دہلی القاعدہ مقدمہ: مولانا عبدالرحمن کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے این آئی اے عدالت سے رپورٹ طلب کی

ممبئی5/ اکتوبر
ممنوع دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے مبینہ الزامات کے تحت گرفتار دارالعلوم دیوبند کے فارغ مولانا عبدالرحمن (کٹکی) کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران سپریم کورٹ آف انڈیا نے نے خصوصی این آئی اے عدالت سے رپورٹ طلب کی ہے کہ آیا عدالت کو مقدمہ کی سماعت مکمل کرنے میں کتنا وقت لگے گا، دوران بحث ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے عدالت سے گذارش کی تھی کہ ملزم کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے بلکہ این آئی اے کورٹ کو حکم دیا جائے کہ وہ مقدمہ کی سماعت ایک سال کے اندرمکمل کرے۔
ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کو جسٹس سنجے کشن کول نے کہاکہ دفاعی وکیل نے ملزم کی غیر موجودگی میں بھی ٹرائل چلانے کی گذارش کی تھی اس کے باوجود استغاثہ ملزم کے خلاف عدالت میں گواہ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے لہذا اب یہ کیسے مان لیا جائے کہ استغاثہ اگلے ایک سال میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرلیگا؟
ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے بحث کرتے ہوئے ایڈوکیٹ صارم نوید نے جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس رائے کو بتایا کہ ملزم پانچ سال اور آٹھ مہینہ سے جیل میں قید ہے اور اس درمیان استغاثہ نے 82 میں سے صرف 14 گواہوں کو ہی عدالت میں پیش کیا۔
ایڈوکیٹ صاریم نوید نے کہا کہ سپریم کور ٹ این آئی اے عدالت سے رپورٹ طلب کرسکتی ہے کہ آیا مقدمہ میں تاخیر کس کی وجہ سے ہورہی ہے، ملزم اور دفاعی وکیل مقدمہ کی تیز سماعت کے لیئے ہر طرح کی مدد کرنے کے لیئے تیار ہیں اور اگر استغاثہ مقدمہ کی سماعت جلد از جلد مکمل کرنے کے حق میں نہیں ہے تو ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے خصوصی این آئی اے عدالت سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے معاملے کی سماعت چار ہفتوں کے لیئے ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ ملزم عبدالرحمن کو قومی تفتیشی ایجنسی نے اڑیسہ کے مشہور شہر کٹک کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں سے گرفتار کیا تھا اور اسے بذریعہ طیارہ دہلی لایا گیا تھا۔ ملزم پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ہ وہ ہندوستان میں القاعدہ کے لیئے لڑکوں کو باہر دہشت گردانہ ٹریننگ حاصل کرنے کے لیئے بھیجنے کا کام کر رہا تھا۔
اسی معاملے میں دہلی پولس کے اسپیشل سیل نے بنگلور کے مشہور عالم دین مولانا انظر شاہ قاسمی کو بھی گرفتا ر کیا تھا لیکن بعد میں خصوصی عدالت نے نا کافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے ڈسچارج کردیا گیا، ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے جمعیۃ علماء کی جانب سے ڈسچارج عرضداشت پر بحث کی تھی جس کے بعد دہلی کی خصوصی عدالت نے مولانا انظر شاہ کو مقدمہ سے ڈسچارج کرتے ہوئے دیگر ملزمین کے خلاف مقدمہ شروع کیئے جانے کا حکم دیا تھا۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے