مولانا ابرارالحق صاحب ،تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی


تحریر: انوار الحق قاسمی
ناظم نشر و اشاعت جمعیت علماء ضلع روتہٹ نیپال)


سن 2018ء میں عالمی شہرت یافتہ ادارہ دارالعلوم/ دیوبند کا ایک ادنی طالب علم تھا۔2018ء میری تعلیم کا آخری سال:یعنی فضیلت کا سال تھا۔ششماہی امتحان ہونے کے ایک ماہ بعد،امتحان کا رزلٹ بھی منظر عام پر آچکا تھا۔جس میں ناچیز 81/اوسط سے کامیابی حاصل کیا تھا۔ابھی رزلٹ آنے کے بعد دودن تک خوشیاں منایا ہی تھاکہ اچانک میرے بڑے بھائی مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی نے 1/فروری 2018ء بروز جمعرات 8/بجے دن میں ایک انتہائی اندوہناک اور غم ناک خبر سنایا کہ ‘بڑے بھائی مولانا ابرارالحق صاحب انتقال فرما گئے’۔یہ دل ودماغ کو یکلخت مفلوج کردینی والی خبر سن کر واقعی دو گھنٹے تک میرا دل اور دماغ بالکل کام کرنا ہی چھوڑ دیا۔پھر دوگھنٹے کے بعد درسی رفقاء کرام (جن میں مولانا محمد مستفیض الرحمان قاسمی چمپارنی،مولانا محمد تنویر صاحب قاسمی سیتامڑھی، مولانا محمد صدف سابق صاحب قاسمی پٹنوی ،مولانا نظام الدین صاحب قاسمی دربھنگوی کے اسماء شامل ہیں)کی جانب سے تعزیتی کلمات کے ذریعے دل و دماغ کو قوت ملی ۔تو ہم دونوں بھائیوں نے گھر آنے کا ارادہ ، اسی وقت گھر آنے کے لیے سفر شروع کردیا اور 2/فروری بروز جمعہ رات 10/بجے گھر پہنچ گیا۔
جب گھر پہنچا،تو گھر کا عجیب حال دیکھا،ہر چہرہ مایوس تھا۔ کل ہوکر بڑے بھائی مرحوم مولانا ابرارالحق صاحب کے آخری آرام گاہ کے پاس گیا اور مٹی دینے کے بعد ہم نے خوب دعائیں کیں۔اس وقت ہم لوگوں کے ساتھ مولانا محمد جواد عالم صاحب مظاہری،مولانا محمد صابر حسین صاحب مظاھری اور ماسٹر شعبان صاحب تھے۔ان حضرات نے ہمیں تسلی کے کلمات کہنے کے بعد صبر کی بھی تلقین کی۔
واضح رہے کہ مولانا ابرارالحق صاحب کے انتقال کا سبب زمینی تنازع تھا۔یعنی میری زمین کے ایک حصہ پر پڑوس میں رہنے والے ہندؤں نے زبردستی قبضہ کرلیا تھا،اس کی بازیابی کی جب کوششیں کی گئیں،تو ہندؤں نے تنہا دیکھ کر،ان پر ٹوٹ پڑا اور افسوس کہ مسلمان دیکھتے رہ گئے۔
انتقال کے بعد بستی کے مسلمانوں کی کیا کیفیت تھی،اسے قلم بند کرنا مناسب نہیں سمجھتاہوں۔البتہ اشارہ کردینا بہتر خیال کرتاہوں:اس حادثہ کے بعد بستی کے تمام ہندوؤں نے ان ہندوؤں کا ساتھ دیا اور گاؤں کے اکثر مسلمانوں نے بھی ان مجرم ہندوؤں ہی کا ساتھ دیا۔اس موقع سے بستی کے مسلمانوں کی جانب سے ایک سبق نہیں،کئی اسباق ملے ہیں۔
مولانا مرحوم بس 28/سال کی عمر پاکر ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ہم جملہ اہل خانہ کو ان یادیں ہمیشہ آتی ہیں۔ان کی آواز بہت ہی شیریں تھی۔جب نعت پڑھتے تھے،تو سامعین جھوم جاتے تھے اور ہر طرف سے ماشاءاللہ،سبحان اللہ کی صدائیں بلند ہوتی تھیں۔اگر وہ ابھی باحیات ہوتے،تو پورے ملک اور دیگر ممالک میں بھی ان کا نام روشن ہوتا،اللہ نے انہیں کیا خوب آواز کی دولت عطا کیا تھا۔
وہ بے انتہا ذہین تھے،ایک دفعہ کسی کتاب یا تحریر کو پڑھتے ہی اسے ذہن میں محفوظ کرلیتے تھے،یہ مبالغہ آرائی نہیں،بل کہ حقیقت بیانی ہے۔
معہد ام حبیبہ رضی اللہ عنہا للبنات جینگڑیا روتہٹ نیپال کے قیام میں ان کا نمایاں کردار ہے۔جب معہد کی بنیاد ڈال دی گئی،تو تقریباً ڈیڑھ سال تک انہوں نے اس نوخیز ادارہ کو پروان چڑھانے کے لیے بے انتہا محنتیں کیں اور اسے چھت تک پہنچاکر دنیا سے چلے گئے۔ مولانا کے جانے سے ہم لوگوں کو کافی صدمہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ معہد کی تاریخ میں مولانا مرحوم کا نام ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے اور ان کے تذکرہ کے بغیر معہد کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی ہے۔
اللہ مولانا کی تمام خدمات قبول فرمائے،درجات بلند فرمائے اور کروٹ کروٹ راحت نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین۔
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی*تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی (کیفی اعظمی)
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس *یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے (محمود رامپوری)
بلا کی چمک اس کے چہرہ پہ تھی* مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا(احمد مشتاق)۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے