نماز جمعہ کے خلاف امیت شاہ کا زہریلا بیان

ازقلم: سمیع اللہ خان
ksamikhann@gmail.com

ابھی ایک ویڈیو دیکھا امیت شاہ کا، جس میں وہ نہایت بے شرمی سے مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں امیت شاہ بھارت کے وزیرداخلہ کے منصب پر فائز ہوکر کھلے عام مسلمانوں کے طریقہء عبادت ” نماز ” کو زہرناک کرکے پیش کر رہے ہیں، انہوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہےکہ، مسلمان جمعہ کے دن نیشنل ہائی وے بند کرکے لوگوں کو تکلیف میں ڈال کر جمعہ کی نماز ادا کرتےہیں،
یہ آدمی زہریلی منافرت کی سیاست میں اسقدر نفرتی ذہنیت کا حامل ہوچکاہے کہ اسے اپنے منصب کی حساسیت کا بناوٹی خیال بھی نہیں رہاہے اور جھوٹ پھیلا رہاہے… مسلمانوں سے نفرت کی سیاست کرتے کرتے ان لوگوں کی ذہنی حالت قابلِ رحم صورتحال کا منظر پیش کررہی ہے۔
بھارت کا ہوم منسٹر جب کھلے عام مسلمانوں کی عبادت کو منافرت کا موضوع بنا رہا ہے تب کیا ہمیں مزید کسی ثبوت اور قرینے کی گنجائش رہ جاتی ہے کہ ہندوﺅں کو مسلمانوں کےخلاف فسادی اور دنگائی کون بنا رہا ہے؟
جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ، سرکار فسادات نہیں چاہتی یا ہندو کسی غلط فہمی کا شکار ہیں مسلمانوں کےمتعلق وہ بڑے بھولے پن میں مبتلاء ہوکر اپنا وقت ضائع کررہےہیں، ریاستی و سرکاری سطح پر جب ایک کمیونٹی کےخلاف زہر گھولا جارہا ہو تو اسے صرف بازآبادکاری کے خیراتی کاموں کےذریعے ہرگز روکا نہیں جاسکتا، اور ناہی ایسی سرکاروں سے آپکی امیدیں آپکو آنے والے سنگین حالات سے بچا سکتی ہیں ۔
یہ بہت ضروری ہوچکاہے کہ، ملک کی سیاسی و پارلیمانی اپوزیشن کھل کر اس بات کو کہنا شروع کرے کہ بھارت میں وزیراعظم اور وزیرداخلہ ہندوﺅں کو فسادی بنارہے ہیں اور مسلمانوں کےخلاف دنگے بھڑکا رہے ہیں

” نماز ” کےمتعلق امیت شاہ کا بیان جمہوری سرکار میں آئینی بالادستی کا مذاق ہے، اور اس بیان کو دےکر امیت شاہ کو خاموشی سے نکل جانے دینا اپنے آپ میں بڑی بےحسی اور غفلت ہے، میں اپیل کرتاہوں کہ امیت شاہ کے اس بیان کو ملک کی مذہبی، سیاسی و سماجی اعلیٰ سطحی سوِل سوسائٹی کےذریعے ہر زبان میں ریجیکٹ کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے