حقیقی انسان

انسان کی پیدائش تو انسانی شکل میں ہوتی ہے لیکن دراصل وہ ہے معاشرتی حیوان ، اور معاشرتی حیوان سے انسان بننے تک کا سفر بہت تکلیف دہ ،کٹھن اور مشکلات سے بھرپور ہوتا ہے جس میں اس کا واسطہ بہت ساری تنگیوں ، ترشیوں ، روڑوں ، پتھروں ، آندھیوں اور طوفانوں سے پڑتا ہے ، اس سفر میں بہت سارے لوگ ہمت ہار جاتے ہیں ، کچھ راستے میں ہی تھک کر زخم زخم ہو کر برداشت نہیں کر پاتے اور مر جاتے ہیں ، کچھ لوگ بیچ راستے میں ہی بیٹھ جاتے ہیں اور پھر اسے ہی منزل تصور کرتے ہیں ، ان تمام لوگوں میں سے چند ایک ہی انسانیت کی منزل کو پہنچ کر انسان بنتے ہیں اور ان کا کردار ، ان کے الفاظ ، ان کی سوچ اور سب سے بڑھ کر ان کے اعمال ؤ افعال ثابت کرتے ہیں کہ وہ معاشرتی حیوانیت سے انسانیت کا درجہ پا چکے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے کامیابی کا سب سے پہلا زینہ کسی کو روند کر آگے بڑھنا نہ ہے ، آگے بڑھنے کے لیے اپنے سے آگے والوں کو دھکا نہ دینا ہے ، بلکہ پیچھے آنے والوں کو رستہ دینا ہے ، گرے ہوؤں کو اٹھانا ہے ، اور دوسرا زینہ اپنی انا ، اپنی ذات کی نفی ہے تبھی انسانیت کی تکمیل ممکن ہے ورنہ کہنے اور سننے کی حد تک تو سبھی انسان ہیں۔


ازقلم: عابدہ ابوالجیش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے