میڈیا وائرس کی تباہ کاریاں اور علاج

تحریر:غلام مصطفی نعیمی
مدیراعلیٰ: سواد اعظم، دہلی
گودی میڈیا کی مسلم دشمنی اب محتاج  دلیل نہیں رہ گئی ہے. الیکٹرانک میڈیا سے پرنٹ میڈیا تک کھل کر مسلم دشمنی کا ایجنڈا چلایا جارہا ہے.کانگریسی حکومتوں میں قدرے تکلف تھا لیکن گذشتہ دو پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کی لگاتار کامیابی کے بعد زیادہ تر میڈیا ہاؤسز اور اینکرز نے وہ تکلف بھی بالائے طاق رکھ دیا. اب تو ڈنکے کی چوٹ پر بغیر رائی پہاڑ اور بغیر دھویں کے آگ لگانے کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔
کورونا جیسی مہلک بیماری پر میڈیا کو حکومتی اقدامات ، حفاظتی انتظام اور ارباب اقتدار کی لاپرواہی پر سوال اٹھانے چاہیے تھے. لیکن ہفتوں تک میڈیا ہاؤسز میں مرگھٹ سا سناٹا چھایا ہوا تھا.لیکن تبلیغی جماعت کا قضیہ سامنے آتے ہی گودی میڈیا کے تن مردہ میں جان پڑ گئی.ایک ساتھ کئی نیوز چینلوں نے تبلیغی جماعت کے نام پر مسلمانان ہند پر ہلّہ بول دیا. تبلیغی جماعت پر ڈبیٹ شوز اور بریکنگ نیوز شروع ہوگئی.اس کے بعد شرپسندوں کے آئی ٹی سیل نے اپنا کام شروع کیا. ملک و بیرون ملک کے سالوں پرانے ویڈیوز نکال کر انہیں مسلمانوں سے منسوب کرکے اکثریتی طبقے کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے کی پوری کوشش کی گئی کہ مسلمان سازشاً کورونا وائرس پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں. اس شرانگیزی کی وجہ سے ملک کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملے شروع ہوگئے ہیں. اکثریتی طبقے میں مسلم منافرت کا جذبہ کس قدر بھر گیا ہے اس کا اندازہ ان مثالوں سے لگائیں
1-سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے دلّی کے شاستری نگر کے ایک ویڈیو میں ایک سبزی فروش کو اس لیے نکال دیا گیا کہ وہ مسلمان تھا.ویڈیو بنانے والا کہتا ہے کہ جتنے بھی سبزی فروش ہیں ان کا آدھار کارڈ چیک کرو اگر مسلمان نکلے تو اسے فوراً بھگا دو یہ لوگ وائرس پھیلا رہے ہیں۔
2- اتراکھنڈ کے ہلدوانی شہر میں رامپور روڈ پر جاوید پھلوں کی دکان لگاتا ہے. دو دن پہلے آدھا درجن کے قریب شرپسند پہنچے اور کورونا پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے دکان بند کرا دی.پڑوسی دکاندار غیر مسلم تھا ،اس نے غنڈوں سے ڈرتے ڈرتے پوچھا کیا میں بھی دکان بند کردوں؟شرپسندوں نے کہا کہ تم دکان کھولے رہو،

مسلمانوں کی وجہ سے کورونا پھیل رہا ہے. ہمارا نمبر نوٹ کرلو اگر کوئی مسلمان دکان کھولے تو ہمیں خبر دینا۔

3- 6اپریل کو کرناٹک کے باگل کوٹ ضلع کے بدری گاؤں میں چار ماہی گیر کرشنا ندی میں مچھلی پکڑنے آئے تھے.اچانک ہی گاؤں والوں نے انہیں گھیر لیا. ہندو ماہی گیروں کو تو چھوڑ دیا لیکن مسلموں پر کورونا پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے زدوکوب کرنا شروع کردیا.وہ لوگ گڑگڑاتے رہے مگر ہجوم پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
4- اسی دن کرناٹک کے امروتاہلّی میں یوگیندر یادو کے *”سوراج انڈیا”* سے وابستہ زرین تاج نامی سوشل ورکر اپنے بیٹے تبریز کے ساتھ ایک بستی میں لاک ڈاؤن متاثرین میں راشن تقسیم کر رہی تھیں. اچانک ہی 20/25 غنڈے وہاں پہنچے اور وائرس پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندوؤں کو کھانا مت بانٹو اپنے لوگوں میں بانٹو ، تمہیں لوگوں سے کورونا پھیل رہا ہے. تبریز نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے ان سے بحث نہیں کی اور دوسری بستی میں چلے گئے. لیکن شریروں کی ٹولی نے وہاں بھی پیچھا نہیں چھوڑا اور حملہ کردیا. اس حملے میں تبریز کے سر اور ہاتھ پر 6 ٹانکے آئے ہیں۔
 5- 4،اپریل کو رامپور کے قصبہ دڑھیال میں پنجاب اینڈ سندھ بینک سے پیسہ نکالنے والوں کی بھیڑ لگی تھی. اچانک ہی کچھ پولیس والے وہاں پہنچے اور لائن میں لگے ہوئے ایک مشرع مسلمان کو تبلیغی کہہ کر نکالا گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ تمہاری وجہ سے کورونا پھیل رہا ہے یہ کہہ کر سر عام خوب پیٹا۔
 6- یوپی کے ایک مشہور ہندی روزنامہ نے فیروزآباد میں 6 جماعتی افراد کے کورونا پوزیٹو ہونے کی جھوٹی خبر چھاپی بعد میں ضلع پولیس نے اس خبر کی تردید کی۔
7- ملک کی معروف نیوز ایجنسی ANI نے نوئڈا میں قرنطینہ کیے گیے جماعتی افراد کے خلاف فرضی خبر چلائی. بعد میں نوئڈا کے ڈی سی پی (DCP) اپنے ٹیوٹر ہینڈل سے ANI کو ٹیگ کرکے لکھا کہ آپ نے غلط اور فرضی خبر چلائی ہے. تب جاکر اے این آئی نے وہ خبر ڈلیٹ کی۔
8- بدنام زمانہ زی نیوز چینل نے ہماچل پردیش میں 11 جماعتی افراد کے کورونا پوزیٹو ہونے کی خبر چلائی حالانکہ پورے صوبے میں محض ایک ہی کورونا متاثر ہے. بعد میں جب افسران نے اس جھوٹی خبر کی تردید کی تب جاکر چینل نے معافی مانگی۔
9- رامپور کے قصبہ ٹانڈہ میں 15 جماعتی تبلیغی مرکز دہلی گئے تھے جس کی وجہ سے انہیں CHC میں قرنطینہ کیا گیا. ان لوگوں کے کھانے پینے کی ذمہ داری مقامی افراد نے لے رکھی ہے لیکن اس کے بعد بھی ایک ہندی روزنامے یہ جھوٹی خبر شائع کی، کہ جماعتی مرغ اور بریانی مانگ رہے ہیں۔
یہ مثالیں صرف نمونہ بھر ہیں ورنہ ہر علاقے سے خبریں جمع کی جائیں تو سیکڑوں مثا

لیں مل جائیں گی

میڈیائی وائرس سے بچاؤ کا سب سے کارگر علاج انصاف پسند میڈیا ہاؤس کا قیام ہے.لیکن ہماری اہلیت کا یہ عالم ہے کہ اس وقت پورے ملک میں ہمارے پاس ملکی سطح کا ایک معیاری اردو/ ہندی اخبار تک نہیں ہے. ایسے صورت میں الیکٹرانک میڈیا ہاؤس کا قیام مسلمانوں کے لیے دور کی کوڑی ہے. اس لیے دیگر متبادل اختیار کرنے کی ضرورت ہے.اس سلسلے میں دو راستے اختیار کئے جائیں
-شرانگیزی کرنے والے چینل اور اَخبارات کا بائکاٹ
خبروں کے متبادل پلیٹ فارم کا استعمال۔
اس سلسلے میں چند نکات درج ذیل ہیں
سب سے پہلے ایسے چینلوں کا بائکاٹ کریں جو ملکی مسائل کے بجائے ہندو مسلم ایجنڈا اور مسلم کمیونٹی کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں. مسلمانوں کی بڑی تعداد ایسے چینل اور اینکرز سے شکایت کے باوجود ان کے شوز دیکھتی ہے جس سے انہیں TRP ملتی ہے. ٹی آر پی ہی کسی چینل کی مالی کامیابی کا اہم ذریعہ ہے۔
چینلوں کی طرح فرضی اور مسلم دشمنی پر مشتمل خبریں چھاپنے والے ہندی اخبارات کا بائکاٹ بھی بے حد ضروری ہے.اخبارات کے بائکاٹ پر یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ پھر لوگ خبریں کس طرح پڑھیں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ موجودہ وقت میں انٹرنیٹ کی فراہمی نے خبروں کی ترسیل کے درجنوں نئے پلیٹ فارم پیدا کر دئے ہیں. لوگ انٹرنیٹ پر موجود مختلف نیوز پورٹل پر اپنے شہر سے ملک وبیرون ملک تک کی خبریں پڑھ سکتے ہیں۔
جھوٹی خبریں چھاپنے والے ہندی اخبارات کی جگہ اردو اخبارات کو بڑھاوا دیں. یہ سوال بے معنی ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد اردو سے نابلد ہے تو اردو اَخبار پڑھے گی کیسے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ مشاہدہ میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ہندی سے نابلد ہونے کے باوجود لگاتار پڑھتے رہنے کی وجہ سے ہندی اخبارات روانی سے پڑھتے ہیں. انگریزی سے ناآشنا ہونے کے بعد محض موبائل کے کثرت استعمال سے انگریزی الفاظ سمجھ لیتے ہیں تو جو کوشش ہندی انگریزی کے لیے ہوسکتی ہے وہ اردو کے لیے کیوں نہیں ہوسکتی. سب سے اہم بات یہ کہ جب بات اپنے وجود کی آجائے تو اپنی زبان سیکھنے میں کیسی جھجھک؟
یوٹیوب پر کئی معتدل مزاج صحافی نیوز چینل اور پورٹل چلاتے ہیں. جیسے "نیوز کِلِک( News Cilic ) "دھاکڑ خبر” (Dhakad khabar) "دی وایر” (the wire ) "نیوز میکس” (News mx) "دی لائو ٹی وی” (The Live TV) "نیشنل دستک” (Netinonl Dustak) ایسے میں ان یوٹیوب چینل پر خبریں دیکھ سکتے ہیں۔
جو چینل فرضی خبریں اور مسلم منافرت پھیلاتے ہیں ان کے خلاف آنلائن رپورٹ بھی کریں تاکہ انہیں تگڑی نصیحت لگے. اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پلے اسٹور (play store ) میں جاکر ان کے اپیس (Apps) کی شکایت درج کرائیں. اس کے لئے آپ پلے اسٹور ایسے تمام چینلز کے ایپ پر جاکر رائٹ سائڈ میں دکھنے والے تین ڈاٹس پر کلک کریں، آپشن میں فلیگ(flag) پر ٹچ کریں اگلے ٹیب میں ہیٹ فل(Hateful ) پر کلک کریں، بس گوگل تک آپ کی شکایت پہنچ گئی. اگر بڑی تعداد میں یہ شکایتیں درج ہوجاتی ہیں تو گوگل ایسے چینل کے ایپ پلے اسٹور سے ہٹا سکتا ہے۔
یوٹیوب/فیس بک پر بھی ایسے چینلوں/پیجز کو رپورٹ کریں جس سے یوٹیوب/فیس بک ان کے خلاف کاروائی پر مجبور ہوجائے. کیوں کہ یہ سوشل سائٹس اپنے پلیٹ فارم سے ایسے مواد کی تشہیر کی اجازت نہیں دیتیں جو کسی بھی طرح کی نفرت وتعصب کو بڑھاوا دیتی ہو۔
فرضی اور نفرت انگریز رپورٹنگ کرنے والے اخبارات کے خلاف ذمہ دار شہری اور وکلا حضرات مقامی تھانوں میں ایف آئی آر درج کرائیں جو نامہ نگار ایسی رپورٹنگ کریں ان کے خلاف ہتک عزت (मानहानि) کا مقدمہ کریں تاکہ وہ لوگ آئندہ نفرت پھیلانے سے پہلے سو بار سوچیں
اس کے علاوہ جو بھی مفید اور کارگر علاج ہو اس کو بروئے کار لایا جائے. میڈیا کی دہشت گردی  حدوں کو پار کر گئی ہے اس لئے محض زبانی غم وغصے کی بجائے عملی علاج کیا جائے تاکہ یہ میڈیا کی بیماری دور ہوسکے اور مظلوم طبقات امن وچین کے ساتھ عزت دارانہ زندگی بسر کرسکیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے