اردو اخبارات کا مستقبل اور محبین اردو کا طرز عمل

جو قوم اپنی مادری زبان سے لا پرواہ ہوجاتی ہے وہ اپنے ورثہ
سے بھی بیگانہ ہوتی ہے
آج ہم اردو سے متعلق برسر اقتدار لوگوں کو اسکا الزام دیتے ہیں کہ آزادی کے بعد اردو کو ہر سطح پر پست کر نے کی کوشیش کی گئ٫ یہ بات سو فیصد درست ہے ؛ لیکن کیا ہم خود بھی اس جرم میں برابر کے شریک نہیں ہیں؟
کیا ہم اپنی نسلوں کو اپنی تاریخ سے ناآشنا کرنے کا عمل نہیں کررہے ہیں؟
آج اردو کو مٹانے کلیے سرکاری سطح پر پوری طرح سے تیاری ہوچکی ایک بعد دیگرے ہر محکمہ اور سرکاری دفاتر سے اسے نکالا جارہا ہے ؛ دوسری طرف اردو داں طبقہ کی عدم توجہ بلکہ مجرمانہ غفلت کی بناء اردو گھرانے اپنی مزہبی تعلیمات سے ناواقف ہورہے ہیں خاص طور پر دینیات کی تعلیم سے نابلد ہوچکے الا ماشاءاللہ ٫ آج ہمارے بچے باورچی خانہ، حمام ٫ بیت الخلا سے تک ناواقف ہیں ،رکابی ودستر خوان کے مطلب
سے بھی کورے!!!۔اپنی نسلوں کو اردو تہزیب وتمدن سے شناسا کرنا اور انہیں اپنی شاندار تاریخ سے روشناس کروانہ ہوتو اردو زبان کی سب سے پہلے ہم خود حفاظت کا آغاز اپنے گھر سے شروع کریں، پورے ملک میں اردو کو فروغ دینے کلیے
اردو داں طبقہ بلخصوص مسلمانان ہند
کو چاہیے کہ انکے ہر تیسرےگھر میں اردو اخبار کی آمد لازمی ہو
اردو کا دم بھرنے والے اپنے روزانہ کے اخراجات
میں سے صرف پانچ روپیے بچاکر اردو کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔
آج اردو اخبارات انتہائ کسم پرسی کے عالم میں چل رہے ہیں سرکاری اشتہارات میں بھی اردو اخبارات نا انصافی کا شکار ہورہے ہیں اور کئ اخبارات تو ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے موقف میں بھی نہیں ہیں ہیاں تک کہ بعض تو بند ہونے کے کگار پر پہنچ چکے۔ ایسے میں ہم سب کی زمہ داری ہےکہ اپنی پیاری زبان کی حفاظت کلیے اپنا اپنا حصہ ادا کریں اور آج ہی اس بات کی ٹھان لیں کے ہم اپنے غیر ضروری اخراجات سی اجتناب کرتے ہوے اردو اخبار کے خریدار بنے گے تاکہ اردو اخبارات پھلے پھولے اور اردو باقی رہے٫ اسے ایک بیداری مہم کے طور پر سارے ملک عزیز میں نمازجمعہ کے اہم اجتماع کے موقع پر خطیب حضرات ذہن سازی کریں۔

خادم اردو
محمدعبدالحفیظ اسلامی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے