مولانا ولی رحمانی کا انتقال امت کے لیے بڑا خسارہ، تعزیتی نشست سے دانشوران کا خطاب

امیرِ شریعت کا خاتمہ، ایک عہد کا خاتمہ: قاضی عارف صاحب؛ (معاون مدرس مدرسہ اسلامیہ احمدیہ پواخالی)

پواخالی/کشن گنج: 4اپریل، ہماری آواز(نامہ نگار) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جزل سکریٹری ، رحمانی تھرٹی اور رحمانی فاؤنڈیشن کے بانی ، جامعہ رحمانی مونگیر اور درجنوں اداروں کے سرپرست ، خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجاد ہ نشیں مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کا تین اپریل دن کے ڈھائ بجے پٹنہ کے پارس ہوسپیٹل میں انتقال ہو گیا۔اناللہ وانا الیہ راجعون ۔

ایک بجے جنازہ کی نماز ادا کی گئی، مولانا عمرین محفوظ رحمانی نماز جنازہ پڑھائی جس میں لاکھوں کی تعداد میں عوام و خواص نے شرکت کی۔

آج صبح ساڑھے 10 بجے مسجد عمر نانکار میں دعائیہ نشست کا انعقاد ہوا، قاری مرشد صاحب کے تلاوت کلام اللہ سے نشست کا آغاز ہوا ۔موقع پر مولانا اسحاق صاحب صدر مدرس مدرسہ اسلامیہ احمدیہ پواخالی، ماسٹر محمود صاحب، سکریٹری الحاج محمدمصلح الدین صاحب ،قاری مرشد صاحب، محمد شاہد صاحب، حافظ ساجد عالم ،اسجد راہی ایڈیٹر قومی ترجمان وغیرہ نے امیرِ شریعت کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا کی شخصیت ہمہ جہت تھی ، ان کی پوری زندگی ملت کی خدمت سے عبارت تھی ، خانقاہ رحمانی مونگیر ، جامعہ رحمانی مونگیر ، ودهان پریشد ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، امارت شرعیہ ، اصلاح معاشرہ ، درجنوں مدارس کی سر پرستی اور رحمانی تھرٹی کے حوالہ سے جاده جادہ ان کی خدمات کے نقوش واضح اور دوپہر کے آفتاب کی طرح روشن ہیں ۔

تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے قاضی عارف صاحب نے ان کا مختصر حیات وخدمات پیش کیا۔کہ وہ ایک اصول پسند انسان تھے اور دوسروں کو بھی اصول پند ؛ بلکہ اصولوں پرعامل دیکھنا پسند کرتے تھے ، مزاج میں سنجیدگی تھی لیکن موقع بموقع اپنی ظرافت سے مجلس کو زعفران زار بھی بنانا انہیں خوب آتا تھا، ان کی قوت ارادی مضبوط اور کام کے تئیں لگن اتنی مستحکم تھی کہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے بہت لوگوں کو پسینہ آنے لگتا تھا۔ امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رح پورے ہندستان ؛ بلکہ عالم اسلام میں بھی اپنی ملی تعلیمی ، سماجی اور سیاسی خدمات کی وجہ سے خاص شناخت رکھتے تھے ، جرآت کردار استقامت على الحق اور ملت کی سر بلندی کے لئے ہردم سرگرم عمل رہنے والی اس عظیم شخصیت نے اپنی خدمات کے گہرے نقوش چھوڑے ہیں ، آل انڈیا مسلم پرسل لا بورڈ مسلم مجلس مشاورت ، امارت شرعیہ ، رحمانی تھرٹی ، رحمانی فاؤنڈیشن ، خانقاہ رحمانی ، جامعہ رحمانی مونگیر ، ویدھان پریشد کی ممبری اور اس کی نیابت صدارت کے حوالے سے آپ کی خدمات و قیع بھی ہیں اور وسیع بھی ، جس کام کو ہاتھ میں لیا ، پورا کر کے چھوڑا ۔
مولانا اسحاق صاحب نے کہا کہ کہ اس وقت ملت طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہے اور ایسے وقت میں ایک عظیم شخصیت کے داغِ مفارقت یقیناً ملت کا خسارہ ہے۔

اسجد راہی ایڈیٹر قومی ترجمان نے کہا کہ ایک عہد ساز ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیت کا اٹھ جانا علمی، ملی، تعلیمی اور سماجی عظیم خسارہ ہے۔الحاج مصلح الدین صاحب نے کہا کہ وہ ایک تحریکی مزاج آدمی تھے،جس کام کا بیڑا اٹھا لیتے اسے پایہ تکمیل تک پہونچا کر ہی دم لیتے تھے ، استقلال ، استقامت ، عزم بالجزم اور ملت کے مسائل کے لئے شب و روز متفکر رہتے تھے۔

امیر شریعت کی رحلت پر مولانا صدام القاسمی ،حافظ محمد عقیل اختر، ماسٹر محمد طحہ صاحب، مولانا راغب صاحب سمیت دیگر سرکردہ شخصیات نے اظہار تعزیت کیا ہے۔مولانا صدام حسین نے کہا کہ پورے ہندستان نے اہم امور میں آپ کی جرأت وعزیمت کا لوہامانا ۔ آپ کے پانچ سالہ دور امارت میں امارت شرعیہ نے ہر اعتبار سے ترقی کے نئے رکارڈ قائم کیے۔اللہ تعالیٰ حضرت امیر شریعت نور اللہ مرقدہ کی با ل بال مغفرت فرمائےاور مسلمانان ہندیہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ملت کو بہتر نعم البدل بھی عطا فرمائے آمین

مذکورہ دعائیہ نشست میں جہاں طلبا مدرسہ اسلامیہ احمدیہ موجود رہے وہیں کثیر تعداد میں عوام کی بھی شرکت رہی۔رقت آمیز دعا کے ساتھ مجلس اختتام پذیر ہوئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے