اے بنتِ حوا ! شرم و حیا کو اپنا لبادہ بنا کے چل

از قلم: محمد عمر کاماریڈی
مدیر : التذکیر فاؤنڈیشن کاماریڈی

اللہ تبارک و تعالٰی نے اس گلشنِ ہستی کو بے شمار خوشنما مناظر اور لاتعداد دلکش و دلربا نظاروں سے آراستہ اور مزین کیا، اور اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ کی جلوہ آرائیاں کرکے ایک حسین گلشن بسایا، اور اسی قدرت کا ایک عظیم شاہکار اور کھلا نمونہ ”صنفِ نازک“ ہے، جس کو اسلام نے ذلت و پستی کے قعر عمیق سے نکال کر بام عروج تک پہنچایا، اور عز و شرف، اور بلند مقام ومرتبہ سے نوازا، نیز اسے ستر پوشی اور پردہ داری کا حکم دیا؛ تاکہ بنتِ حوا کی چادرِ عفت وعصمت انسان نما درندوں سے محفوظ رہ سکے، شرم وحیاء اور اخلاقی اقدار کا خیال رکھا جاسکے؛ کیوں کہ دانشمندی اور فطرتِ انسانی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کو اتنا ہی چھپایا جاتا ہے؛ یہی وجہ ہےکہ سونا تجوری میں رکھا جاتا ہے اور کچرا باہر پھینکا جاتا ہے؛ اسی لئے اسلام نے عورت کو حجاب و نقاب کا حکم دیا اور یہ اس پر اسلام کا احسانِ عظیم ہے؛ لیکن ہائے افسوس آج تہذیب جدید کے علم بردار اور مغربی تمدن پسند لوگ ”میرا جسم میری مرضی“ کے ساتھ ساتھ ”میرا حجاب میری مرضی“ کے نعرے لگا کر عصمت فروشی کو فروغ دے رہے ہیں، عورت کی بے حیائی و عریانی و فحش کاری کو آزادی نسواں اور مساوات کے خوش کن نعروں اور خوشنما دعوؤں سے ملمع کاری سے دلچسپ بنایا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں بےحیائی و عریانی و فحش کاری کا ایسا بازارگرم ہورہا ہے کہ موجودہ معاشرہ، شہوت کی ایک بھڑکتی بھٹی کا نمونہ دکھائی دیتا ہے، اور برسر بازار عفت وعصمت نیلام کی جارہی ہے، زنا بالجبر اور عصمت فروشی کے واقعات روز بروز سامنے آتے جارہے ہیں مختصر یہ کہ ‏
نہ عشق با ادب رہا، نہ حسن میں حیا رہی
ہوس کی دھوم دھام ہے، نگر نگر گلی گلی

یورپ اور اہلِ مغرب کا فلسفہ اور خدائی دستور!
حجاب و نقاب اور پردہ و ستر کا حکم فطرتِ سلیمہ کے عین مطابق اور ایک زندہ ضمیر، ہوشمند آدم زاد کی پکار ہے، ابتدائے آفرینش سے ہنوز کسی قوم یا جماعت نے بے پردگی اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والے جرائم و فواحش کو کبھی روا نہیں سمجھا، پلک جھپکنے کے بقدر بھی اتفاق نہیں کیا؛ لیکن آج نام نہاد تہذیب کے علمبردار، اور مغربی تمدن سے متأثر لوگ اپنی اغراضِ فاسدہ کی تکمیل کے لئے آزادیِ نسواں کا لیبل لگا کر حقوق فراہمی کی آڑ میں ان کا جنسی استحصال کررہے ہیں، اپنی فحاشی کے جواز میں عورتوں کے پردے کو عورتوں کی صحت اور اقتصادی اور معاشی حیثیت سے معاشرہ کے لئے مضر ثابت کرنے اور بے پردہ رہنے کے فوائد کو بیان میں کرنے کی انتہائی گھناؤنی اور ناپاک کوشش کی اور جو بھیڑیے ان کی تاک میں گھات لگائے بیٹھے ہیں وہ ان کے نزدیک حقوق کے علمبردار اور مسیحائے نسواں ٹھہرے، افسوس کہ ہماری قوم کی بیٹیاں بھی اس مردہ لاش کے پیچھے بھاگ رہی ہے، اس بھگدڑ میں باپ کا اڑایا ہوا حیا کا دوپٹہ کہاں گرا اور کتنے مردوں کے پیر تلے کچلا گیا کچھ خبر نہیں! بس ایک دوڑ ہے، مردوں سے آگے جانے کی دوڑ؛ حالانکہ یہ نادان نہیں جانتی کہ یہ صرف نعرہ ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، انہوں نے عورت کو عزت کی زندگی سے نکال کر سڑکوں کو فٹ پاتھوں اور دفتروں میں مزدور بنا کر ذلیل کیا، یہ جاہلی تہذیب کے بھیڑیے ہیں جو اپنے شکار کو صرف ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں، مسلمان بہنوں کو سوچنا چاہیے کہ کامیاب وہ نہیں جو ابلیس اور اس کے لوگ دکھا رہے ہیں کامیابی تو وہ ہے ہے جس کو اللہ اور اس کے سچے رسول نے بیان کیا ہے؛ قربان جائے اسلام کے اصول و ضوابط پر! کہ اسلام نے جن چیزوں کو جرائم اور قابل سزا قرار دیا تو وہیں ان کے مقدمات اور اسباب پر بھی پابندی عائد کردی، چنانچہ زنا اور بدکاری سے بچانا تھا تو اس کو نظر نیچی رکھنے کے قانون سے شروع کیا، مرد و زن کے بےمحابا اختلاط سے روکا، عورتوں کو گھر کی چاردیواری میں محدود رہنے کی ہدایت کی، اور ضرورت کے وقت باہر نکلنے کے لیے بھی برقع یا لمبی چادر سے پورا بدن چھپا کر نکلنے اور سڑک کے کنارے چلنے کی ہدایت کی، خوشبو لگا کر یا بجنے والے زیور پہن کر نکلنے کی ممانعت کی،(کہیں یہ ناقصات العقل شہوانی تموج اور مال و متاع کی حرص میں اپنے عفیفانہ اخلاق اور حیا دارانہ جذبات و اعمال سے دستبردار نہ ہو جائیں) پھر بھی جو شخص ان سب حدود و قیود اور پابندیوں کے حصار کو پھاند کر باہر نکل جائے اس پر ایسی سخت عبرت آموز سزا جاری کی کہ ایک مرتبہ کسی بدکردار پر جاری کردی جائے تو پوری قوم کو مکمل سبق مل جائے.(ملخص:معارف القرآن)
لیکن مسلم لڑکیاں آزادی اور عیش کے نشہ میں اسلام کے پاکیزہ تعلیمات اور روایات کو روند رہی ہیں؛ حالانکہ بنتِ حوا کی چادرِ عفت و عصمت اسلام کے سایہ میں ہی محفوظ رہ سکتی ہے، مختصر یہ کہ
آنکھوں کی بندگی سے نگاھیں جھکا کے چل
شانوں سے گر گیا ہے دوپٹہ اٹھا کے چل
قوموں کی زندگی تیری آغوش میں پلی!
قوموں کی زندگی کا مقدر جگا کے چل
آنکھوں کے تیر تیرے بدن سے پرے رہیں
شرم و حیا کا اپنا لبادہ بنا کے چل
گر ہو سکے تو سیرت زہرا پہ کر عمل
اس زندگی کو یوں نہ تماشہ بنا کے چل

حجاب کی اہمیت کتاب وسنت کی روشنی میں:
فرائض کے بعد شریعت میں دوسرا فرض پردہ اور حجاب ہے، پردے کی فرضیت کا حکم سن ۵؁ ہجری میں نازل ہوا ہے، قرآن کریم کی سات آیات اور حضور اکرم ﷺ کی ستر سے زائد روایات پردے کی اہمیت کو اجاگر کرتی نظر آتی ہے، شریعت مطہرہ نے عورت کے حق میں پردے کو لازم اور ضروری قرار دیا ہے، بطور خاص “چہرہ “کو اس لیے کہ وہ با عثِ کشش اور ذریعے فتنہ ہے، ورنہ دوسرے اعضاء تو کپڑوں میں ملبوس اور مستور ہوتے ہی ہے، اسی جانب رہنمائی کرتے ہوئے قرآن نے کہا: ”یایھا النّبی قل لازواجک و بناتک و نساء المومنین یدنین علیھن من جلابیبھن “( سورۃ الاحزاب: ٥٩)
ترجمہ: اے نبی ﷺ ! اپنی ازواج مطہرات، اپنی بیٹیوں ،اور مومن عورتوں سے فرما دیجئے! اپنے (چہروں) پر پردہ لٹکا لیا کریں، اور اسی طرح یہ حکم بھی چہرے کے پردے کی طرف متوجہ کرتا ہے ”واذا سالتموھن متاعا فاسالوهن من وراء حجاب “ ( الاحزاب: ٥٣) جب ازواج مطہرہ سے کچھ پوچھنا ہو تو پردے کے پیچھے سے پوچھا کرے؛ نیز عادت اور عبادت کی کوئی نوع ایسی نہیں کہ جس میں عورت کو حجاب اور پردے سے بَری کیا گیا ہو، جب گھر سے باہر جانے کی ضرورت پڑ جائے تو قرآنی دستور کو سامنے رکھے “يدنين عليهن من جلابيبهن ” ( الاحزاب: ٥٩)
مطلب یہ ہے کہ گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت ضرورت کے موقع پر،برقع کے التزام، خوشبو کے بغیر، بجنے والے زیورات سے اجتناب، راستے کے کنارے پر چلنا،اور مردوں کے ہجوم میں داخل نہ ہونا ، یہ سب صرف جوہر عفت کے تحفظ کی خاطر ہے، ” نیک عورت کی پہچان اہل حقیقت کی نگاہ میں یہ ہے کہ خوف خدا اس کا حسن و جمال ہو، قناعت اس کی دولت ہو، عفت و عصمت اور تہمتوں سے اجتناب اس کا جوہر وزیور ہو“ ( تنویر الاذہان من تفسیر روح البیان ) کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ ساتھ احادیث نبویہ بھی اس کے وجوب کا ثبوت دیتی ہے؛ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہے: المرأة عورة فاذا خرجت استشرفها الشيطان ( فیض القدیر : ٦, ٢٦٦)
ترجمہ : عورت پردے میں رہنے کی چیز ہے، عورت جب گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کے پیچھے لگ جاتا ہے، حدیث مذکورہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پردے کا تعلق عورت کے پورے جسم اور جسم کے تمام اعضاء سے ہے۔

صحابہ و صحابیات کا طرزِ عمل:
کتاب وسنت کے بعد اس امت کا معتبر مستدل اور لائق تقلید گروہ صحابہ کرامؓ کی جماعت ہیں، جو معیارِ ایمان اور امت کے لئے نمونہ ہیں؛ چنانچہ مسند احمد کی روایت میں ہےکہ نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ ایک مرتبہ درِ رسول پر حاضر ہوئے حضرت ام سلمہ اور میمونہ رضی اللہ عنھما وہاں موجود تھی، حضور ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا کہ ”ان سے پردہ کرو، وہ بولیں یہ تو نابینا ہے، آپ نے فرمایا کہ تم تو نابینا نہیں ہو“ ( مسند احمد: ٦, ٢٩٦) غور کیجئے جب ایک نابینا انسان سے عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے،تو بینا مردوں سے پردہ کرنے کا حکم کس قدر اہم اور ضروری ہوگا، اس کے علاوہ اور بھی بے شمار احادیث موجود ہے، جو پردے کے وجوب ولزوم پر دال ہے، ان سب کے باوجود اگر ہم خیرالقرون جیسے پاکیزہ دور پرصرف ایک سرسری نظر ڈالیں تو بہت سے واقعات ایسے ملیں گے جو صحابہ کے پردے کے اہتمام کی اطلاع دیتے ہیں ، چنانچہ ایک صحابیہ کا لڑکا شہید ہوگیا،تو وہ نقاب پہن کر خدمت میں حاضر ہوئی، صحابہ نے عرض کیا! بیٹے کا حال پوچھنے آئی ہو اور وہ بھی نقاب پہن کر؟ بولیں ! میں نے اپنے بیٹے کو کھودیا ہے،شرم و حیا کو نہیں کھویا ، ( ابوداؤد: کتاب الجہاد) ذرا اس واقعہ میں غور کرنا چاہیے کہ انتہائی غم اور پریشانی کی حالت میں بھی پردے کا حکم ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹا، اور ہم محض خواہشات کی تکمیل کیلئے بے حجاب ہوجاتے ہیں،

اور صحابیات کا حال بیان کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ عورتیں فجر کی نماز کے لیے مسجد نبوی میں شریک ہوتی تھیں، وہ چادروں میں لپٹی ہوئی تھی، نماز کے بعد مسجد سے نکل کر گھروں کو لوٹتی تھی،کوئی انہیں پہچان نہیں پاتا تھا ، ( بخاری : کتاب الصلوۃ) یہ روایت واضح طور پر چہرہ سمیت پورے جسم کے پردے کے التزام کو بیان کرتی ہے ، صحابہ و صحابیات کے احتیاط کی ایک اور جھلک یہ بھی ہے کہ ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا “افلح “ملاقات کے لیے آئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پردے کا اہتمام کیا اور ان سے ملنے سے انکار کر دیا ،پھر حضور ﷺ کو واقعہ بتایا تو آپ نے مسئلہ بتایا کہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہے، تم ان سے ملاقات کر سکتی ہو ، ( مسلم : کتاب الرضاع )

نیز واقعہ افک کے ذیل میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے کہ حضرت صفوان بن معطل سلمی صبح کے وقت اس مقام پر پہونچے، جہاں میں قافلے سے بچھڑ گئی تھی ،اور قافلے کی واپسی کی منتظر تھی ،پردے کا حکم آنے سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے، انہوں نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا،اور زور سے “انا للہ وانا الیہ راجعون “پڑھا ،جسے سن کر میں نیند سے بیدار ہوگئی ،اور اپنے چہرے کو چادر سے ڈھانک لیا ( بخاری شریف کتاب المغازی) مذکورہ بالا تمام واقعات یہ بتاتے ہیں کہ پردے کی اہمیت صحابہ کی نظر میں کیا تھی ، اور وہ اس کا کس قدر اہتمام کرتے تھے ، جسم کے ساتھ ساتھ چہرے کا بھی پردہ کرتے تھے ، لیکن ہم ہے کہ پردہ ایک بوجھ تصور کرتے ہیں ،

ہمارا حال زار :
ہماری سماجی زندگی اور معاشرے کی حالت زار تو یہ ہے کہ بے حیائی اور ہوسناکیوں کے موجودہ دور میں عورت اغراض فاسدہ کی تکمیل ،اور تجارتی سامانوں کی تشہیر کا ذریعہ بن چکی ہے ، اور آجکل عورت کے لئے ایسے لباس و پوشاک ایجاد کیے جا رہے ہیں، کہ الامان الحفیظ! جو ستر پوشی نہیں؛ بلکہ ستر فاشی کرتے ہے، اور ایسے اسبابِ زینت مہیا کیے جارہے ہیں جو زینت نہیں بلکہ زحمت بلکہ فطری بناوٹ بدلنے کا ذریعہ ہے ، تو وہیں دوسری طرف عورت بھی اپنے استحصال کو حقیقی آزادی اور مذہبی روک ٹوک کو قید و بند سمجھتی ہے، لعنت ہے ایسی آزادی پر جو عزتوں کو پامال اور عصمتوں کو تار تار کردے، تف ہے ایسی مساوات پر جو حقیقی ذمہ داریوں سے غافل کردے،اور مقصد تخلیق کو بھلادے؛ یہی نہیں؛ بلکہ افسوس کا صد مقام ہے کہ مسلم معاشرے کا متدین طبقہ بھی اس کی زد میں ہے، پردے کا کوئی خاص اہتمام ہی نہیں، غیر محرموں کے سامنے بے حجاب آنا جانا ، بلا تکلف باتیں کرنا ،ناجائز تعلقات قائم کرنا ، فونوں پر چیٹنگ کرنا، وغیرہ کو غلط اور گناہ ہی نہیں سمجھا جاتا ہے، تو وہیں دوسری طرف اگر پردے کا اہتمام ہے بھی تو وہ بطور نام اور محض رسماً ہے ، صرف جسم پر برقع ہے، چہرہ بے نقاب ہے،اور برقع بھی ایسا چمک دار اور چست کہ ہر دیکھنے والے کی نگاہیں ان پر ٹکی رہتی، اور ہر گذرنے والا ان کی جانب متوجہ ہوتا ، ایسا محسوس ہوتاہے کہ ان کا باہر نکلنا ضرورت کی بنا پر نہیں بلکہ اپنے بناؤ سنگھار کی نمائش اور اپنی خوبصورتی کو ظاہر کرنے کے لئے ہے ؛ تاکہ لوگوں کو اپنے جالِ فریب اور دام محبت میں پھانس سکے؛ حالانکہ عورت اپنی ذات اور حقیقت کے اعتبار سے ایک مستور اور محجوب شیٔ ہے ، جیسا کہ صریح احادیث نبویہ اس کی تائید کرتی ہے،

تار تار ہوتی عصمتیں!
پردہ تو بے حجابی اور نمود و نمائش سے پرہیز اور شرم و حیا کے مکمل احساس کا نام ہے، اور یہ پردہ عورت کے ليے اپنے دائرہ کار میں کسی سرگرمی کی رکاوٹ نہیں بنتا؛ لیکن موجودہ دور میں دشمنانِ اسلام نے عورت کا استحصال کرنے اور چادر‍ِ عصمت کو تار تار کرنے کے لئے اور اسلام کے عطا کردہ تحفظ کو ختم کرنے کے لئے اس طرح سے سازش کی کہ پہلے عورت کو کسی مذہبی آثار کی بناء پر درونِ خانہ نہ رکھا جائے، اسے بھی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے لذت آشنا ہونے کا موقع دیا جائے، اس لئے اسے اس قدر آزادی دے دی گئی کہ وہ گھر سے نکل کر بازاروں میں جا بیٹھی اور مردوں کی عیش پرستی کا بہترین ذریعہ بن گئی، پھر مردوں کی اس لذت آشنائی نے انھیں اس قدر اندھا کر دیا کہ طوائفوں اور بازاری عورتوں کے ہاتھوں میں تہذیب و تمدن کی عنان دے دی گئی اور انھیں زندگی کے اعلیٰ منصب پر فائز کردیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تہذیب و تمدن کی دھجیاں اُڑ گئیں اور ان کا نام صفحۂ ہستی سے مٹ گیا؛ لیکن ان کی سمجھداری کہاں تیل لینے چلی گئی؟ کہ اب لڑکیوں کو لڑکوں کے شانہ بشانہ ترقی کرنے کی خواہش بے قرار رکھتی ہے، وہ ہر کام میں مردوں کی نقالی کرتی ہیں اور آہستہ آہستہ اپنی نسوانیت کھوتی جارہی ہیں۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ وہ اپنے فطری مقام سے گرگئی۔ بقول شاعر ؂
چلنا تھا جس کو دین کی پاکیزہ راہ پر
وہ قوم بے حیائی کے رستے پر چل پڑی

برقع ساترِ جسم ہو؛ ناکہ ستر فاشی کا ذریعہ
عقل اور قیاس کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ قیمتی شیٔ کو چھپا کر رکھنا چاہیے، ناکہ انہیں سڑکوں پر برسرعام نکالا جائے، اور لوگ ان سے مستفید ہو، اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عورت کی انفرادی نماز تک میں ستر اور حجاب کی ہیئتوں کو تجویز کیا گیا، لیکن قربان جائے دور نبوت پر کہ انکا پردہ اور برقع آج کی طرح مزین اور ہیجان انگیز نہیں تھا ؛ بلکہ سیدھا سادہ اور کشادہ برقع اور پردہ ہوتا تھا، جس کی وجہ سے عورت سر تاپا مستور رہتی تھی، اور انکی عفت و حیاء اور پردہ سب پوری انسانیت کے لیے ضرب المثل اور لائق تقلید ہے ، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا حجاب بھی حجاب شرعی ہو تو اس میں ان شرطوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، ١, برقع پورے جسم کے لئے ساتر ہو ، ٢, دبیز ہو ،٣, کشادہ ہو؛ تنگ نہ ہو ، ٤, نقاب اظہار زینت کے لیے نہ ہو ، ٥, خوشبو نہ لگارکھی ہو ، ٦, مردوں جیسا لباس نہ ہو ، ٧, غیر مسلموں کی پوشاک سے مشابہت نہ ہو ، ٨, اور اس سے ریا اور نمود مقصود نہ ہو ،وغیرہ ، جب یہ شرطیں پائی جائیں گی تب وہ اسلامی حجاب کہلائے گا،اور پھر بنتِ ہوَّا کی چادرِ عفت و عصمت ہوسناک درندوں سے محفوظ رہ سکتی ہے،اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل اور دخترانِ ملت کی عزتیں پامال نہ ہو ، انکی آبروریزی نہ ہو ، اخلاق و کردار پر فرق نہ آئے تو سب سے پہلے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اسلامی نہج پر تربیت کریں، گھروں میں تعلیم کا ماحول قائم کریں، صحابہ اور صحابیات اور نیک لوگوں کے واقعات سنائیں،اور کچھ وقت فارغ کرکے بچوں کے ساتھ بیٹھے، انکی تعلیم کا جائزہ لیں، بُرے دوستوں اور بُری صحبتوں سے دور رکھے، اسمارٹ فون (جیسی مہلک الایمان شیٔ )سے دور رکھے ، اور پردہ کی اہمیت کو ان کے سامنے اجاگر کریں، تو وہیں مسلم خواتین بھی مساوات کی ریس میں آگے نکلنے کے بجائے خود بھی ذرا سوچیں کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے جو تعلیمات ہمیں دی ہیں وہی ہمارے لئے کامیابی کی ضمانت اور ترقی کی راہ ہے، پھر ہمیں کسی قانون اور ہمدرد کی چنداں ضرورت نہیں!

اللہ تبارک و تعالیٰ صنفِ نازک کی عفت وعصمت کی حفاظت فرمائے اور انہیں صحابیات کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق ارزانی فرمائی اور دین کا صحیح فہم عطا فرمائے آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے