گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ: استغاثہ نے تمام ملزمین کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا

دفاعی وکلاء کل استغاثہ کی بحث کا جواب دیں گے

ممبئی 14/ فروری
گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ میں خصوصی عدالت کی جانب سے قصور وار ٹہرائے گئے 49 / ملزمین کی سزاؤں کے تعین پر آج دفاعی وکلاء کی بحث کے اختتام کے بعد سرکاری وکیل نے بحث شروع کی اور عدالت سے قصور وار ٹہراے گئے تمام ملزمین کوپھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ۔
سرکاری وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ملزمین پر بم دھماکہ جیسے سنگین الزام ثابت ہوا ہے لہذا انہیں پھانسی کی سزا دی جانی چاہئے تاکہ مستقبل میں کوئی شخص ایسی حرکت میں ملوث نہ ہوسکے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ استغاثہ نے سرکاری گواہوں کے بیانات کے ذریعہ عدالت میں ثابت کیا ہے کہ ملزمین ممنوع تنظیم انڈین مجاہدین اور سیمی سے جڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے گودھرا فسادات کا بدلہ لینے کے لیئے سورت اور احمد آباد کے مختلف مقامات پر بم دھماکے کیئے جس میں 56/ لوگوں کی جانیں تلف ہوئیں تھی جبکہ دو سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔
سرکاری وکیل کی بحث کے بعد ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے وکلاء نے عدالت سے سرکاری وکیل کی بحث کا جواب دینے کے لئے وقت طلب کیا جسیخصوصی جج اے آر پٹیل نے منظور کرلیا اور معاملے کی سماعت کل تک کے لیئے ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ گذشتہ جمعہ کو بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ خصوصی جج نے یکے بعد دیگرے تمام 49 / ملزمین کے زبانی بیانات بھی ریکارڈ کیئے تھے جس کے دوران ملزمین نے عدالت سے انہیں کم سے کم سزا دیئے جانے کی گذارش کی۔ ملزمین نے عدالت سے گذارش کی تھی کہ جیل میں گذارے گئے ایام کو ہی ان کی سزا مانتے ہوئے انہیں جیل سے رہا کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ زندگی کا آغاز کرسکیں اور اپنے اہل خانہ کے لیئے راحت کا باعث بن سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے