ہے جب کہ اس کی اہمیت کا احساس ہو ہر انسان کو چاہے کہ اپنا نظام الاوقات بناۓ ہمارے اسلاف وقت کے بڑے قدرداں تھے، مشہور تابعی عامر بن عبد القیس کے بارے میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے آپ سے کوئ بات کرنی چاہی تو آپ نے فرمایا : کہ سورج کی گردش روک دو میں تمہارے لے وقت نکالوں گا

ضیاع وقت ۔۔۔ خود کشی!

سچ بات یہ ہے کہ وقت کا ضائع کرنا ایک طرح کی خود کشی ہے ، فرق صرف اتنا ہے کہ خود کشی انسان کو ہمیشہ کیلے مردہ بنادیتی ہے اور ضیاع وقت ایک محدود زمانہ تک زندہ کو مردہ بنادیتا ہے ، یہی منٹ ، گھنٹے، دن جو بیکار گزر رہے ہیں اگر ان کا حساب لگایا جاۓ تو مہینوں نہیں بلکہ برسوں ضیاع وقت میں گزر چکے ہیں اگر چہ وقت کا کھونا عمر کا کم کرنا ہے لیکن اگر یہی نقصان ہوتا تو کچھ غم نہ تھا لیکن بہت بڑا نقصان ضیاع وقت اور بیکار رہنے کا یہ ہے کہ جو انسان بیکار رہتا ہے اس کے خیالات ناپاک ہوجاتے ہیں اور طرح طرح کے جسمانی و روحانی عوارض میں مبتلا ہوتا ہے حرص،طمع ظلم و ستم ، قمار بازی ، شراب نوشی ، زنا کاری ، یہ وہی لوگ کرتے ہیں جو بیکار رہتے ہیں جب تک انسان کی طبیعت اور دل و دماغ نیک کاموں میں مشغول نہ ہونگے اس کا میلان ضرور بدی اور معصیت کی طرف بھڑکے گا ، پس انسان اسی وقت صحیح انسان بن سکتا ہے جب کہ وہ اپنے وقت کی حفاظت کرے اور ہر کام کیلے ایک وقت اور ہر وقت کیلے ایک کام مقرر کرلے _

وقت بچانے کے چند اہم اصول

وقت انسان کا بہترین سرمایہ ہے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ انسان جتنی بےدردی ، لاپرواہی اور بےفکری سے وقت ضائع کرتا ہے اتنی بے دردی اور غفلت کے ساتھ اپنی ملکیت کی کسی چیز کو بیکار جانے نہیں دیتا ، وقت کو صحیح استعمال کرنے اور اس کو ضیاع سے بچانے ، اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے سلسلہ میں کچھ تدابیر اور کچھ اصول پیش خدمت ہیں :
(1) نظام الاوقات : شب و روز کے اوقات کے لیے ایک نظام العمل متعین کرنے ، آنے والے وقت کےلیے ایک مخصوص پروگرام بنانے اور زندگی کے تمام اوقات کےلیے کاموں کی ترتیب اور تشکیل دینے کو نظام الاوقات کہا جاتا ہے ، ہر انسان کے ذمہ مختلف کاموں اور مختلف امور کی ادائیگی ہوتی ہے ان کاموں کی ادائیگی کیلے سہل اور بہترین صورت یہی ہے کہ انسان پہلے سے نظام العمل تشکیل دے اور اس پر عمل پیرا ہو _
(2) صحت: انسانی جسم کی صحت اللہﷻ کی ایک عظیم نعمت ہے ، ذہن و دماغ کی صحت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب جسم صحت کی نعمت سے مالا مال ہو، اور وقت کی رفتار سے فائدہ اسی وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب صحت ساتھ ہو _
(3) احتساب: کیا کھویا اور کیا پایا؟ کتنا فائدہ ہوا کتنا نقصان ہوا ؟ ہر انسان کو رات میں سونے سے پہلے اپنا حساب لینا چاہے کہ میں نے آج کیا کیا ؟ وقت کو کتنا کام میں لایا اور کتنا ضائع کیا ؟ اگر انسان روزانہ احتساب کرتا رہے گا تو وقت کے ضیاع سے اسے افسوس ہونے لگے گا ، الغرض وقت وہ سرمایہ ہے جو ہر شخص کو قدرت کی طرف سے یکساں عطا ہوا ہے ہمیں چاہے کہ وقت کا صحیح استعمال کریں اور وقت کو ضائع کرنے سے بچائیں،

اللہ تعالی ہم سب کو وقت کا صحیح استعمال کرنے اور ضیاع وقت سے بچنے کی توفیق عطا فرماۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے