گر لب پاک سے اقرار شفاعت ہوجائے

رشحات قلم:عبدالمبین فیضی
 خواب میں جس کو! شہ دیں کی زیارت ہوجاۓ
ایسے خوش بخت کی معراج عبادت ہوجاۓ
جنتی ہونے کی! اس کے لئے حجت ہوجاۓ
جس کو بھی روضہ آقا کی زیارت ہوجاۓ
مجھ سا بدبخت بھی پھر داخل جنت ہوجاۓ
"گر لب پاک سے اقرار شفاعت ہوجاۓ”
وہ نہیں ہوتے ہیں منت کش جامِ بادہ
چشم ساقی سے جنہیں پینے کی عادت ہوجاۓ
جالیاں ان کی پکڑ کر مَیں پڑھوں نعت کبھی
قلب کی میرے! خدا پوری یہ حسرت ہوجاۓ
جو مجھے دیکھے کہے آپ کا شیدا! آقا
اس قدر آپ کی حاصل مجھے الفت ہوجاۓ
مثلِ مہتاب درخشندہ ہو مرقد میری
اُس میں گر آمدِ خورشید رسالت ہوجاۓ
ہے یہی آرزو مدت سے مرے سینے میں
کاش اک بار مجھے آپ کی رؤیت ہوجاۓ
یا نبی مجھکو بھی اک بار بلا لو طیبہ
ضوفشاں میری بھی سوئی ہوئی قسمت ہوجاۓ
مثل مہتاب! دوپارہ ہو فلک بھی فیضؔی
اب بھی مرقد سے اگر ان کی اشارت ہوجاۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے