لال ماٹی کے لعل سپرد خاک


صحافی عبد اللطیف کی خاموشی ہمارے بیچ گونجتی رہے گی: عبد الواحد رحمانی


پٹنہ ،29 جنوری
روزنامہ راشٹریہ سہار ا پٹنہ کے معاون ایڈیٹر اور لال ماٹی (جھارکھنڈ) کے لعل آج ہزاروں نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیئے گئے ۔جمعہ کو پٹنہ میں برین ہیمریج سے ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ دو دہائیوں سے وہ روزنامہ راشٹر یہ سہارا سے وابستہ تھے ۔اپنے طویل کیریئر میں انہوں نے جس خاموش مزاجی ، سادگی اور ایمانداری کے ساتھ کام کیا ،وہ دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے ۔ وہ دیر رات اپنے بورنگ روڈ دفتر سے کام کر کے نکلے تھے ،کسی کو اندازہ نہیں تھا اب واپس نہیں لوٹیں گے ۔ وہ ایک مستند عالم دین تھے ، برسوں ’جمعیت اہل حدیث ‘دہلی سےبھی وابستہ رہے اور لکھنے پڑھنے کی خدمات انجام دیں ۔برسوں میر رفیق کار رہے ،میں جن دنوںراشٹریہ سہارا میں ریزیڈنٹ ایڈیٹر تھا ،وہ میرے ساتھ خصوصی طور پر کام میں لگے رہتے ،اپنی ذمہ داری سکون سے نبھاتے،ان کی بلند سوچ اور فکری پرواز سے میں متاثررہتا ۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا کے حال کے برزخی دور سے وہ کافی پریشان اورصحافت کے سورما بھوپالیوں کے رویے سے دکھی تھے ، ابھی چند دنوں قبل انہوں نے مجھ سے اس درد کا اظہار کیا تھا ۔ان کے چلے جانے سے صرف سہارا ہی ویران نہیں ہوا ہے ، صحافتی دنیا بھی غم زدہ ہے۔بھائی عبد اللطیف چلے گئے لیکن ان کی تواضع ،خوش اخلاقی ،سادگی ، اور خاموش مزاجی ہم سب کے بیچ گونجتی رہے گی ۔وہ تقر یبا47برس کے تھے،پسماندگان میںبوڑھے والدین ، اہلیہ، کے علاوہ ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔پروردگار مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے