ملی تنظیموں نے مہاراشٹرا میں ہونے والے تشدد کی مذمت کی، اصل ذمہ داروں کی شناخت ہو بے گناہوں کو پریشان نہ کیا جائے

ممبئی ۱۵ نومبر، ہماری آواز
12 نومبر جمعہ کے دن توہینِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور تریپورہ کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے سلسلے میں جو بند کا اعلان کیا گیا تھا اُس کے بعد مہاراشٹر کے کچھ علاقوں میں حالات خراب ہوئے۔ جمعہ اور سنیچر کے روز کچھ علاقوں میں تشدد کے واقعات ہوئے۔اُس میں خدشہ یہ ہے کہ بہت سے بے گناہوں کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ہم مہاراشٹرا گورنمنٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ جو تشدد ہوا ہے اس کی باریک بینی سے جانچ کی جائے، اس میں کوئی سازش ہو سکتی ہے، جو لوگ اِس تشدد کے پیچھے ہیں اُن کو سخت سے سخت سزا دی جائے، بے گناہوں کو پریشان نہ کیا جائے اور ممبئی کی ملّی تنظیمیں حکمتِ مہاراشٹر کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ بہت جلد اُنہوں نے حالات پر قابو پا لیا ۔اطلاع کے مطابق جہاں جہاں تشدد کے واقعات ہوئے ہیں وہاں حالات قابو میں آ رہے ہیں۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ جلد از جلد ہماری مہاراشٹر حکومت حسبِ معمول امن و امان قائم کر لے گی۔ہمیں ایسا لگتا ہے کہ مہاراشٹر گورنمنٹ چونکہ اچھا کام کر رہی ہے،یہ اُنہیں بدنام کرنے کی ایک سازش ہے، کچھ عناصر اس حکومت کو بدنام کرنے کے درپے ہے، اُنہیں اس کی طرف بھی غور کرنا چاہیے۔ اس طرح کے حالات آئندہ پیدا نہ ہو،اُسکا سد باب کرنے کی ضرورت ہو، ہم مسلمانوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ ہر جگہ امن و امان قائم رکھیں، پولیس اور انتظامیہ کا تعاون کریں، ہم امید کرتے ہیں کہ اِس اپیل کہ خیر مقدم کیا جائے گا۔
اس میٹنگ میں ملّی تنظیموں کے نمائندگان مولانا محمود خان دریابادی، فرید شیخ،مولانا اعجاز کشمیری، مولانا عبد الجلیل انصاری، مولانا انیس اشرفی، شاکر شیخ، نعیم شیخ وغیرہ شریک رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے