دستورِ ہند اور مذہبی آزادی

ازقلم:سید ایاز ابن اعجاز، ناندیڑ متعلم اشرف العلوم حیدرآباد

ہندوستان قومی یکجہتی وہ گنگا جمنی تہذیب کاعلمبردار ہے یہ ایسا چمن ہے جہاں امن و آشتی اور اتحاد ملی کے بے شمار پھول کھلتے ہیں،یہاں کی فضاء میں محبت اور یہاں کے ہر فرد میں آپسی الفت ہوتی ہے، یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہندو ، مسلم، سکھ، عیسائی یکساں طور پر جمع ہوتے ہیں گویا ہندوستان آپسی اتحاد کا حسین سنگم ہے اور یہاں پر سارے مذاہب محترم ہیں۔

یہ وہ ملک ہے جس کو ہم نے اپنے خونِ جگر سے سینچا ہے اور اس ملک کو سب نے متحدہ طور پر جدوجہد کرکے تن کےگورے من کے کالوں سے15/اگست 1947 میں آزاد کرایا بعد ازاں جب ہمارا ملک آزاد ہوچکا تو مسئلہ ملک کی انتظامیہ، اسکے بند و بست، قوم کی رہبری اور دستور سازی کا تھا ۔ سوال یہ تھا کہ آزاد ہندوستان کا دستور مذہبی ہو یا لا مذہبی؟اکثریت پر ہو یا اقلیت پر؟
چنانچہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں مسلم اور غیر مسلم کے امتیازکے بغیر دونوں مذہب کے تعلیم یافتہ لوگ شامل تھے جن میں سے مولاناابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی، حضرت مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی،باباصاحب امبیڈکر،مہاتماگاندھی (گاندھی جی) وغیرہ سرِ فہرست ہیں۔
جب دستورِ ہند مرتب کیا گیا اسکی دفعات ترتیب دی گئی اور جبfundamentel rights بنایاگیا تو اس کا اہم ستون انسانی حقوق تھا،جس میں مذہبی آزادی،اپنے مذھبی رسم و رواج پر عمل کی آزادی،اپنے مذہبی تہوار منانے،اپنے مذہبی تشخص اور تہذیب پر خصوصیات کے ساتھ رہنے کی آزادی،اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج کی آزادی،اپنی مذہبی زبان اور تہذیب کے تحفظ کے لئے ادارے قائم کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔
جس طرح انگریزی حکومت میں مسلمانوں نے اپنے مسائل اسلامی طریقہ پر حل کرنے کی مانگ کی تھی اور اس حکومت نے شریعت ایکٹ پاس کیا تھا اسی طرح جب ہمارا ملک آزاد ہوا تو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی رہنمائی میں دستور ساز کمیٹی نے شریعت ایکٹ کو جوں کا توں برقرار رکھا اسی کو ’’مسلم پرسنل لا‘‘ کہاجاتاہے جو آج بھی ہمارے عدالتی نظام میں رائج ہے، لیکن اس کے باوجود ہماری شریعت میں مداخلت کی جا رہی ہے ہماری مساجد ومدارس کو بند کرنے کی ناپاک کوششیں کی جا رہی ہے ہمارے مذہبی تشخص کو ختم کرنے کی جدو جہد کی جا رہی ہے جب کہ آئین کے ابتدائیہ میں صاف صاف اور صریح طور پر حضرت مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی کی درد انگیز تحریر کے ساتھ یہ لکھا گیا تھا کہ”ہم ہندوستانی عوام تجویز کرتے ہیں کہ انڈیا ایک آزاد سماجوادی، جمہوری ہندوستان کی حیثیت سے وجود میں لایا جائے جس میں تمام شہریوں کے لیے سماجی،سیاسی،انصاف،آزادیِ خیال،اظہار رائے ،آزادیِ عقیدہ، مذہب وعبادات ، انفرادی تشخص کو یقینی بنایا جائے گا اور ملک کی سالمیت و یکجہتی کو قائم ودائم رکھا جائے گا“اس کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آئین میں مذہبی رسم و رواج پر عمل کرنے کی کتنی صریح طور پر آزادی دی گئی ہے لیکن نہ جانے ہمارے ملک کی تہذیب و تمدن کو کیا ہوگیا کہ آج پورے ملک میں مذہبی بے چَینی اور بدامنی بڑھتی جا رہی ہے ،بعض تنظیموں اور شخصیتوں کو یہاں کی مختلف قوموں کا اتحاد دیکھا نہیں جاتا اور وہ اسے ختم کر نے اور قانون کو بدلنا چاہتے ہیں، کبھی اذانوں پر پابندی عائد کر کے تو کبھی NRC لا کر تو کبھی 370 کو ہٹا کر تو کبھی کسانوں کے حق کو تلف کر کے حالانکہ کہ یہاں مختلف افکار و خیالات کے لوگ بستے ہیں اور یہی رنگا رنگی یہاں کی پہچان ہے اور گلشن بھی وہی خوبصورت لگتا ہے جس میں مختلف پھول ہو۔
لہذا ہمیں چاہیے کہ اس خوبصورتی کو باقی رکھیں اور ان فرقہ وارانہ پروپگنڈوں سے بچتے ہوئے قومی اتحاد واتفاق کو فروغ دیں!
علامہ اقبال نے کیا ہی خوب کہا ہے………………

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بل بلے ہیں اسکی یہ گلستاں ہمارا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے