بھارتی مسلم قائدین کے نام ضروری پیغام

مولانا سید ارشد مدنی،مولانا محمود مدنی،مولانا توقیر رضا صاحب،مولانا سلمان ندوی،بیرسٹر اسد الدین اویسی صاحب ،جناب عمران پرتاپ گڑھی ،مولانا سجاد نعمانی صاحب،ڈاکٹر سید سعادت اللہ حسینی،مولانا سعد صاحب و دیگر قائدین ملت اسلامیہ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
اللہ تعالیٰ آپ تمام کو سلامت رکھے۔

ملک کے حالات سے آپ تمام حضرات با خبر ہیں۔اور اس ملک میں مسلمان کے کیا حالات ہیں ماب لنچنگ کی تقریباً روزانہ کی نئ نئ ویڈیوز اور خبروں کے ذریعے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں۔آج کے دور میں اگر کسی کتے بلی کو کوئ مار دے یا زخمی کر دے تو پورا ملک بلبلا اٹھتا ہے جیسا کہ ایک ہاتھی کے معاملہ میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح پورے ملک کے لوگوں نے دھرم اور ذات سے اوپر اٹھ کر اس واقعے کی مذمت کی اور خاطیوں کو کیفرکردار تک پہونچانے کا مطالبہ ہونے لگا(اور ہونابھی چاہئے تھا)لیکن اسی ہندوستان میں ایک بے قصور اور نہتے مسلمان کو ماب لنچنگ کر کے مارا جاتا ہے اور سب لوگ تماش بین کی طرح دیکھتے رہتے ہیں اور ویڈیو بنا کر اس کو سوشل میڈیا کی زینت بناتےہیں۔ اور اگر لنچنگ کرنے والوں کی گرفتاری بھی ہوتی ہے تو وہ چند دنوں یا چند مہینوں میں چھوٹ کر جیل سےباہر آتے ہیں اور انکا کچھ فرقہ پرست لوگ مالا پہنا کر استقبال کرتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

میں صرف اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ کیا ہم مسلم نوجوان اسی طرح ماب لنچنگ کا شکار ہوتے رہینگے؟کیا اسی طرح ہمیں سڑکوں پہ پیٹ پیٹ کر ذلیل کیا جاتا رہیگا؟کیا ہماری حقیقت ایک جانور سےبھی کم ہو گئ کہ اگر ان کو مارا جائے یا شکار کیا جائے تو سالوں مقدمے چلتے ہیں۔کیا ہم اپنی بچی کھچی ہمت و طاقت ماب لنچنگ کی روز روز نئ نئ ویڈیوز دیکھ کر پست کر دیں اور ہم یہ سوچ لیں کہ اس لنچنگ کا کوئ دائمی حل ہمارے سیاسی اور سماجی قائدین کے پاس نہی ہے۔کیا لنچنگ میں مرنے کے لیے ہم بھی اپنے آپ کو تیار رکھیں؟
خدارا آپ حضرات امت کےنوجوانوں کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھئے اور اس سلسلے میں جمع اور متحد ہوکر کوئ مضبوط لائحہ عمل تیار کیجئیے اور لنچنگ کرنے والوں کیخلاف پھانسی یا عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیجئیے خواہ اس کے لیے آپ حضرات کو سڑکوں پہ نکلنا پڑے یا سڑک جام کرنا پڑے ۔کیونکہ یہ ایسا مسئلہ بن چکا ہے جس میں روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے اور اب تو یہ روز کا معمول بن گیا ہے۔
اس لیے برادران وطن خواہ وہ ہندو ہوں مسلم ہوں سکھ ہوں عیسائی ہوں سب کو ساتھ لیکر تمام قائدین ملکر کر اس مسئلے کا کوئ مستقل حل نکالئے تاکہ امت کےنوجوانوں کے اندر سے اضطراب کی کیفیت دور ہو۔
اور اگر آپ لوگوں نے صرف ایک ٹویٹ کرنے کو یا ایک آدھ بیان دے دینے کو اور مذمتی کلمات پیش کر دینے کو فریضے کی ادائیگی سمجھ لیا تو یاد رکھیے یہ لنچنگ میں مرنے والے مسلم نوجوان اللہ کے دربار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں آپ تمام لوگوں کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر پوچھینگے کہ کس جرم میں مجھے قتل کیا گیا؟کیا کلمہ گو ہونا میرا جرم تھا؟غریب ہونا میرا جرم تھا، مسلمان ہوکر اس ملک میں رہنا میرا جرم تھا یا پھر آپ حضرات کی قیادت میں رہنا میرا جرم تھا۔اس وقت آپ حضرات کوئ جواب نہ دے سکیں گے۔
اس لئے خدارا امت کو بالخصوص نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کرنے اور لنچنگ کو روکنے کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کیجیے ۔
اللہ آپ کےسایے کو دراز فرمائے اور ہم سب کےساتھ خیر کا معاملہ فرمائے اور ہمارے وطن عزیز کو پیار و محبت کا گہوارہ بنائے اور اس ملک کی ہر طرح کےشرور فتن سے حفاظت فرمائے آمین یارب العالمین

مرسلہ: محمد حسان صغیر غازی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے