مردم شماری

2078 بکرمی کی مردم شماری شروع ہے۔ علماء کرام ،ائمہ عظام اور دانشورانِ قوم عوام الناس میں بیداری مہم چلائیں،تاکہ مسلمانوں کی صحیح تعداد حکومت تک پہنچ سکے!


تحریر: انوار الحق قاسمی، نیپال


ہر دس سال کے بعد ملک نیپال میں جن گنا کا عمل شروع ہوتاہےاور ملک میں بسنے والے لوگوں کی مردم شماری کی جاتی ہے،کہ ملک میں رہنے والے لوگوں کی صحیح تعداد کیاہے؟نیز ملک میں کتنے ادیان ومذاہب کے ماننے والے لوگ ہیں،اور پھر کس مذہب کے پیرو کی تعداد زیادہ،اس کے بعد کس کی ہے،پھر اس کے بعد کس کی ہے،الغرض مردم شماری کے ذریعے ملک میں بسنے والے لوگوں کی صحیح تعداداور کس مذہب کے متبعین کی تعداد زیادہ ہے اور کس کی کم ہے معلوم کی جاتی ہے ،تاکہ تعداد کی کثرت وقلت کے مطابق انہیں سرکاری مراعات دی جائیں اور حکومت تعداد ہی کے موافق لوگوں کو حقوق دیتی ہے۔
گزشتہ دس سال قبل یعنی 2068بکرمی کی مردم شماری میں دیگر مسلم تنظیموں کے ساتھ ساتھ "جمعیةعلماء نیپال” نے بھی اپنا نمایاں اور مؤثر کردارادا کیا تھا،جس کے قدررے مثبت اثرات دیکھائی دیئے۔
اور حالیہ یعنی 2078بکرمی کی مردم شماری کا عمل ملک کے کونے کونے میں شروع ہوچکاہے،جو کہ 25/گتے کارتک سے9/گتے منگسیر2078 بکرمی تک بمطابق 11/نومبر سے25/نومبر 2021ء تک جاری و ساری رہے گا۔
حالیہ مردم شُماری کو لے کر بھی "جمعیةعلماء نیپال”کافی حرکت میں ہے ،کئی اضلاع میں مردم شماری کے حوالے سے جمعیةکی ضلعی میٹنگیں ہوئی ہیں،جن کے ذریعے مسلمانوں میں کافی بیداری لائی گئی ہے۔
نیز "جمعیة علماء نیپال”نے ایک پریس ریلیز بھی جاری کیا ہے، جس میں جمعیة کے مرکزی ممبران،ملک کے تمام علماء کرام ، ائمہ عظام ،دانشورانِ ملت اور جمعیة کے ہر بہی خواہ سے یہ گزارش کی گئی ہے کہ آپ حضرات اس مردم شماری کو لےکر عوام الناس میں خوب بیداری لائیں،تاکہ ہر ایک مسلمان کی مردم شماری ہوسکے ، ہماری صحیح تعداد حکومت تک پہنچ سکے اور ہمیں ہماری تعداد کے مطابق ملک میں مراعات و سہولیات حاصل ہوسکے۔
قارئین کرام کو یہ بات بھی بخوبی معلوم ہونی چاہئے کہ "جمعیة علماء نیپال” ملک کے قانون کو فولو کرتی ہے،اور کبھی بھی ملک کے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہےاور نہ ہی آئندہ کبھی کرے گی۔
یہ تنظیم وطن دوست تنظیم ہے،راشٹریہ یکتا کو لےکر چلتی ہےاورملک کے مفاد سے ہٹ کر نہیں چلتی ہے،ان باتوں کا اظہارِ خیال جمعیة علماء نیپال کے صدر مفتی محمد خالد صدیقی نے کیاہے۔
مردم شماری ہوتے وقت مسلمانوں کو چاہئے کہ ان چیزوں کا خاص خیال رکھیں!:-(1) مذہب کے خانہ میں "اسلام”لکھائیں۔(2) برادری کے خانہ میں "مسلم”لکھائیں۔(3)مادری زبان کے خانہ میں”اردو”لکھائیں۔(4)آباء و اجداد کی زبان کے خانہ میں بھی "اردو”لکھائیں۔(5)دیگر زبانوں کے سلسلہ میں آپ میتھلی،اودھی،بھوجپوری،میاں بھاساوغیرہ لکھائیں۔
نوٹ :نوٹ اپنے نام ودیگر تفصیلات کے سلسلہ میں ناگریکتااور جنم درتا،پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیےSLC/SEEسرٹیفکٹ کو ہی بنیاد بنانا چاہئے۔
اس مردم شماری کے تئیں تمام علماء کرام اور دانشورانِ قوم بیداری کا ثبوت دیں ،عوام میں خوب محنت کریں اور انہیں ایک ایک بات کو اچھی طرح سمجھائیں،نیز انہیں مردم شماری کے فوائد سے بھی آشنا اور آگاہ کریں۔
اگر اس موقع سے معمولی بھی کاہلی اور سستی سے کام لیا،تو پھر آپ کو دس سال تک کف افسوس ملنا پڑے گا،اس لیے مردم شماری بیداری مہم میں حصہ لیں،تاکہ تمام مسلمانوں کی مردم شماری ہوسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے