کہانی ایک مظلوم ڈاکٹر کی

تحریر: معین الدین رضوی
یہ واقعہ ہے ١٠ اگست ٢٠١٧ کا جب ہندوستان میں یوم آزادی کی تیاری زوروں پر تھی آزاد فضا میں سانس لینے کا یاد گار دن قریب آرہا تھا   انگریزوں کے جابرانہ نظام حکومت کے خاتمے کے ٧٠ سال پورے ہونے والے تھے لیکن اتنی طویل مدت میں بھی ہم کرپٹ سیاستداں اور بے ایمان حکومتی عملہ کے چنگل سے شاید اپنے آپ کو آذاد نہ کر سکے
١٠ اگست ٢٠١٧ جب کہ سورج اپنی تمام تر تجلیات  سمیٹ کر تاریکیوں کی دبیز چادر میں روپوش ہو چکا تھا سارا شہر تقریبا نیند کی آغوش میں پناہ لے چکا تھا  رات گیارہ بجے گورکھپور کے بی آر ڈی ہسپتال کی وسیع اور بلندو بالا عمارتیں چیخ و پکار سے گونج اٹھیں ہر لمحہ ایک معصوم بچہ کرپٹ نظام حکومت کی نذر چڑھ رہاتھا دیکھتے ہی دیکھتے ٦٤ ماؤں کے گوہر مراد سے بھرے آنچل کھالی ہو گئے لیکن ایسے وقت میں بھی ایک ڈاکٹر دیوانوں کی طرح بھاگ دوڑ کر رہا تھا اپنے جیب خاص سے آکسیجن خرید کر سیکڑوں معصوموں کی جان بچانے کی انتھک کوشش کررہا تھا ساری رات وہ بچوں کی جان بچانے کی فکر میں تھا اور اپنی اس کوشش میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوگیا سیکڑوں بچوں کی جان بچالی کتنے گھروں کے چراغ بجھنے سے بچالیا پل بھر میں وہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر مسیحا کے طور پر چھا گیا
لیکن یہ بات اترپردیش کے مکھیا کٹر ہندووادی یوگی ادتیہ ناتھ کو کیسے ہضم ہو جاتی کہ ایک اردو نام والا لوگوں کا ہیرو بن جائے
دوسرے دن جب وزیر اعلیٰ نے اس ہسپتال کا دورہ کیا تو سب سے پہلے جس پر گاج گری  وہ ہیں ڈاکٹر کفیل خان!! یوگی جی کہتے ہیں کیا تمہارا ہی نام کفیل ہے؟ تمہیں کیا لگتا ہے میڈیا پر ہیرو بن جانے سے تم بچ جاؤ گے میں دیکھتا ہوں تمہیں!! کیوں کہ یوگی جی کو لگ رہا تھا ڈاکٹر کفیل ہی کی وجہ سے یہ معاملہ میڈیا میں آکر  جگ ہنسائی کا باعث بنا تھا 
کچھ ہی دنوں بعد ڈاکٹر کفیل کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا حسب روایت جانچ کمیٹی بٹھائ گئ جس نے اپنی رپورٹ میں ڈاکٹر کفیل کو پوری طرح بری کردیا  لیکن ہندوستانی نظام کے تحت کلین چٹ ملتے ملتے ڈاکٹر کفیل ٨ مہینے کا وسیع عرصہ جیل میں کاٹ چکے تھے لیکن ایک بار پھر سوال وہیں کا وہیں رہ گیا جب ڈاکٹر کفیل مجرم نہیں تھے تو پھر کون تھا؟ اتنے بچوں کی موت کی ذمہ داری کس کے سر ہے کہیں ایسا تو نہیں اپنی ناکامی چھپانے کے لئے ڈاکٹر کفیل کو بلی کا بکرا بنا دیا گیا!!
کلین چٹ ملنے کے باوجود بھی ڈاکٹر کفیل کو نوکری پر بحال نہیں کیا گیا اسی بیچ ڈاکٹر کفیل پر ذہنی دباؤ ڈالنے کے لئے ١٠ جون ٢٠١٨ کو ان کے بھائی پر نا معلوم افراد کے ذریعہ جان لیوا حملہ کیا گیا لیکن وہ گولی لگنے کے باوجود بھی بچ گئے ڈاکٹر کفیل نے اس واقعے کا ذمہ دار یوگی کے قریبی سانسد کملیش پاسوان کو ٹھہرا یا تھا
ظلم کی یہ آندھی یہیں پر نہیں رکی بلکہ دسمبر ٢٠١٩ میں بھڑکاؤ بیان دینے کے الزام میں ڈاکٹر کفیل پر مقدمہ درج کرکے ایک بار پھر انہیں جیل کی چہار دیواروں میں قید کر دیا گیا ١٣ فروری کو ہائ کورٹ ڈاکٹر کفیل کے ضمانت کی وارنٹ جاری کرتی ہے ادھر دوسرے دن یوگی حکومت ایک بار پھر مسلم دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے ڈاکٹر کفیل کو سماج کے لیے خطرہ بتاتے ہو غیر ضمانتی دفعہ این ایس اے لگاکر جیل کی تنہائی ڈاکٹر کفیل کا مقدر کردیتی ہے!! خدا جانے کب تک ڈاکٹر کفیل کو اپنے مسلمان ہونے کی قیمت چکانی پڑے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے