انڈین مجاہدین مقدمہ (گجرات): خصوصی عدالت 11/ فروری کو سزاؤں کے تعین پر دفاعی وکلاء کی بحث سماعت کرے گی

وکلاء کو جیل میں ملزمین سے ملاقات کرنے کی اجازت عدالت نے دی

ممبئی9/ فروی
گجرات کے تجارتی شہروں احمد آباد اور سورت میں سال2008 میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمات بنام انڈین مجاہدین مقدمہ کا سامنا کررہے 28 /ملزمین کو گذشتہ کل خصوصی عدالت نے مقدمہ سے بری کردیا تھا اور عدالت نے 49/ ملزمین کو مجرم قرار دیا، آج عدالت قصور وار ٹہرائے گئے ملزمین کی سزاؤں کا تعین کرنے والی تھی لیکن جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے مقرر کردہ دفاعی وکلا ء نے سزاؤں کے تعین پر بحث کرنے کے لیئے عدالت سے وقت طلب کیا، وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ابتک انہیں فیصلہ کی کاپی مہیا نہیں کی گئی ہے اور فیصلہ سنانے کے بعد انہیں ملزمین سے ملاقات کرنے کا موقع بھی نہیں ملا ہے لہذا عدالت انہیں وقت دے تاکہ وہ ملزمین سے ملاقات کرنے کے ساتھ ساتھ فیصلہ کا مطالعہ کرسکیں۔
خصوصی جج نے دفاعی وکلاء کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے سزاؤں کے تعین پر بحث کے لیئے 11 / فروری کی تاریخ طئے کی ہے جبکہ وکلاء کو ملزمین سے سابر متی جیل میں جاکر ملاقات کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔
جن ملزمین کو عدالت نے قصور وار ٹہرایا ہے ان کا تعلق گجرات، یوپی، کرناٹک،کیرالا، مہاراشٹر،مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، راجستھان، بہار اور دہلی سے ہے اور ان پر الزام ہیکہ انہوں نے غیر قانونی طریقے سے دھماکہ خیز مادہ جمع کیا تھا اور پھر بم دھماکہ انجام دیا جس سے 56 / لوگوں کی موت ہوئی تھی جبکہ 200 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ملزمین پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ وہ ممنوع تنظیم انڈین مجاہدین اور سیمی کے ممبر ہیں اور وہ 2002 گودھرا فسادات کا بدلا لینا چاہتے تھے۔
آج کی عدالتی کارروائی کے بعد ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ دفاعی وکلاء کی کوشش ہیکہ زیادہ سے زیادہ ملزمین کو جیل سے رہائی ملے اور انہیں کم سے کم سزا ملے اسی لیئے دفاعی وکلاء نے ایک حکمت عملی کے تحت عدالت سے وقت طلب کرتے ہوئے فیصلہ کی کاپی طلب کی ہے تاکہ اس کی روشنی میں بحث کرکے ملزمین کو کم سے کم سزا دلائی جاسکے اور ان کی جیل سے رہائی کا راستہ ہموار کیا جاسکے۔
گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ سینئر ایڈوکیٹ آر کے شاہ کی سربراہی میں سینئر ایڈوکیٹ ایل آر پٹھان، ایڈوکیٹ ایم ایم شیخ، ایڈوکیٹ خالد شیخ،ایڈوکیٹ الیاس شیخ،ایڈوکیٹ نینا بین قصور وار ٹہرائے گئے ملزمین کو سزائیں کم سے کم دیئے جانے پر بحث کریں گے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ملزمین پر سی آرپی سی کی دفعات 268 کا اطلاق کرکے ملزمین کو جیل سے باہر نکلنے سے محروم رکھا ہے لہذا دفاعی وکلاء کو سابر متی جیل جاکر ملزمین سے ملاقات کرنا ہوگی۔
واضح رہے کہ گذشتہ کل خصوصی عدالت نے بم دھماکہ کرنے اور بم دھماکہ کی سازش میں ملوث ہونے جیسے سنگین الزامات سے ملزمین ۱۔ شکیب نثار احمد اعظمی۲۔ محمد عرفان نقیب منصوری۳۔ ناصر لیاقت علی پٹیل۴۔شکیل احمد عبدالسلیم مالی۵۔ندیم عبدالنعیم سید۶۔محمد سمیع راج احمد بیگیواڑی۷۔ڈاکٹر احمد بیگ خواجہ بیگ مرزا۸۔ کامران حاجی شاہد صدیقی۹۔حسیب رضا فردوس رضا۰۱۔محمد حبیب فلاحی۱۱۔محمد شاہد عثمان عبدالحمید ناگوری۲۱۔شعیب عبدالقادر۳۱۔ نوید نعیم الدین قادری۴۱۔رضی الدین نصیرالدین۵۱۔عمر اشوک کالا بھائی کبیرا۶۱۔سلیم جمال بھائی سپاہی۷۱۔محمد ذاکر عبدالحق شیخ۸۱۔مبین قادر شیخ۹۱۔محمد منصور اصغر پیر بھائی ۰۲۔ سین الدین ای ٹی محمد۱۲۔ ڈاکٹر انور عبدالغنی باغبان۲۲۔محمد یاسین فرید خان۳۲۔ڈاکٹر اسعد اللہ ابوبکر۴۲۔ محمد ظہیر ایوب بھائی پٹیل۵۲۔محمد یونس محمد شبیر منیار۶۲عبدالستار عبدالرزاق مسلم۷۲۔آفاق اقبال سید نور محمد۸۲۔ محمد منظر امام علی امام کو بری کردیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے