مسکان کو شرپسندوں سے بچانے والے اساتذہ کے لیے "مانوتا سمان” ایوارڈ کا اعلان

ممبئی میں مسلم غیر مسلم خواتین مسکان کے حق میں مظاہرہ کریں گی

ممبئی: ۱۰ فروروی
امن کمیٹی میں ملی تنظیموں کی اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں طے کیا گیا کہ کرناٹک میں جس طرح ایک برقع پوش مسلم بچی کو کچھ شرپسندوں نے ہراساں کرنے کی کوشش کی وہ انتہائی غلط، غیر دستوری اور غیر اخلاقی ہے ـ ان سب لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیئے، کرناٹک حکومت نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے اس پر احتجاج کے لئے ایک احتجاجی مظاہرہ کرافورڈ مارکیٹ چوک میں کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ 15 فروری سہ پہر ڈھائی بجے سے ساڑھے تین بجے تک بروز منگل منعقد ہو گا اس کی قیادت غیر مسلم وطنی بہینیں کریں گی ۔ شرکا نے محسوس کیا کہ یہ سوچی سمجھی سازش کے تحت الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے لئے حجاب کا تاگڑا بٹھایا گیا ہے یہ معاملہ اس سے قبل کیرالہ میں بھی پیش آیا ہے ـ کرناٹک کی طالبات کئی برسوں سے برقعہ اور حجاب میں ہی کالج جایا کرتی تھیں اب اچانک حکمنامہ کالج انتظامیہ کا تبدیل کرنا تعجب خیز ہے ـ اس مسئلہ کو ہندو مسلم اور مذہبی رنگ دینے کی کوشش نہ کی جائے یہ دستوری حق اور امن وقانون کا مسئلہ ہے ـ یہ اعلان ممبئی امن کمیٹی کے دفتر میں منعقد علما کرام عمائدین شہر اور دانشوروں کی اہم میٹنگ میں مولانا محمود دریابادی نے کیا انہوں نے کہاکہ کالج میں بچی کی حفاظت کرنے والے استاد اور عملہ کی بھی حوصلہ افزائی اور ستائش ضروری ہے ـ تمام شرکاء نے ان اساتذہ کو ملی تنظموں کی طرف سے ” مانوتا سمان ” ایوارڈ تفویض کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس میٹنگ میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ ۔ مولانا سید اطہر علی ۔ مولانا اعجاز کشمیری ۔ سرفرازآرزو ۔ ابراہیم طائی ۔ جماعت اسلامی کے عبدالحسیب بھاٹکراور سلیم بھائی ۔ پروفیسر کاظم ملک ۔ سعید خان ۔ شیعہ عالم دین فیاض باقر اورنعیم بھائی شریک تھے ۔
ملّی تنظیموں میں آل انڈیا علماء کونسل ،جماعت اسلامی ہند،جمعیت العلماء ہند، جماعت اہل سنّت ، صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ، ملّی کونسل، ممبئی امن کمیٹی، اسٹوڈنٹس اِسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا ،آل انڈیاخلافت کمیٹی،رضا فاؤنڈیشن،انجمن خادم حُسین ٹرسٹ،موومنٹ فار ہیومن ویلفیئر وغیرہ شریک ہیں۔

ممبئی کی ملی تنظیمیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے