ممبئی شہر میں خاتون کی بہیمانہ عصمت دری شرمندگی کا مقام ہے ، ایک سخت قانون کی ضرورت ہے: جماعت اسلامی ہند(ممبئی) کے صدر کا اظہار افسوس

ایک سخت قانون کی ضرورت ہے جو ایسے مجرموں کو پھانسی کی سزا دے تاکہ کوئی اِس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے سیکڑوں دفع سوچے : عبد الحسیب بھا ٹکر (صدر ،جماعت اسلامی ہند ممبئی)

ممبئی جیسے عروس البلاد شہر میں ایک 34 سالہ خاتون کی عصمت دری ملک اور ملک کے دیگر نظامِ تحفّظ پر کئی سوالات کھڑے کرتی ہے ایسے میں جماعت اسلامی ہند یہ سمجھتی ہے کہ ملک کو آزاد کرکے بھی یہاں کی خواتین کو ہم وہ تحفّظ فراہم نہیں کر پا رہے ہیں ،اس کی ایک وجہ ہمارے ملک کا عدلیہ نظام بھی ہے،جسے بہت ہی تیز رفتاری سے فیصلے کرکے سخت سے سخت یعنی پھانسی کی سزا دینا چاہیے تاکہ آئندہ اس قسم کا گھناؤنا گناہ کرنے سے پہلے ملزم سیکڑوں دفع سوچے۔
جمعرات 9 ستمبر کو ممبئی کے علاقے ساکی ناکه میں ایک 34 سالہ خاتون جس کو ایک اسٹیشنری ٹیمپو کے اندر ریپ اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، نے نربھیا کیس کی یاد دلا دی۔ ہندوستان ملک جسے ہم نے آزاد کیا تھا وہاں ہر گھنٹے میں کتنی عورتیں اس قسم کی زیادتی اور ظلم و تشدد کا شکار بنتی جا رہی ہیں۔ ایک مجرم کو حراست میں لیا گیا یہ ایک قابلِ ستائش پہل ہوئی لیکن اور بھی جو گھناؤنے چہرے اس سازش سے جڑے ہیں پولیس اُنہیں بھی سلاخوں کے پیچھے پہنچائے۔

جماعت اسلامی ہند ممبئی كا دوسری جانب احساس یہ بھی ہے کہ صحیح اور بر وقت موقع پر مجرموں کو پکڑا جائے اور اس کی جلد سے جلد چارج شیٹ ڈال کر جتنا جلد ممکن ہو ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا کام کیا جاسکے۔ عبدالحسیب بھاٹکر نے کہا۔
جماعت اسلامی ہند مذہبی رہنماؤں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ ایسے گھناؤنے ملزمین کی کڑی نندا کرتے ہوئے اُنہیں سماجی طور پر بےعزت کیا جائے۔ عصمت دری جیسے سنگین گناہ کے تحت اجتماعی طور پر ایک واضح حکمتِ عملی اختیار کرکے اس جرم کے خاتمے کی جد وجہد ہمیں کرنی چاہیے۔

جماعت اسلامی ہند ممبئی شہر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے