گودی میڈیا کو ہندوستان و پاکستان کا مشترکہ زور دار تھپڑ

تحریر: طاہر ندوی
مشرقی سنگھ بھوم جھارکھنڈ

ہارنا اور جیتنا کھیل کی دنیا کا وہ حصہ ہے جس کے بغیر ہر کھیل ادھورا اور ناقص ہے لیکن جب بات ہندوستان اور پاکستان کی ہو تو اس کھیل کے معنیٰ ہی یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں مانو بارڈر پر کوئی جنگ چل رہی ہو اور دونوں ملک کے کھلاڑی کھلاڑی نہ ہو کر فوج کے سپاہی اور کپتان ہوں ۔
گزشتہ دنوں پاکستان نے بھارت کو شکست دی اور شکست و ریخت کا ایک طویل سلسلہ جسے پاکستانی ٹیم گزشتہ تین دہائیوں سے جھیل رہی تھی اسے توڑنے میں کامیاب ہوگئی اور کامیاب بھی کوئی معمولی کامیابی نہیں تھی بلکہ دس وکٹوں سے شکست دینا وہ بھی بھارت جیسی ٹیم کو یقیناً ایک بہت بڑی کامیابی ہے جس کے لئے پاکستانی ٹیم قابل مبارک باد ہیں ۔

خیر ! ہار اور جیت تو لگی ہی رہتی ہے کبھی جشن تو کبھی ماتم یہ کھیل کا اصول اور ضابطہ ہے لیکن اس ورلڈ کپ میں کچھ ایسی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس نے گودی میڈیا کو زور دار تھپڑ جڑ دیا ہے جو ہمیشہ ہند و پاک کی میچ کو کارگل کی لڑائی میں تبدیل کر دیتی ہے اور جیت کے نشے میں زہر اور نفرت کو ملا کر ہمیشہ تناؤ اور کشیدگی کا باعث بن جاتی ہے لیکن ان تصویروں نے ان کی نیندیں اڑا دی ہیں اور ان کا سارا کھیل ہی بگاڑ دیا ہے ۔

ان تصویروں نے کچھ ایسی دھوم مچائی کہ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ شکست کا غم ایک طرف لیکن ان تصویروں نے دل کو چھو لیا اور شکست کے غم بھلا دیا ہے ۔
کاش جو بھائی چارگی اور آپسی محبت ان تصویروں میں نظر آ رہی ہے ہماری حقیقی زندگی میں آ جائے اور دو ملک جو سالہا سال سے ایک دوسرے کو گرانے میں اپنا خون اور سرمایہ بہائے جارہے ہیں اس سے بھی جان چھوٹے ۔۔۔ اللہ کرے وہ دن دیکھنا نصیب ہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے