الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

الفاظ ومعانی کی دنیا اپنی تنگ دامانی کااحساس کرارہی ہے ۔الفاظ ڈھونڈنے سے نہیں مل رہے ہیں ،آج دل کا احساس ہی کچھ الگ ہے ،میرے مرشد گرامی امیر شریعت سابع، مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانی (رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ)جو ہند میں سرمائیہ ملت کے نگہباں تھے ،اب ہمارے بیچ نہیں رہے ،وہ ہفتوں سے بیمار چل رہے تھے ،ان کی صحت یابی کے لئے دوائیں, دعائیں اور تدبیریں سب کچھ ہوئیں ،مگر "الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا”وقت موعود آپہنچا اوروہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ،ہمیں یتیم کرگئے،ان کے گذر جانے سے اک جہاں نما سمٹ گئی ،وہ کیا گئے کہ سارا شہر ویران سا ہوگیا ۔ وہ بہت سی ذمہ داریوں کے بیچ جیتے تھے ،ان کی تربیت کا انداز ،ان کے کام کارخ ،ان کا مشن ،ان کا نظریہ، ان کی دور رس نگاہ یہ سب ہمارے لئے نقش راہ ہیں ۔
اب ہم سبھوں کی ذمہ داری ہے کہ ان امانتوں کی حفاظت کرنے والے بنیں ،ان کے چھوڑے ہوئے کام کو تکمیل کے مرحلوں سے گذاریں ،وہ اک سائباں کی طرح تھے ، ان کے ہونے سے ہم بہت سی ذمہ داریوں کی دشواریوں سے محفوظ تھے ،اب ہمیں ملت کے لئے کاندھا دینے کا شعور اپنا نا ہوگا ،وہ اپنی ہنر مندیوں سے بہت سوں کے دانت کھٹے کئے رہتے تھے ،اب ہمیں ان کے بیچ زبان دانی سے لے کر فنی وفکر اور سماجی خطرناکیوں کو سمجھتے ہوئے اس کا بروقت مناسب حل پیش کرنا ہوگا ۔
اللہ ہم سبھوں کو حوصلہ دے ،ہمیں ان کا جلد نعم البدل میسر کرے ، اور ان سے وابستہ سینکڑوں ،اداروں ،تنظیموں ،اکیڈمیوں اور خانقاہ رحمانی کے خوشی چینیوں بالخصوص خانقاہ رحمانی مونگیر ،امارت شرعیہ پٹنہ ، مسلم پرسنل لا بورڈ اور خانقاہ رحمانی کے متوسلین ،منتسبین اور مخلصین ومحبین کو شرور سے محفوظ رکھے ،ان سب کےمناسب، کام کے افراد مہیا فرمائے ،آمین یارب العالمین۔

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا

عین الحق امینی قاسمی
بیگوسراے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے