بگڑتے گھروں کو بنائیں

شمشیر بے نیام

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327

آج کل اصلاحِ معاشرہ کے نام پر جلسوں کاہونا عام ہوگیاہے،کچھ جلسے پاپولریٹی کیلئے ہوتےہیں تو کچھ جلسےطاقت کے مظاہرے کیلئے کئے جاتے ہیں اور بہت کم جلسے واقعیتاً اصلاحِ معاشرے کیلئے منعقد ہوتے ہیں جو جلسے واقعیتاً اصلاحِ معاشرے کیلئے کئے جاتے ہیں وہی جلسے قابل ستائش اور قابل قبول ہیں۔مگر ایسے جلسوں کا انعقاد بہت کم ہورہاہے۔بعض موقعوں پر جلسہ اصلاحِ معاشرے کے نام پر ہوتاہے مگر کام اُ س میں اصلاح کا ہے اور نہ ہی بات اس میں اصلاح ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے میں سماجی برائیاں عام ہوتی جارہی ہے،ان کے سدھارکیلئے قول کے علاوہ فعل وعمل کی بھی ضرورت ہے،مگر ایسا بہت کم ہورہاہے۔پولیس تھانے اور عدالتوں کارخ کیجئے تو دیکھیے کہ وہاں پردرجنوں یا پھر یوں کہیے کہ سینکڑوں مسلمان وہاں پائے جاتے ہیں جو انصاف کی تلاش میں آئے ہوئےہوتے ہیں۔ازداوجی زندگی کےمسائل،پراپرٹی کے مسائل،لین دین کے معاملات،بھائی بہنوں کے جھگڑے،ماں باپ کے جھگڑے،ماں باپ اور بچوں کے جھگڑے اور یہاں تک پاس پڑوس کے جھگڑوں کو لیکر بھی پولیس تھانوں اور عدالتوں کارخ کیاجاتاہے۔ا ن عدالتوں اور پولیس اسٹیشنوں سے بچنے کیلئے مسلمانوں کو دین اسلام نے طریقے بتائے ہیں ،مگر اس پر عمل نہیں ہورہاہے۔دراصل اصلاحِ معاشرے کا دروازہ یہی ہے جسے مسلمان پہچان نہیں رہے ہیں۔اگر واقعی میں مسلمانوں کے معاشرے کی اصلاح کرنی ہے تو اس کیلئے سب سے پہلےمسلم قائدین،علماء اور قانون دان یہ فیصلہ لیں کہ ہمارےمعمولی مسائل کو لیکر ہم قومِ مسلم کو عدالتوں اور پولیس تھانوں تک جانے کیلئے موقع نہیں دینگے،اس کیلئے مقامی سطح پر لوگوں کو آگاہ کیاجائے،ان میں بیداری لائی جائے اورحل نکالنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔یہ ممکن ہے مگراس کیلئے سمجھ بوج،حکمت اور کچھ قربانیوں کی ضرورت ہے۔اندازے کے مطابق روزانہ بھارت میں مسلمانوں کے3ہزار مقدمات صرف طلاق اور خلع کو لیکر درج کئے ہورہے ہیں اور ان میں سے روزانہ 10 فیصدہی مسائل کا حل نکلتاہے،بقیہ مسائل کو حل ہوتے ہوئے سالوں سال نکل جاتے ہیں۔اس تعلق سے مسلمانوں کو بیدارکرنے کی ضرورت ہے،جب تک ان چیزوں کے تعلق سے بیداری نہیں آتی اُس وقت تک اصلاحِ معاشرہ ممکن نہیں ہے۔ساتھ ہی ساتھ ہمارے سامنے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اصلاحِ معاشرے کی ذمہ داری صرف علماء کی نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان کی ہے ،کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کو بھلائی عام کرنے کیلئےکہاہے۔جس طرح سے نمازو روزہ فرض ہے،اسی طرح سے معاشرے کی اصلاح بھی فرض ہے۔کیونکہ قرآن میں کہاگیاہے کہ”لوگو! تم برائی سے روکو اور بھلائی کاحکم دو”۔جب یہ بات واضح ہوتی ہے تو سب کیلئے اس کام کو انجام دینا فرض ہی ہے۔اس وقت سب سے اہم اور پریشان کن بات یہ ہےکہ مسلمان اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کو لیکر طلاق وخلع جیسے معاملات کو لیکرعدالتوں کا رخ کرتے ہیں،اس کے بجائے مسلمان دارالقضاء پہنچ کر اپنے مسئلےکاحل حاصل کرسکتے ہیں۔اس کیلئے فوری طورپرلائحہ عمل تیارکرناچاہیے۔قانون دانوں،بزرگ افسروں یا وظیفہ یاب ججوں کو لیکر قانونی باریکیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس طرح کے مسائل کاحل نکالیں اور دیکھیں کہ کس طرح سے اصلاحِ معاشرہ ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے