قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کا ادب اطفال میں تخلیقی سطحیت: حقیقت یا فسانہ کے زیر عنوان نیشنل ویبینار

(آبگینہ،نئ دہلی)
ادب اطفال کے فروغ اور عصری منظر نامے میں اسکی اہمیت و افادیت کے پیش نظر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (نئ دہلی ) نے گزشتہ کل "ادب اطفال میں تخلیقی سطحیت: حقیقت یا فسانہ” کے زیر عنوان ایک قومی مذاکرے کا انعقاد کیا۔ ویبینار کی صدارت کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کی جبکہ جناب فیروز بخت احمد چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، محترمہ ذکیہ مشہدی مشہور فکشن رائٹر، محترم شمس اقبال آفیسر نیشنل بک ٹرسٹ،جناب سردار سلیم نائب مدیر بچوں کا رسالہ روشن ستارے تلنگانہ اردو اکیڈمی،ڈاکٹر نوشاد مومن مینیجنگ ایڈیٹر نیا کھلونا کولکاتہ ، جناب سراج عظیم بانی سکریٹری آل انڈیا ادب اطفال سوسائٹی دہلی اور بانی بچپن واہٹس ایپ گروپ نے حصہ لیا۔ جناب فیروز بخت احمد نے شرکائے مذاکرہ کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے ادب اطفال کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیتے ہوئے اردو کےادب اطفال کو بین الاقوامی زبانوں کے ادب کے مدّ مقابل پیش کرنے کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ قومی کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر عقیل احمد نے اپنے خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے اس مذاکرے کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔انہوں نے اپنی گفتگو میں کونسل کی کارکردگی کا اجمالی جائزہ بھی پیش کیا۔ انہوں نے بچوں کا ادب تخلیق کرنے والوں کو اپنے مفید مشوروں سے نوازا نیز ادب اطفال کو تقویت بخشنے کیلئے بچوں کے مزاج سے ہم آہنگی اور انکی عمر کے مطابق تخلیقیات ضبط تحریر میں لانے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ محترمہ ذکیہ مشہدی نے تخلیق کے حوالے سے بڑی جامع گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا ادب تخلیق کرنے والوں کو زبان اور بیان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی انہوں نے عمومی اور فرسودہ رجحانات سے الگ ہٹ کر بچوں کی دلچسپی اور استعدادکے مطابق کہانیاں اور نظمیں پیش کرنے کا اشارہ دیا ساتھ ہی مذہبی غلبے سے قلکاروں کو اجتناب برتنے کی تلقین بھی کی۔ جناب سردار سلیم نے اپنی گفتگو میں کونسل کی کوششوں اور اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے، بچوں میں ادبی ذوق و شوق بیدار کرنے کے لئے تخلیق نگاروں کو خصوصی توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ سراج عظیم صاحب نے کہا جہاں تک تخلیقی سطحیت کا تعلق ہے تو یہ ایک المیہ ہےکہ جب اخلاقی اقدار ہی عالمی طور پر انحطاط پذیر ہیں تو اس کا اثر ہر شعبہ حیات پر پڑنا لازمی ہے بلا شبہ ادب اس سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔اصل تو یہ ہے کہ سن اسی کے بعد سے ادب اطفال کہیں گم تھا جس کی بازیافت ہمارا پہلا مقصد ہے۔ جب نئے لکھنے والے اور قاری اس میں دلچسپی لینے لگیں گے تب معیار کی بات کرنا مناسب رہے گا۔ بچوں کے حوالے سے ہمارا ادبی سرمایہ بہت توانا ہے۔ ہمارے قلمکار ادب اطفال کے فروغ میں بڑی دلجمعی سے کام کر رہے ہیں ۔ اس کارواں میں نئ پود کی شرکت بھی قابل لحاظ ہے انھوں نے بتایا کہ ہم اپنے بچپن گروپ کے ذریعے اندرون اور بیرون ملک تقریباً پچیس نئے ادب اطفال کے قلمکار ادب کو دے چکے ہیں۔جس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ادب اطفال کا مستقبل تابناک ہے۔ ڈاکٹر نوشاد مومن نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ادب اطفال میں تخلیقی سطحیت دراصل آدھی حقیقت اور آدھا فسانہ ہے۔ یہ ضرور ہے کہ بچوں کے ادیب و شاعر کی تخلیقات میں ایک نوع کی یکسانیت پائ جاتی ہے تاہم سائنس اور تکنالوجی کے حوالے سے بھی وافر تعداد میں مضامین لکھے گئے ہیں۔ چونکہ ہماری زبان میں ادب اطفال کی بنیاد علم و اخلاق حیرت و تجسس اور تعلیم و تربیت پر قائم ہے لہذا ان امور پر قلمکاروں کی خاص توجہ رہی ہے۔ جناب شمس اقبال نے بچوں کی کتابوں اور رسائل و جرائد کے طرزِ پیش کش اور طباعت کے جدید طریقوں کواپنانا ادب اطفال کی ترجیحات کا حصہ قرار دیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ آج کا دور دکھاوے کا دور ہے۔جو چمکتا ہے وہ بکتا ہے کے مصداق ہمیں بچوں کو ادب اطفال کی جانب راغب کرنے کےلئے کتابوں کو پرکشش انداز میں پیش کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے اپنے صدارتی خطبے میں تمام شرکاء کے خیالات کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اور ادب اطفال سے متعلق عنقریب ایک ورکشاپ کے انعقاد کا بھی وعدہ کیا جس میں نئے اور پرانے قلمکاروں کی ذہنی و فکری تربیت کی جائے گی تاکہ ہماری زبان کا ادب اطفال دیگر زبانوں کے ادب اطفال کے مدّ مقابل کھڑا ہوسکے آنکھیں ملا سکے۔ اس مذاکرہ کو ویبنار کی شکل میں پیش کرنے کے لئے محترم کلیم ﷲ آفیسر این سی پی یو ایل اور آبگینہ عارف اسسٹنٹ آفیسر این سی پی یو ایل اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے