میڈل کلاس طلبہ کا مستقبل اور کووڈ19 منظر نامہ

ازقلم: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
9224599920

وباء کے عوض میں جو صورت حال پیدا ہوئی اس کے معاشی، معاشرتی،نفسیاتی، تعلیمی اور اخلاقی قدروں پر بڑا اثر ہوا ہے۔ان دوسالوں کے طویل پر آزمائش اور عرصے میں ملک کی معیشت تو تباہ ہوئی ہی ساتھ ہی قوت خرید اور وسائل کی کمی نے مڈل کلاس کی کمرتوڑ کر رکھ دیا ہے۔
قرضوں کی اقساط کی عدم ادائیگی ،(Emi),نہ بھرے جانے پر سود در سود سے ٹوٹتی کمر۔work from home کی سہولت ملی تو پرائیویٹ سیکٹر نے تنخواہ آدھی کر دی۔لاکھوں ملازمین کی نوکریاں چلی گئی ۔ گھروں میں مبحوس افراد مالی تنگی اور نفسیاتی اثر سے چڑ چڑےاور گھریلو جھگڑوں میں اضافہ ہوگیا۔۔
سرکاری گرانٹیڈ اسکولوں کے اساتذہ کو پوری پوری تنخواہیں وقت پر برابر دی جاتی رہی۔البتہ ان ایڈیڈ اسکولی اسٹاف بری طرح متاثر ہوا اور قرض کے بوجھ تلے دب گیا۔۔والدین انگلش میڈیم کی تگڑی فیس کی ادائیگی نہ کرسکے۔ نتیجتاً ان کے بچوں کو اسکول سے خارج کردیا گیا۔اب ایسے طلبہ میونسپل اسکولوں کا رخ کر رہے ہیں ۔ ایسے طلبہ اب Anglish Medium school چھو ڑ کرvernacular medium (اردو، ہندی، مراٹھی) میں داخلہ لینے پر مجبورہیں ۔ پھر سے نئی اصطلاحوں کے ساتھ پڑھنا محنت طلب اور ان کے لیے آزمائش ہوگا۔

کارپوریشن اور گرانٹیڈ اسکول میں ڈراپ آؤٹ کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔مزدور اور کم آمدنی والے لوگ باگ بڑے شہروں سے Maigret ہو کراپنے وطن لوٹ گئے ہیں ۔
work from home لیکچر س کو آن لائن رواج دیا گیا۔ کے ۔جی ،پرائمری کے طلبہ کے ہاتھوں میں موبائل کیا پہنچا ان کی قوت تخیل اور تجسس نے سارے ایپ اور رنگین، دلکش پھلواری کی چابی انھیں تھمادی۔اب وہ موبائل کے عادی ہوگئے اور اپنے تخیل سے اور انگلی کے اشارے سے دنیا جہان کی سیر کرنےلگےہیں ۔اب ان سے موبائل کو جداکرنا خود
ایک مشکل کام ہوگیاہے ۔اب وہ پڑھائی کے علاوہ یوٹیوب اور ان پر نیٹ انجن سرچ کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں ۔Gadget Adition کی لت کا شکار ہیں ۔طلبہ متشدد، پلٹ کر جواب دینے اور بدتمیزی کرنے لگیں ہیں۔گھر میں گھرے ماحول میں زیادہ وقت گزارنے کی وجہ سے ان میں بداخلاقی ،جھوٹ بولنا، ۔ترش کلامی، ہنگامہ آرائی، نکتہ چینی، تند مزاجی، منفی سوچ، مایوسی، رقابت، نیند کی زیادتی، شدید غصہ، چھوٹے بہن بھائیوں سے جھگڑے،غیر صحت مند جذبوں کی عادت،، Anxity, comunication Disorder, انجانا خوف، وہم ووسوسے، ڈپریشن، افسردگی بہت زیادہ سوتے رہنا اور یوٹیوب پر گیمز، TV،کمپیوٹر، انٹرنیٹ کے استعمال کے عادی ہو گئے ہیں ۔اس سے ان کی آنکھوں پر مضر اثرات ہورہےہیں۔حد ہے کہ دوسال کی عمر کے بچے بھی اب بغیر موبائل کے بہلتے ہی نہیں ۔بچوں کی موبائل کی کی ضد نے والدین کو بے بس کردیا ہے۔

میٹھی رفتار کھو دیا کوئی
سیدھی رفتار کھو دیا کوئی

بحیثیت فیملی کاونسلر والدین ان مسائل کو لے پر ہم سے رجوع ہو رہے ہیں ۔
اسکول کھلیں گے تو ان کا وقت اساتذہ کی راہ نمائی میں ہردن نئی چیز اور علم سیکھنے میں گزرے گا۔ اسکول کے اساتذہ بھی چھٹیوں سے بور ہو گئے ہیں اور جلد اپنے محاذ پر ڈٹنے کے لیے بے چین ہیں۔

نقوش راہ دکھاتے چلو زمانے کو

قدم قدم پہ مسافر پریشان بیٹھے ہیں

حکومت اور تعلیمی محکمے کو اسکولوں میں دیگرجدید ٹکنالوجی اور سہولیات کے ساتھ ساتھ نفسیاتی معالج کا بھی انتطام کرنا ہوگا۔

شیرینیوں کے ساتھ ہے کچھ تلخیوں کی یاد

ہرگل، جیسے اک نہ اک کا نٹا لیے ہوئے

اسکولی نظام کی ٹائم
ٹییبل کی زندگی ، استاد کی نگرانی، شفقت، مروت اور اقدار اور عملی مشاہدات کی کمی نےاور اسکولی ماحول کے نہ ملنے سےوہ بے جان مشین کے گردان کی حلقہ بندی کرکے رکھ دی گئی ہے۔ اسکول کی تخته سیاہ کی لگی بندھی ترتیب اور روایتی طریقہ تدریس اب ان کو متوجہ اور متاثر نہیں کرسکے گا۔ ممکن ہے کہ ٹیچرس کوایسے میں نئی ٹیکنک, عمدہ توضیحات ،جدید ٹرینگ، (Teaching aids),
"anything used by teacher to helo teach a lesson or make ut more interesting to students”کےذریعے اپنی، تدریس, کو موثر بنانا ہوگا۔(affected)

ایسے ہنر کہ جن کی بدولت ملے کمال

ایسے ہنر کہ جن کے سبب سر رہیں نہال

ان دوسالوں میں طلبہ کا اکتساب کا معیار بہت ہی کمتر ہوگیا ہے۔ان میں سیکھنے کی آمادگی کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔ آن لائن طریقہ تدریس کو استاد کے غیاب میں سمجھنا، یکسوئی اور دلچسپی قائم رکھنا، نظم وضبط اور چوکس رہناان بے وسائل، طلبہ اور جاہل و غریب والدین کے بس سے باہر ہے۔بہت سے طلبہ بنیادی تصورات بھول بھال گئے ہیں۔ اب نئے سرے سے ان کو معیار مطوب تک لانے اور نصاب کو مکمل کرنے کے لیے اساتذۂ کرام کو بڑی محنت کرنی ہوگی ۔زیادہ وقت دینا ہوگا۔بالخصوص سرکاری، نیم سرکاری، ضلع پریشداسکولوں کے اساتذہ کو طالب علم مرکوز ،دلچسپ، تعلیم وتدریس کے لیے نئے جتن کرنے ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے