نظم: مسئلہ ہماری شناخت سے ہے

از قلم : شیبان فائز جلگاؤں

یہ مسئلہ ہماری شناخت سے ہے
ہماری آواز ہماری شجاعت سے ہے
یہ جگر جو اس قدر بیباک ہے
ہمارے رب ، ہماری قیادت سے ہے

تھا یہ گماں سبھی کو کہ ہر جائیں گی پیچھے
ڈر جائیں گی ، سہم جائیں گی ، آجائیں گی نیچے
مگر نہ معلوم تھا ان کو یہ امت کی بیٹیاں ہیں
ان کی ماؤں نے وضوں سے کلیجے ہیں سینچے

ہم مظلوم پر شفیق تو ظالم پر غضب ہے
تاریخ اٹھالو ہماری ہم بہت عجب ہے
یہ وجود جو اس قدر بیباک نظر آتا ہے
محمد ﷺ ہے رہبر اللّٰہ ہمارا رب ہے

یہ چاہے کتنے ہی شر انگیز نعرے لگالے
چاہے تو کمضرفوں کو مسند پر بٹھالے
مگر یہ یاد رکھنا ہم نعرہ تکبیر والے ہیں
ہماری داستاں عجب ہمارے شوق نرالے ہیں

ہے شیرنیوں کو سلام کہ ڈٹ کر کھڑی ہیں
وہ جن کی آنکھ سے باطل کے دل میں دہشت پڑی ہیں
ہاں ان کا معیار کبھی نیچے آ ہی نہیں سکتا
وہ بیٹیاں جو اپنے دین پر اس قدر اڑی ہیں

یہ مسئلہ ہماری شناخت سے ہے
ہماری آواز ہماری شجاعت سے ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے