ہر ایک کا نمبر آئے گا

ازقلم: شمس تبریز قاسمی

مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری، آسام میں تقریباً 800 مسلمانوں کے گھروں کا انہدام، تین مسجدوں کی مسماری اور 23 ستمبر کو نہتے بے گھر لوگوں پر پولس کی فائرنگ کی، اتر پردیش میں مسجدوں کو منہدم کرکے مندر بنانے کی بی جے پی لیڈر سنگیت سوم کی دھمکی، باحجاب تصویر ہونے کی وجہ سے مغربی بنگال میں ایک ہزار مسلمان لڑکیوں کی پولس محکمہ میں ملازمت کےلئے دی گئی درخواست کا رد کردیا جانا، بہار کے مدھے پور میں نماز پڑھنے جارہے 65 سالہ محمد اکبر کی ماب لنچنگ، متھرا میں گوشت لےجانے کے شک میں دو مسلم نوجوانوں کی بھیڑ کے ذریعہ بے دردی سے پٹائی، دہلی میں بیرسٹر اسد الدین اویسی کی سرکاری رہائش گاہ پر ہندو سینا کے غنڈوں کا حملہ، مظفر نگر فسادات کے 20 ملزمان کو مقامی عدالت کا بری کردینا اور علی گڑھ کے ایک قبرستان میں سرکاری دفتر کی تعمیر اور مسجد کا دروازہ بند کردینا جیسے کئی مسائل ہیں جو گذشتہ دو دنوں میں پیش آئے ہیں۔

اوپر مذکور سبھی مسائل کا تعلق براہِ راست مسلمانوں سے ہے، لیکن مسلمانوں میں خاموشی ہے۔ مسلم تنظیموں اور سربراہوں کو زیادہ تر مسئلوں کا علم نہیں ہے۔ کچھ کے بارے میں معلومات ہے لیکن خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ کچھ نے بولنے کی بھی کوشش کی ہے۔ اردو اخبارات میں پریس ریلیز شائع ہوگئی ہے۔ مسلم نوجوان اور نئی نسل سے تعلق رکھنے والے ٹوئٹر، فیس بک اور سوشل میڈیا پرغم و غصہ کا اظہار کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم یوں ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشائی بنے رہیں گے۔ ایسے واقعات کو رونما ہوتے ہوئے دیکھتے رہیں گے اور غم و غصہ کا اظہار کرکے، ٹوئٹر ٹرینڈ چلاکر، پریس ریلیز شائع کرکے، اسپیس میں گفتگو کرکے یہ سمجھ لیں گے کہ ہماری ذمہ داری پوری ہوگئی ہے، یا پھر اسے روکنے کی کوئی کوشش کی جائے گی، یا پھر ہمارے قائدین اور رہنماؤں کو لگتا ہے کہ ان کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا، جنہیں پولس نے گرفتار کیا ہے، واقعی ان میں کچھ خامیاں موجود تھیں۔ وہ غلط راستے پر تھے۔ آئینِ ہند کے خلاف کام کررہے تھے۔ ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے، اس لئے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ حکومت کسی بے گناہ پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی ہے۔ ان کی گرفتاری اس لئے ہوئی ہے کہ وہ اس طرح کے کام کررہے تھے۔ ہمیں، ان ک ، فلاں کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا۔ دھواں اٹھنے کا مطلب ہے کہیں آگ لگی ہے ۔

ڈاکٹر ذاکر نائک پر حکومت نے شکنجہ کسنا شروع کیا اور بالآخر انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ کرونا معاملوں کو لے کر مولانا سعد صاحب کو میڈیا نے لگاتار نشانہ بنایا۔ معروف وکیل محمود پراچہ کی آفس پر 17 گھنٹے کا ریڈ پڑا۔ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو چن چن کر جیل میں بند کردیا گیا۔ صدیق کپن کو گرفتار کرلیا گیا۔ جون میں جناب عمر گوتم اور قاضی جہانگیر صاحب کی گرفتار ی ہوئی۔ اب مولانا کلیم صدیقی صاحب کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ایسے شخصیات کی لمبی فہرست ہے، جن پر ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور سچ بولنے کی پاداش میں مختلف دفعات کے تحت کیس کیا گیا ہے۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کو لگاتار نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن ملت اسلامیہ ہند مجموعی طور پر خاموش ہے ۔

ہمارا ووٹ حاصل کرنے والی اپوزیشن پارٹیاں بھی ہمارے مسائل پر خاموشی اختیار کرلیتی ہیں، کیوں کہ انہیں اب مسلمانوں کی فکر نہیں بلکہ ہندوؤں کی ناراضگی کا خدشہ رہتاہے۔

مسلم قائدین اور تنظیموں کے سربراہ خاموشی کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں یا پھر پریس ریلیز جاری کرکے اپنی ذمہ داری نبھانے کا اعلان کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ٹی وی چینلوں، یا یوٹیوب، فیس بک اور ٹوئیٹر جیسے پلیٹ فارمز پر آکر یہ بول دیتے ہیں کہ الیکشن جیتنے کے لئے بی جے پی کی سرکار یہ سب کررہی ہے۔ مسلمانوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ وہ خاموش رہیں ۔ ایسے اقداما ت کرکے بی جے پی مسلمانوں کو اکسانا اور سڑکوں پر لانا چاہتی ہے تاکہ وہ ہندوؤں کی مزید ہمدردی حاصل کرسکے اس لئے مسلمان اپنے اوپر ہونے والے تمام مظالم کو چپ چاپ سہتے رہیں۔

لیکن یاد رکھیے ! عمر گوتم ، قاضی جہانگیر اور مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری پر یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ۔ بلکہ یہ جاری رہے گا اور ایک ایک کرکے مسلمانوں کو اسی طرح جیل میں بند کیا جائے گا۔ ان گرفتاریوں کا تعلق صرف سیاست اور انتخاب سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد مسلمانوں کو خوف زدہ کرنا، کمیونٹی کو ڈرانا، ان کے تعلیمی اور دوسرے مشن پر قدغن لگانا، مسلم تنظیموں اور اداروں کی مالی مدد کرنے والوں کو خوفزدہ کرنا، مسلم سرگرمیوں پر پابندی لگانا، اسلام میں داخل ہونے والوں کوخوف کا شکار بنانا اور اس جیسے کئی کثیر المقاصد ایجنڈا ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے