عالمی حقوق انسانی کا ڈرامہ

ازقلم: سمیع اللہ خان

آجکل دنیا ڈراموں اور ڈھونگ پر قائم ہے روایات اقدار اور تہذیب کو مطلق کمرشیلائز کردیا گیاہے، ان میں تازگی اور زندگی نہیں بچی ہے
اقوام متحده کے اشاروں یا دباؤ پر چلنے والی دنیا نے مختلف طبقات، شعبوں اور صنعتوں سے اظہار وابستگی کے لیے مختلف ایام وضع کرلیے ہیں، عورتوں کا عالمی دن، بچوں کا عالمی دن، ماں اور باپ ٹیچرز اور صفائی ستھرائی کا دن، مزدوروں اور انسانی حقوق کا بھی دن ہے
آج انسانیت کے حقوق کا عالمی ڈرامہ ہورہاہے
یہ سارے ایّام درحقیقت ڈرامے بازی اور ڈھونگ سے زیادہ کوئي عملی حیثیت نہیں رکھتے ہیں
بلکہ جن لوگوں نے انسانیت کو ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے انسانیت کو غلام بنانے کے ليے کوشاں ہیں وہی لوگ انسانیت کے حقوق کا دن منا کر آپ کو بیوقوف بنا رہے ہیں
آج حقوق انسانیت کا عالمی دن منایا جارہاہے بڑے بڑے سیاستدان، عالمی نظام اور گلوبل ویلیج کے علمبردار موٹے موٹے آنسو بہا رہے ہیں انسانی حقوق کے نام پر، اپنے ائیرکنڈیشنڈ کمروں اور نرم و گداز گدیوں پر بیٹھ کر حقوق انسانی پر رنگ برنگی تصاویر اپلوڈ کررہےہیں، اعلی و عمدہ قسموں کے ماکولات و مشروبات چباتے ہوئے بھوکے پیاسے بدحال مظلوموں پر ڈکار رہےہیں،
انسانی حقوق کا عالمی دن وضع کرنے والے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں انسانیت کے استحصال کا سب سے گھٹیا کاروبار پھیلا رکھاہے یہ لوگ عالمی سطح پر انسانیت کے نام پر جنگ و طب کے میدان سے لےکر بچوں کے نام تک پر پوری دنیا کو لوٹ کھسوٹ رہے ہیں
جو لوگ ان کے ایسے کاروباری ایّام میں شرکت کرتےہیں وہ دراصل اقوام متحدہ کی دجالی دنیا کے آگے سجدہ ریز ہیں وہ بدترین شریروں کے ٹولے کو تقویت پہنچانے میں شیطانی دنیا کو زندہ رکھنے میں اپنا تعاون پیش کر رہے ہیں
اہل اسلام کے یہاں ہر دن ہر لحظه انسانی حقوق کے مشن کا ہوتاہے، ہر دن ہر مستحق کا ہوتاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے