عرفے کے نیاز کی شرعی حیثیت

تحریر:ظفر نوری ازہری
ایڈیٹر: ماہ نامہ الحجاز(ہندی) گوالیار
شب برات سے ایک دن پہلے١٣ شعبان المعظم کو عرفے کی نیاز دلائی جاتی ہے اور اس نیاز میں الگ الگ جگہ کے حساب سے الگ الگ رواج ہے کہیں تبرک میں سات طریقے کےکھانے پکائے جاتے ہیں اور کہیں وہ کھانے پکائے جاتے ہیں جو مرحوم کو پسند تھے اور یہ بھی کہا جاتاہے کہ عرفے کے دن روحیں اپنےمتعلقین سے ملنے آتی ہیں عرفے سے پہلے روحیں بھٹکتی رہتی ہیں عرفے کی نیاز کے بعد متعلقین روحیں مرحوم کی روح کو عالم برزخ میں لیجاتی ہیں وغیرہ وغیرہ
     ان تمام باتوں کی شریعت مطہرہ میں کوئی اصل نہیں ہیں اور عرفے کی نیاز کے حوالے سے یہ تمام باتیں لوگوں کی اپنی بنائی ہوئی ہیں البتہ ۹ویں ذوالحجہ کے دن کو یوم عرفہ کہاجاتاہے جس دن تمام حجاج کرام میدان عرفات میں رہتے ہیں اور حجاج کرام کے علاوہ لوگ اس دن روزہ رکھتے ہیں جس کی احادیث میں بہت فضیلت آئی ہے
    لیکن ١٣ شعبان المعظم والا عرفہ لوگوں کا بنایا ہوا ہے اور اسکی  نیاز کے لوازمات ہی بھی لوگوں کے بنائے ہوئے ہیں اس سلسلے میں صحیح یہ ہے کہ عرفے کی نیاز ہو یا اور کوئی نیاز جو تبرک آسانی سے میسر ہو جائے کافی ہے  اور اگر تبرک نا بھی ہو تو بھی نیاز ہوجائےگی۔
 روحوں کا بھٹکنا اور اور عرفے کے بعد روحوں کا عالم برزخ میں لیجانا یہ بھی بے بنیاد باتیں ہیں امام جلال الدین  سیوطی اپنی کتاب شرح الصدور میں  فرماتے ہیں: انتقال کے بعد مؤمنین کی روحیں ”رِمیائیل“ نامی فرشتے کےحوالےکی جاتی ہیں، وہ مؤمنین کی روحوں کے خازِن ہیں۔ جبکہ کفّار کی روحوں پر مقرر فرشتے کا نام”دَومہ“ہے۔(شرح الصدور، ص237) 
اور ایک حدیث میں نبیّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مؤمنین کی اَرواح سبز پرندوں میں ہوتی ہیں، جنّت میں جہاں چاہیں سیر کرتی ہیں۔ عرض کیا گیا کہ اور کافروں کی روحیں؟ ارشاد فرمایا: سِجّین میں قید ہوتی ہیں۔(اھوال القبور لابن رجب ، ص182)
رہی بات نیاز فاتحہ اور ایصال ثواب کی تو ایصال ثواب قرآن حدیث سے ثابت وہ ہم کبھی بھی  کراسکتے ہیں۔
ہم ہر نماز میں اپنے لیے اور اپنے والدین کے لیے اور تمام مومنین کے لیے دعا کرتے ہیں اس دعا سے بھی مرحومین کو فائدہ پہونچتاہے جیسا کہ قرآن شریف میں ہے کہ "رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ (سورہ ابراہیم ایت 41) اور حدیث شریف میں ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا:ہم اپنے مُردوں کے لئے دُعا کرتے ہیں  اور اُن کی طرف سے صَدَقہ اور حج کرتے ہیں کیا اُنہیں اِس کا ثَواب پہنچتا ہے؟سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اِنَّهٗ لَيَصِلُ اِلَيۡهِمۡ وَيَفۡرَحُوۡنَ بِهٖ كَمَا يَفۡرَحُ اَحَدُكُمۡ بِالۡهَدِيَّةِ اُنہیں اِس کا ثَواب پہنچتا ہے اور وہ اِس سےایسے ہی خوش ہوتے ہیں جیسے تم میں سے کوئی شخص تحفے سے خوش ہوتا ہے۔(عمدۃ القاری،ج6)
    یہ بھی واضح رہے کہ ایصالِ ثواب کے لیے یہ شرط نہیں کہ جسے ایصالِ ثواب کیا جا رہا ہے کہ وہ انتقال کرچکاہو بلکہ زندوں کو بھی ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے۔(شامی:جلد١)عرفے کے دن نیاز فاتحہ ایصال ثواب کرسکتے ہیں اس کے ساتھ باقی چیزیں صحیح نہیں ہیں  مولی ہم پر رحم فرمائے اور اپنا فضلِ خاص فرمائے اور  ہمیں دین سیکھنے اور سکھانے توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے