جمعیت العلماء ھند مسلمانوں کی طاقتور نمائندہ تنظیم

جوکل منڈل کے انتخابی اجلاس سے مولانا رضوان قاسمی مدعوئے خصوصی ریاستی جمعیت العلماء تلنگانہ کا خطاب

مولانا محمد رضوان قاسمی صاحب مدعوئے خصوصی ریاستی جمعیت العلماء تلنگانہ کے بموجب کل بتاریخ 14/12/2021 بروز منگل کو حضرت مولانا حافظ پیر شبیر صاحب صدر جمعیت علمائے ہند ریاست تلنگانہ آندھرا کے حکم پر جمعیت العلماء بچکندہ کے وفد نے حافظ محمد غوث صاحب کی سر پرستی میں جوکل منڈل کا دورہ کرتے ہوئے انتخابی اجلاس منعقد کیاجس میں شرکاء کی راے سے جوکل منڈل کی باڈی تشکیل دی گئی
1)صدر حافظ محمد غوث صاحب ( ایڑگی)
2) نائب صدور حافظ محمد محبوب صاحب، جناب محمد احمد صاحب، جناب محمد فرید صاحب، جناب محبوب صاحب سینئر سیاسی قائد ٹی آر ایس،
3) سیکرٹری حافظ عبد العظیم صاحب
4) جنرل سیکریٹری حافظ محمد سمیر صاحب
5)خازن محمد شفیع صاحب،۔۔۔۔ مولانا محمد رضوان قاسمی نے انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
آج سے تقریباً 102 سال قبل ریشمی رومال تحریک کے روح رواں، اسیر مالٹا، دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی ہدایت پر انگریزوں سے ملک کی آزادی کے لئے ہندوستانی علماء نے ایک مؤثر ومضبوط تنظیم کے قیام کا فیصلہ کیا جس کا مقصد ملک کی آزادی کے لئے مشترکہ جد وجہد کے ساتھ قرآن وحدیث کی روشنی میں ہندوستانی مسلمانوں کے دینی وسماجی وسیاسی مسائل کا حل قرار دیا۔ 9 نومبر 1919 کو قائم ہوئی اس تنظیم کا نام ’’جمعیت علماء ہند‘‘ رکھا گیا، جمعیۃ علماء ہند پچھلی ایک صدی سے ملک و ملت کے لئے کام کرتی آئی ہے جمعیۃ علماء ہند کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ملک کے تمام فرقے باہم متحد ہو کر ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں جمعیۃ علماء ہند کی یہ کوشش اس لئے نہیں ہے کہ جمعیۃ کے اکابر و اسلاف نے ملک کو انگریزی سامراج سے آزاد کرانے میں جان و مال کی قربانیوں کا زبردست نذرانہ پیش کیا تھا بلکہ اس لئے بھی ہے کہ اس ملک کو زندگی کے ہر شعبے میں بنانے اور سنوارنے میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے مگر انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کا ایک مخصوص طبقہ جس کو سرکار کی سرپرستی حاصل ہے وہ مسلمانوں کو نیست نابود کر کے ہندوستان کو ہندو راسٹ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے ان فرقہ پرست طاقتوں کا منصوبہ یہ ہے کہ ملک کو فرقہ واریت کا شکار بنا کر مسلمانوں کو مجبور کردیا جائے تو وہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں یا پھر اپنا تشخص ختم کرکے دوسرے درجے کے شہری قبول کرلیں اس کے لئے فرقہ واریت کا سہارا لیا جاتا ہے کبھی ہماری تعلیم گاہوں اور مدرسوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی مسجدوں و عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی ہمارے اسلامی تشخص پر اعتراض کیا جاتا ہے تو کبھی اسلامی تعلیمات پر تنقید کی جاتی ہے ان تمام حالات میں جمعۃعلماہند حکومت ہند اور فرقہ پرستوں طاقتوں کا جواب دینے کے لئے کمر بستہ رہتی ہے مسلم پرسنل لا میں مداخلت کا معاملہ ہو یا تحفظ شریعت پر حملے کا، طلاق ثلاثہ کا معاملہ ہو یا فرقہ وارانہ فسادات کا، بابری مسجد کی بازیابی کا معاملہ ہو یا آسام کے مسلمانوں کی شہریت کا سوال ہو، گا ئے کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ہو یا گھر واپسی کے نام پر ظلم و بربریت کا معاملہ ہو، جیل میں بند مسلم قیدیوں کو انکاؤنٹر کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دینے کا معاملہ ہو یا دہشت گردی کے نام پر بے قصور مسلمانوں کو سلاخوں کے پیچھے سے باہر نکالنے کا معاملہ ہو، فسادات میں اجڑے ہوئے لٹے پٹے مسلمانوں کی دادرسی کا معاملہ ہو یا ان کی بازآبادکاری اور ریلیف کا معاملہ ہو، یا مظلوم مسلمانوں کی عدالتوں اور کمیشنوں کے سامنے قانونی لڑائی لڑنے کا معاملہ ہو جمعیت علماء ہند آگے بڑھ کر ہر معاملے میں مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہے، الغرض جمیعت علمائے ہند مسلمانوں کی ایک طاقتور نمائندہ تنظیم ہے اس کو ہر ریاست ہر ضلع ہر منڈل میں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،اجلاس کے اختتام پر مولانا نے شرکائے میٹنگ سے اس بات کا عہد لیا کہ ہم انشاء اللہ جمیعت علمائے ہند سے منسلک ہوکر خلوص کے ساتھ قوم و ملت کی خدمت کا فریضہ انجام دیں گے۔
اس وفد میں مولانا عبد الرحیم صاحب، مولانا محمد محبوب صاحب، مولانا محمد ربانی صاحب، مفتی محبوب محمد صاحب، حافظ معین اکبر صاحب مولانا عمران رحمانی صاحب حافظ محمد حذیفہ،حافظ عبد الصمد صاحب و دیگر موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے