نفرت کی مشین اور نفرت پھیلانے والے روبورٹ

ازقلم: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری

آج صحافت، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کو دیکھیے تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بھکت اپنے  مشن کو کیسے کھاد پانی فراہم کررہے ہیں ۔ادھر کچھ دنوں سے الیکش کمیشن کا بگل بجتے ہی گودی میڈیا اور بھکت حرکت میں آگئے۔ان کاکام بس ان کے کام کی چیزیں دیکھان اور ذہبوں کو زعفرانی رنگ میں رنگنا ہے۔ اب یہ آپ کے ملی اور قومی شعور پر ڈپینڈ ہے کہ آپ ان ویڈیوز سے کیا کام لے سکتے ہیں ۔اپنے اور پوری قوم میں کیسے بیداری لاسکتے ہیں۔اگر خود آئینہ دکھانے کی پوزیشن میں نہیں تو  جو لوگ آئینہ لے کر کھڑے ہیں آپ ان کے آئنیوں کی ترسیل تو  کر ہی کرسکتے ہیں ۔

آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے
بھکتوں کی فوج  بس یہی کر رہی ہے، نفرت پھیلا نا، اسلامو فوبیا، مسلم نفرت،گائے گوبر، لوجہاد، مسلم لڑکیوں کو ورغلا کر ان سے شادی کرنا،استحصال کرنا، جمعہ کی نماز کو ایشو بنانا، خوف زدہ کرنا ،ڈرانا دھمکانا مسئلے پیدا کرنا ، مآب لانیچنگ، فسادات کرانا، لوٹ مار، علا قائیتregiinalusm، قومیت Nationalism  سے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینا ۔ Facebook  ،اور what’s  app ،Instagram,twitter پر غلط، جھوٹی اور اپنے مزموعہ نفرت انگیز مقاصد کے لیے ویڈیوز کی تشہیر کر نا ہے۔
یہ نفرت کے سوداگر اپنی گندی ذہنیت کو کھلے عام سوشل میڈیا پر شئیر کرتے ہیں ۔مثلاً   فیس بک کی ایک پوسٹ پر وشنو پرشاد جو فیڈرل بنک میں  کام کرتے ہیں، لکھتے ہیں  کہ” مسلمانوں کا قتل عام گجرات  کی طرح ہو”۔۔۔۔۔۔ ویڈیو بناکر اعلان کرتے ہیں کہ مسلم لڑکیوں کو کیسے پھنسا کر ان سے  شادی  کی جائے، ۔۔۔۔ بلی بائ ایپ اور سلی ڈیڈ، کرم یوگی،trending اور اس طرح کے  بہت سارے ویڈیوز کروڑوں لوگوں میں  گردش کرائے جاتے ہیں ۔ جو نفرت کی وچار دھارا کو پیش کرتے ہیں۔ آئی ئی اور جدید ٹیکنالوجی کے روبورٹ سوشل میڈیا پر نفرت کا نشہ پھیلانے میں اس قدر آگے ہیں کہ رات ڈھائی بجے ایک بڑی تعداد  اتر پردیش کی ترقی کا گن گان کرتی ہے۔یہ کون لوگ ہیں جو نیچے سے اوپر اپنی نفرت کی سو کو پرموٹ رہے ہیں؟؟؟ مسلم مشاہیر100 عورتوں کو دس لاکھ گالیاں دینے والے کس مقصد کے لیے اور کس کے آلہ کار کے طور پر سرگرم ہیں۔۔۔۔۔۔۔
مسلمانوں کا نہ اپنا کوئی میڈیا ہے نہ سیاسی قوت نی ان کی صحافتی طاقت ۔ بس ایک سوشل میڈیا  ہے جس پر کچھ افراد اور ادارے چشم کشا مضامین اور ویڈیوز اس لیے بھی پوسٹ کرتے ہیں کہ کم از کم ملت کو واقفیت حاصل ہو اور کچھ مثبت  بیداری  آئے۔
عربی مدارس کے فارغین اس طرف کم ہی توجہ دیتے ہیں وہ اسے دین کا کام نہیں سمجھتے . ان کے اپنے مسائل اور مخصوص  مزاج بھی انھیں اس سے دور رکھتا ہے۔

جاگو اور جگاؤ
کچھ سکیولر اور انصا ف پسند لوگوں کی طرف سے اور پرائیویٹ  پورٹل، ویڈیو چینل  بنانے والوں کی طرف  سےمسلمانوں کے مسائل پر کچھ ویڈیوز دیکھنے میں آتے ہیں ۔ ان کی حوصلہ افزائی اور چینل کو لائق اور سبسکرائب کرنا بھی ضروری ہے۔

دعوت، اچھے کوچاروں کی
ہماری کوشش ہو کہ ہم برادر ن وطن کے گروپس میں شامل ہوں، ان کو لے کر سدبھاؤنا منچ، دھارمک جن مورچہ اور محلہ کمیٹی کے  واٹس ایپ گروپ  بنائیں ۔ان سے افہام وتفہیم ہو، ڈائلاگ اور کتابوں کے تبادلے ہوں ۔غلط افکاراور نظریات پر نرمی سے نجات کی راہ کی طرف بلایا جائے ۔انھیں دعوتی ویب سائٹس انھیں اسلام درشن کیندر، سے جوڑنے کی کوشش کی جائے ۔ان کے اچھے کاموں  کو شئیر کیا جائے ۔سماجی کاموں میں  شرکت کی جائے ۔تعلیمی کاموں کے لیے انھیں ساتھ  لیا جائے ۔علاقائی زبانوں میں مختصر، جامع، متاثرکن، اور بروقت ایشوز کو لے کر  ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پراپ لوڈ کیے جائیں۔ بڑے پیمانے پر ترسیل کیے جائیں ۔مسلمان اور اسلام کے تئیں ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں ۔غلط ا ور نفرت بھری واشتعال انگیز وچار دھارا کے جواب میں  انسانیت ،محبت اور  ابدی فلاح  کا پیغام دیں ۔ہم سب ایک ماں باپ کا سنتان ہیں ۔آپس میں بھائی ہیں ۔ہم بھائی چارے، میل محبت، عدل وانصاف کی دعوت کو عام کریں۔

سوشل میڈیا  کا نفرت بھر پیغام سائبرکرائم نہیں

نفرت کی سیاست  کرنے والے بازیگروں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کریں ۔جو،جاتی واد، مہیلاورودھی اور نفرت کو سر عام پھیلانے میں لگے ہیں ۔ وہ جواپنے  مقاصد کو ہر طریقے سے پوری تیاری اور شدت سےپیش کرتے ہیں اور سیکولر اور صاف پسند ذہن کو کنفیوژ  کرنے میں کامیاب  ہورہے ہیں ۔ وہ نوجون ذہنوں میں  مسلم دشمنی، اسلام دشمنی بھر رہے ہیں۔وہ دھرم نرپیکش راشٹر کو ہنسا اور اس کی پراچین سبھیتا ناری سمان ,انیکتا  میں ایکتا کو نفرت اور دشمنی کی طرف  لے جارہے ہیں ۔ نفرت کی مشین بن کر دن رات اسی کو پروس رہے ہیں ۔۔ 

کہیں ظلمتوں میں گھر کر، ہے تلاش دست رہبر
کہیں جگمگا اٹھی ہیں  مرے نقش پا سے  منزل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے