مہاراشٹر میں احتجاجی مظاہروں کےبعد ہندو۔مسلم تناؤ… ذمہ دار کون ؟ (قسط 1)

تحریر: سمیع اللہ خان

مہاراشٹر میں حالات بگاڑنے اور ہندو۔مسلم کرانے کی بھرپور کوششیں ہورہی ہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی نے بعض مسلم تنظیموں کی جانب سے تری۔پورا مسئلے پر کیے گئے احتجاجی مظاہرے کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے، گزشتہ کل مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں تری پورا مسئلے پر احتجاجی مظاہرے نکلے جن میں بعض مقامات پر تشدد کے حادثات رونما ہوگئے ہیں ان حادثات کو لے کر بھاجپا میدان میں اتری ہوئی ہے سابق مہاراشٹری وزیراعلیٰ فڑنویس سمیت اس کے لیڈران و ممبرانِ پارلیمنٹ ان حادثات کو موضوع بناکر ہندو۔مسلم تشدد کا ماحول انگیز کررہےہیں، مسلمانوں کے احتجاجی مظاہروں کے جواب میں بھاجپا و سَنگھی تنظیمیں جوابی مظاہروں کے لیے میدان میں آرہی ہیں، اور پوری تندہی سے مہاراشٹر میں ہندو۔مسلم تناؤ بھڑکانے میں لگ گئےہیں، مہاراشٹر میں جب سے بھاجپا اقتدار سے بےدخل ہوئی ہے تب سے وہ ایسے ہی کسی موقع کی تاک میں تھی، اور ابھی بھاجپا کو مہاراشٹر میں ایسے کسی تناؤ کی ضرورت آبِ حیات کی طرح لگی ہوئی ہے کیونکہ سمیر وانکھیڈے، ڈرگ معاملات، این سی بی اور نواب ملک کا جو معاملہ گرمایا ہوا ہے اس سے بچنے کا آخری راستہ یہی ہےکہ ہندو۔مسلم کرا کے رخ موڑ دیا جائے، چنانچہ بھاجپا نے سَنگھی چال چلتے ہوئے: نعرہ دیا ہےکہ دیکھو مہاراشٹر میں مظاہرے شیواجی کے بیٹوں نے یعنی کہ ہم بھی کرچکے ہیں اور اورنگزیب کے ماننے والوں نے بھی یعنی مسلمانوں نے بھی کیے، دیکھو عام انسانوں کو نقصان کون پہنچا رہا ہے؟ حالانکہ اگر اس پر بحث کی جائے تو سَنگھی تشدد کے ریکارڈ کے لیے دفتر کم پڑجائیں گے لیکن سردست ہمیں اپنا جائزہ لینا اور اپنے اندرون کا احتساب کرنا ہے، اس تناؤ کو زیادہ بگڑنے سے پہلے روکنا بہت ضروری ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب آپ خالی الذہن ہوکر صورتحال کو سمجھیں اور پھر حقیقت پسندی کےساتھ منصفانہ نتیجے پر پہنچیں ۔
سب سے پہلے تو ہم تمام تنظیموں سمیت ان مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے تری۔پورا میں ناموسِ رسالتﷺ پر گستاخی کے خلاف اپنی زندہ۔دلی کا ثبوت پیش کیا، وہ تمام مسلمان مبارکباد اور تہنیت کے مستحق ہیں جنہوں نے غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سڑکوں پر اتر کر آندولن کیا، تری پورا میں سَنگھی دہشتگردوں نے مسلمانوں اور شعائر اسلام کےخلاف جوکچھ ننگا ناچ کیا اس کےخلاف یہ آپ کا حق ہے، ہم سب پر فرض تھا_
مجھے ان احتجاجی مظاہروں سے خوشی ہوئی ہے، لیکن اس دوران کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آگئے ہیں جنہیں فوری طورپر درست کرنا ضروری ہے، بعض مقامات پر غلطی ہمارے لوگوں سے ہوئی ہے، اور بعض مقامات پر سنگھیوں کے جال میں الجھ کر غلطی کر بیٹھے، لہذاٰ انصاف کی رو سے ان تمام واقعات میں غلطی احتجاج کے آرگنائزر کی مانی جائےگی کہ انہیں آج کےحالات میں سب سے پہلے ہرطرح کے خطرات و خدشات کو ملحوظ رکھ کے احتجاجی مظاہرے کو منظم طورپر ڈیزائن کرنا چاہیے تھا اس کےبغیر سڑکوں پر ہزاروں کی بھیڑ اتار دینا کوئی دانشمندی نہیں ہے

مہاراشٹر کی موجودہ سرکار مسلمانوں کےساتھ وہ برتاؤ نہیں کررہی ہے جو دیگر ریاستوں کی بھاجپا سرکاریں کرتی ہیں، مراٹھواڑہ اور ودربھ کے مسلمانوں کی موجودہ مہاراشٹر کی سرکار نے رعایت کی ہے، وہاں پر سَنگھ کے ہزار جتن کےباوجود دنگے نہیں بھڑکنے دیے ہیں، اسوقت مسلمانوں کے مسائل پر مہاراشٹر میں احتجاجی مظاہرے کرنا دیگر بھاجپائی ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے، اور یہ بات ہم تب کہہ رہےہیں جبکہ مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کےخلاف ممبئی کے اترپردیش بھون پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی وجہ سے ہم۔لوگوں کےخلاف ایف۔آئی۔آر درج کی جاچکی ہے، لیکن اس کےباوجود ہم کہہ رہےہیں کہ، مہاراشٹر میں سماجی ماحول اس قدر زہریلا نہیں ہوسکاہے جتنا اترپردیش ہریانہ و دیگر ہندی بیلٹ میں زہریلا ہے اس کےعلاوہ مہاراشٹر سرکار نے بارہا گنجائشیں دی ہیں اور بعض دفعہ مسلمانوں کے ساتھ یقینًا discrimination بھی کیا ہے، لیکن تشدد، مسلم مخالف بائیکاٹ کی مہمات، مسلمانوں کے مراکز پر چھاپے ماری، فسادات اور ریاستی سطح پر اسلاموفوبیا کی نظیریں موجودہ مہاراشٹر سرکار میں نہیں ملتی ہیں اس کا اعتراف کرنا ایک سچے اور بااصول انسان کی شناخت ہے،

گزشتہ روز جو مظاہرے مہاراشٹر میں تری پورا کے مسئلے پر واقع ہوسکے ہیں یقینًا اُتنی بڑی سطح پر یہ مظاہرے کسی بھاجپائی ریاست میں ممکن نہ ہوپاتے، مہاراشٹر کی سرکار اور ایڈمنسٹریشن نے اس میں مثبت اور سلجھا ہوا تعاون پیش کیا اس کا خود ہم نے مشاہدہ کیا ہے تبھی یہ مظاہرے زمین پر آسکے، مسلمانوں کےساتھ ایڈمنسٹریشن کے اس مثبت تعاون کو باقی اور آئندہ جاری رکھنے کے لیے ملّی خیرخواہی اور انصاف کا تقاضا یہی ہےکہ جوکچھ غلطیاں اپنی طرف سے مظاہروں کے دوران واقع ہوئی ہیں انہیں درست کیا جائے،
ہمیں جو لوگ جانتےہیں وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ تشدد و فسادات میں ہم الحمدللہ مسلمانوں کےحق کی خاطر ناسازگار حالات کےباوجود کام کرتےہیں اور مسلمانوں کی آواز اٹھانے سے کسی صورت دریغ نہیں کرتےہیں خواہ اس کے لیے کتنے ہی بڑے ظالم سے دشمنی مول لینی پڑے
لیکن گذشتہ روز مہاراشٹر میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں پیش آمده پرتشدد جھڑپوں کی تحقیقات کرنے پر ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس دفعہ بعض مقامات پر غلطی مسلمانوں کی طرف سے بھی ہوئی ہے، ہمارے ساتھ اس تفتیش میں کئی ایسے مخلص ملّی رضاکار شریک ہیں جنہوں نے اپنی زندگی مسلمانوں کے لیے وقف کردی اور مسلمانوں کے لیے کام کرتے ہوئے ظالموں کے آلام و مصائب جھیلے ہیں انہوں نے بھی مسلمانوں کی جانب سے غلطیوں کی تصدیق کی ہے
ہم مسلمانوں کے مظاہروں کو برحق سمجھتے ہیں اور ان کی حمایت کرتےہیں تاہم بعض مظاہرین کی طرف سے غیرضروری طورپر تشدد میں ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں جنہیں قرار واقعی منصفانہ مراحل سے گزارنا بھی اسلام اور تعلیماتِ نبوی کی روشنی میں ضروری سمجھتے ہیں، انہیں بعد میں قانونی مدد فراہم کرنا الگ بات ہے، لیکن ان کے بچاﺅ کےنام پر بلا ضرورت ٹکراﺅ کا راستہ اختیار کرنا سراسر ملت کو ایک مصیبت میں دھکیلنا ہے اور یہ شریعتِ اسلامیہ کے بھی خلاف ہے

ہماری اپیل ہےکہ: جب سرکار اور ایڈمنسٹریشن آپکے ساتھ سلجھا ہوا انداز اختیار کیے ہوئے ہیں تو آپ بھی ایک نبیﷺ کے فالوور ذمہ دار مسلمان کا ثبوت دیتے ہوئے ان کےساتھ Co-Operate کیجیے، موجودہ بھارت کی مرکزی سرکار اور امیت شاہ کی ہوم۔منسٹری کے تناظر میں سوچیے اگر مسلمانوں کے مظاہروں کے دوران یہ پُرتشدد واقعات کسی دیگر ریاست میں رونما ہوتے تو اب تک کیسا ظالمانہ سرکاری کریک ڈاؤن مسلمانوں پر ہوچکا ہوتا، بھاجپا اسی کے ليے ماحول بنارہی ہے اس کو سمجھیں، دوسری طرف مہاراشٹر کے ہوم منسٹر دلیپ پاٹل سمیت اعلیٰ پولیس افسران امن کی اپیلیں کررہےہیں اور ماحول کو پرامن بنائے رکھنے کے لیے کوشاں ہیں ان کےساتھ مثبت تعاون کی پہل کیجیے، معلوم ہوا ہے کہ، بعض اشتعال انگیز سیاستدان جو مسلمانوں کی مظلومیت کےنام پر اپنی دوکان چمکاتے ہیں وہ بڑی چالاکی سے ذمہ دار مظاہرین کو آپسی ہم۔آہنگی کی بجائے الجھنے اور الجھانے پر آمادہ کررہےہیں، اس طرح بھاجپا کو وہ موقع مل جائےگا جس کےذریعے وہ وانکھیڈے والے قضیے سے لوگوں کا رخ موڑنا چاہتی ہے، اور مہاراشٹر میں ہندو۔مسلم تناو بھڑکانے کے لیے کوشش کررہی ہے۔ میرے نزدیک یہ بہت بڑی غلطی ہوگی جس کے نتیجے میں صرف مظاہرین کا ہی نہیں بلکہ ریاست کے دیگر مسلمانوں کا بھی نقصان ہوگا اور بلا ضرورت ایک خلاء پیدا ہوجائے گا، مسلمانوں کے جذبات کا احترام سر آنکھوں پر…
لیکن سیاسی مفادات والے بھڑکاؤ سیاستدانوں اور استحصالی تنظیموں کے ذریعے مسلمانوں کے عظیم جذبات کا استحصال بند ہونا چاہئے… ناموسِ رسالت کی عظمت کو سیاسی مفادات کے لیے قربان نہیں کرنا چاہیے آ۔بیل مجھے مار والی ان تمام صورتحال سے نقصان صرف عام مسلمان کا ہوگا، وہ بھی غیرضروری طورپر ۔ اگر تشدد کے حالات انگیز ہوتے رہے تو بالآخر یہاں کی فضاء مسموم ہوجائے گی جس میں مرنا پڑےگا عام مسلمان کو۔ اور احتجاج کےبعد آپ ایسی صورتحال پیدا کرکے آئندہ کام کرنے والوں کے لیے خوامخواہ والی مشکلات کھڑی کررہےہیں ۔ بعض رپورٹس تو یہاں تک واضح کررہی ہیں کہ ان مظاہروں میں بھاجپا و سَنگھ نے پہلے ہی شاطرانہ طورپر اپنے ہدف بچھا دیے تھے لیکن افسوس کہ ہماری تدابیر مطلوبہ نہیں رہیں ۔
براہ کرم انصاف سے کام لیجیے، اپنوں کےساتھ بھی خیرخواہی یہی ہےکہ انصاف سے کام لیجیے ۔
قرآن کا فرمان ہے: اعدلوا ھو اقرب للتقوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے