دعائیں عمل کے طلب گار ہیں

از: مدثراحمد،شیموگہ کرناٹک۔9986437327

بی جے پی کے قومی جنر ل سکریٹری سی ٹی روی نے پچھلے دنوں مدارس اسلامیہ کے تعلق سے ایک بیان دیا جس میں سی ٹی روی نے بتایا کہ مدارس اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء دہشت گردی کی طرف مائل ہوںگے اورماضی میں اسطرح کے کئی معاملات پیش آچکے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ مدارس اسلامیہ کے تعلق سے کسی نے انگلی اٹھائی اور مدارس کے نصاب اور طریقہ کار پر تہمتیں لگائیں۔ اس سے پہلے بھی سلسلہ وارمدرسوں کو بدنام کیا جاتا رہا ہےاور مدرسوں کی شبیہ کو بگاڑنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ لیکن ان مدرسوں کی جانب سے ایسے بیانات اورالزامات کے تعلق سے سوائے مذمتی بیان کے اورکچھ کسی بھی طرح کی کارروائی ہوئی ہو، یہ دلیل کہیں نہیں ملتی۔ سوال یہ ہے کہ اگر مدارس اسلامیہ واقعی میں امن کا پیغام دینے والے حق وناحق کی تربیت دینے والے، باطل کو مات دینے والے ،دین کے قلعے ، شریعت کے علمبردار ہیں تو مدرسوں کو بدنام کرنے والے ایسے گستاخوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کررہے ہیں۔ کیا شیر ، شمشیر، نبیرہ، شعلہ بیان، مجاہدِ ملت، غازیِ شریعت، بہادرِ قوم جیسے القاب والے علماء صرف اورصرف پوسٹر کیلئے محدود ہیں۔ ان القاب کے سینکڑوں علماء ہمارے درمیان ملک کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں ،کیا کبھی کسی نے اپنے لقب کے برابر عمل کو ظاہر کیا ہے؟۔ کیا انکی شعلہ بیانی وولولہ خیز تقریریں صرف ایک دوسرے مسلکوں ومکاتب فکر کے لوگوں کو للکارنے کیلئےہیں۔ کیا اسلام اور اسلامی درسگاہوں کو بدنام کرنے ونقصان پہنچانے والے جاہلوں ومشرکوں کو للکارنے اورانکے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا جذبہ ان میں ناپید ہوچکا ہے؟۔ ہم نے اکثر ان دعائوں پر آمین کہا ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ یا اللہ ہمیں شہادت کی موت نصیب فرما، باطل کو سرکرنے کی طاقت عطافرما، لیکن یہ دعااسی وقت قبول ہوسکتی ہے جب ہمارے درمیان، عمل کا سلسلہ شروع ہو، شہادت تو دستر خوان پر میسر نہیں ہوتی، نہ ہی گھر میں بیٹھنے پر ملتی ہےاور باطل کو شکست دینے کیلئے باطل ہمارے پاس نہیں آتا بلکہ باطل کے پاس ہمیں جانا پڑتا ہے۔ تو یہ دونوں دعائیں عمل کے طلب گار ہیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کی وہ ملی قائدین جو الیکشن کے ٹھیکدار ہواکرتے ہیں اورالیکشن میں مسلمانوں کی سرپرستی کے دعوے کرتے ہیںوہ بھی مسلمانوں پر یا مسلم اداروں پر یا اسلام پر آنچ آتی ہے تو خاموش بیٹھ جاتے ہیں۔ انکا دور دور تک پتہ نہیں لگتا ۔ بعض موقعوں پر ایک اخباری بیان اورایک مذمتی بیان ، زیادہ سے زیادہ ڈی سی و ایس پی کو میمورنڈم دے کر ہمارے قائدین ذمہ داریوں سے بری ہونےکی کوشش کرتے ہیں۔ کیا یہی جذبہ ایمان ہے؟ کیا یہی جوش ولولہ ہے؟ ۔ کیا یہی ہمت وشجاعت ہے؟۔ جیل کو جانا ہم مسلمانوں میں عام بات ہے ، لیکن کتنے مسلمان آج تک اس حق وباطل کی لڑائی میں جیل گئے ہیں یہ بتائیے۔ ہمارے نوجوانوں کی اکثریت جیلوں میں نشہ خوری، منشیات کے کاروبار، لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، چوری ، ڈکیتی اورغنڈہ گردی زیادہ سے زیادہ اپنوں میں ہی مار پیٹ کی وارداتیں انجام دے کر رہ رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا جواں مرد ہوگاجس نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے شخص کو سبق سکھاکر جیل گیا ہو، اسلام کو بدنام کرنے والے کو منہ توڑ جواب دے کر سنتِ یوسفی پر عمل کیا ہوگا۔ شاید ہی قرآن شریف کی توہین کرنے والے کو اس کی اوقات بتا کر سزا پارہا ہوگا، ہمارے فعل اورقول میں تضاد ہے اس لئے پوری قوم نامراد ہوتی جارہی ہے۔ جس دن سی ٹی روی جیسے شرپسند اور امن میں خلل ڈالنے والے لیڈروں پر لگام کسنا شروع ہوجائیگا ، اس دن سے اسلام اورمسلمانوں کو بدنام کرنے سے پہلے شرپسند 100 بار سوچیں گے۔ لیکن اس کیلئے شاید مسلمانوں کو مزید ذلیل وخوار ہونے کا انتظار ہے۔ یقیناً مسلمان اپنی تاریخ سے ناواقف ہیں اگر وہ تاریخ کو جان جاتے تو آج ان جاہل حکمرانوں کی اناب شناب باتوں کو سن کر خاموش نہیں بیٹھتے، ہمارے خیال سے ہزاروں مسلم نوجوان ارتغرل غازی ڈرامہ دیکھ رہے ہوں گے، اس ڈرامے کو سوائے انٹرٹینمنٹ، حلیمہ، ماریہ، اصلاحان، خاتون جیسی عورتوں کی خوبصورتی دیکھنے کےعلاوہ اورکوئی پیغام حاصل نہیں کرپائے ہیں۔ میسور کے شیر حضرت ٹیپو سلطان کا ڈرامہ بھی دیکھا ہو، لیکن آج ان کے ڈرامے کی جو میوزک ہے وہ صرف ڈی جے پر ناچنے کیلئے ہی استعمال ہوگی، نہ انکی حقیقی تاریخ سے واقف ہوکر، شیر بننے کی چاہ رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے