غزل: کیا سماں باندھ گئی طرز بیانی میری

نتیجہ فکر: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

ایک افسانہ دل وہ بھی زبانی میری
کیا سماں باندھ گئی طرز بیانی میری

لوگ حیران ہوئے سن کے کہانی میری
تھی نشاط آفریں کچھ ایسی جوانی میری

ایسا لگتا ہے زمیں تھم سی گئی ہے آخر
میری آغوش میں ہے رات سہانی میری

میری حرکات میں وہ، میرے کمالات میں وہ
میں ہوں دریا وہ ہے اک موج روانی میری

میرے جیون کے ہر اک موڑ میں وہ روشن ہے
اس کے اطراف بھٹکتی ہے کہانی میری

اس کو یہ فخر کہ میں تاج ہوں اس کے سر کا
مجھ کو یہ ناز کہ میں راجا وہ رانی میری

میری نسلیں مرے ہونے کی گواہی دیں گی
کون کہتا ہے کہ ہے قبر نشانی میری

وقت سے ہارنا میں نے کبھی سیکھا ہی نہیں
وقت کیا چیز ہے خود رب نے ہے مانی میری

بھول جاؤں میں اسے کیسے یہ کب ممکن ہے
ہاں رفیقی سے ہے پہچان پرانی میری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے