اشتراک ڈاٹ کام کی پہلی سال گرہ کے موقع پر سیمینار، مشاعرہ ، رسم رونمائی اور نمایش کتب

مورخہ ۲۰ ؍ فروری ۲۰۲۲ء : اشتراک ڈاٹ کام کی پہلی سال گرہ اشتراک ڈاٹ کام اور یوتھ موومنٹ ویلفیئر سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے اتر دیناج پور ( مغربی بنگال ) کے قصبہ منورہ کے ہائی اسکول کیمپس میں نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر حسب ذیل پروگراموں کا انعقاد عمل میں آیا۔
1 – سیمینار : صبح دس بجے سے سیمینار کا آغاز ہوا۔ موضوع تھا "سیمانچل میں اردو زبان و ادب”
سیمینار کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر احمد حسن دانش، سابق صدر شعبۂ اردو بی این منڈل یونی ورسٹی، مدھےپورہ نے فرمائی۔ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر قسیم اختر، اسسٹنٹ پروفیسر مارواڑی کالج کشن گنج نے انجام دیا۔ کلیدی خطبہ احسان قاسمی نے پیش کیا۔ اپنے خطبے میں احسان قاسمی نے سیمانچل یا قدیم پورنیہ ضلع کی تاریخ مہابھارت کال سے فوج داروں کے عہدِ حکومت تک اور ۱۷۷۰ء میں انگریزی حکومت کے ذریعہ ضلع بنائے جانے سے لےکر سیمانچل کی وجہ تسمیہ تک مختصر الفاظ میں بیان کرتے ہوئے یہاں کی مشہور و معروف ادبی شخصیات اور تنظیموں کا تعارف بھی پیش کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر انور ایرج، صدر شعبۂ اردو ڈی ایس کالج، کٹیہار نے سیمانچل میں اردو زبان و ادب کے فروغ میں یہاں سے شایع ہونے والے رسایل و جرائد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ارریہ سے تشریف فرما معروف صحافی پرویز عالم علیگ نے اردو زبان اور رسم الخط کو بچانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بچوں کا داخلہ ضرور انگلش میڈیم اسکولوں میں کروائیں لیکن اردو زبان اور رسم الخط سے ان کی واقفیت کو بھی لازمی بنائیں ۔
رسالہ ‘ ابجد ‘ کے بانی و مدیر اور ‘ رینو ماٹی کے کتھاکار ‘ کے مرتب رضی احمد تنہا نے دیگر باتوں کے علاوہ زبان کی صحت پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا۔ انھوں نے اس امر کو نہایت افسوسناک قرار دیا کہ جو فاش غلطیاں غیر اردو داں افراد سے سرزد ہوتی ہیں وہی غلطیاں اب اردو داں حضرات بھی عام طور پر کرنے لگے ہیں۔
ٹھاکر گنج سے تعلق رکھنے والے مشتاق نوری نے اردو زبان کے فروغ میں درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اردو بہار میں دوسری سرکاری زبان ہے۔ اس کی ترقی و ترویج کی جتنی ذمہ داری سرکار کی ہے اس سے کہیں بہت زیادہ خود ہماری ہے۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔
اسلام پور ہائی اسکول کے معلم عبد الواحد مخلص نے اتر دیناج پور ضلع میں اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے کوشاں رہنے والی کئی اہم شخصیات کے کارناموں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا.
رضوان ندوی نے احسان قاسمی کے اولین شعری مجموعہ ‘ دشتِ جنوں طلب ‘ پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے حاضرین مجلس کو یہ اطلاع بھی دی کہ حسنِ اتفاق سے آج ان کا یہ مضمون پٹنہ سے شائع ہونے والے روزنامہ ‘ پندار ‘ کے ادبی ایڈیشن میں شائع بھی ہوا ہے۔
شاہ نواز بابل نے کہا کہ سیمانچل کی ادبی وراثت کی بازیافت اہم مسئلہ ہے۔ انھوں نے نوجوان نسل کے اندر زبان و ادب کے تئیں دل چسپی پیدا کرنے کے لیے کتب خانوں کی افادیت پر روشنی ڈالی۔
کولکاتا سے تشریف فرما مولانا آزاد کالج کے معلم محمد منظر حسین نے اشتراک ڈاٹ کام کی گذشتہ ایک سال کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ طیب فرقانی کی محنت اور لگن نے اشتراک ڈاٹ کام کو قلیل مدت میں اردو دنیا کا مقبول عام ویب سائٹ بنا دیا ہے جس سے روزانہ ہزاروں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ طیب فرقانی کی پیش کش کا اپنا ایک مخصوص انداز ہے جو قاری کو پڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ کسی بھی آرٹیکل کو آنکھیں بند کر شایع نہیں کرتے بلکہ مضامین میں موجود خامیوں کو خود سے دور بھی کر دیا کرتے ہیں۔
ارریہ سے تشریف لائے دین رضا اختر نے اشتراک ڈاٹ کام کی خدمات کو سراہتے ہوئے حاضرین مجلس سے مخطوطات کو محفوظ کرنے اور انھیں الیکٹرانک میڈیا پر شیئر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسلام پور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ چودھری قیصر امام نے کہا کہ بنگال خصوصاً اسلام پور کے علاقے میں اردو پڑھنے لکھنے والوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے جس کی جانب توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔
ارریہ سے تشریف فرما معروف افسانہ نگار رفیع حیدر انجم نے سیمانچل کے عصری ادبی منظرنامے خصوصاً افسانہ نگاری کے حوالے سے اپنا مقالہ پیش کیا۔
نظامت فرما رہے ڈاکٹر قسیم اختر نے ڈاکٹر انور ایرج کی شاعری کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر احمد حسن دانش نے اپنے صدارتی خطبے میں سیمانچل کو ادب کا گہوارہ بتایا۔ اس خطے میں فوج داروں کے عہدِ حکومت سے فارسی زبان کا رواج عام رہا اور ان کے دربار سے اس زمانے کے بڑے بڑے ادبا، شعرا و علما منسلک رہے۔ یہاں گاؤں گاؤں میں فارسی زبان کے شعرا پیدا ہوئے۔ اس طرح سیمانچل کی دھرتی مختلف مقامی بولیوں کی آماجگاہ رہتے ہوئے بھی فارسی و اردو زبان و ادب کے ایک الگ دبستان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ‘ سیمانچل کے فارسی شعرا ‘ پر ان کی تحقیقی کتاب جلد ہی منظر عام پر آ رہی ہے ۔
نئ نسل کی دل چسپی کتابوں سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ زبان و ادب سے انھیں جوڑے رکھنے کے لیے الیکٹرانک میڈیا کا سہارا لینا لازمی ہو چکا ہے۔ طیب فرقانی نے نئے زمانے کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اشتراک ڈاٹ کام کی جو شروعات کی ہے وہ قابلِ ستائش بھی ہے، قابلِ تقلید بھی۔

2 – کتابوں کی رو نمائی: اس محفل میں مندرجہ ذیل کتابوں کی رونمائی کی گئی۔
۱ – سیمانچل میں اردو شاعری از ڈاکٹر احمد حسن دانش، پورنیہ
۲ – سیمانچل کے افسانہ نگار، احسان قاسمی، پورنیہ
۳ – تذکرہ شعراے کشن گنج از شاہ نواز بابل، بہادر گنج
۴ – جوہی کی کلی (افسانوی مجموعہ) نیلوفر پروین، ارریہ
۵ – الہام ہوا ہے (شعری مجموعہ) از نثار احمد
نثار دیناج پوری، گوا باڑی چین پور، اتر دیناج پور
٦ – مٹھی بھر زمین (ناول) از چودھری قیصر امام، یوسف گنج اسٹیٹ، اسلام پور، اتر دیناج پور
اصغر راز فاطمی صاحب خانگی ضرورت کے تحت دلی کے سفر میں ہیں لیکن انھوں نے اپنی دو کتابیں ‘وا نہیں ہے کوئی در’ اور ہندی شعری مجموعہ ‘چپ رہنا کیا جرم نہیں ہے’ بھجوائی تھیں جنھیں حاضرین مجلس کے درمیان تقسیم کر دیا گیا۔
جہانگیر نایاب نے بھی موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا شعری مجموعہ ‘ہوا کے خلاف` قارئین کے ہاتھوں تک پہنچایا۔
محسن نواز محسن دیناج پوری اور مفتی ذاکر حسین نوری کی مرتب کردہ کتاب ‘پیام حضور رفیقِ ملت’ محسن دیناج پوری کے ذریعہ حاضرین مجلس کو تحفتاً پیش کی گئی۔

3 – کتابوں کی نمائش : سیمانچل سے تعلق رکھنے والے مصنفین کی حالیہ دنوں میں شائع ہونے والی پچاس سے زائد کتابوں کی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا۔ نمائش کو لوگوں نے کافی پسند کیا اور سراہا۔

4 – مشاعرہ : مشاعرے کی صدارت بزرگ شاعر جناب حازم حسان نے فرمائی اور نظامت کا فریضہ جہانگیر نایاب نے ادا کیا۔ مشاعرے میں مندرجہ ذیل شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔
۱ – مشتاق نوری، ٹھاکر گنج
۲ – ممتاز نیر، ٹھاکر گنج
۳ – مبین اختر امنگ، بیگنا
۴ – حازم حسان، پلاسمنی بہادر گنج
۵ – جہانگیر نایاب، بہادر گنج
۶ – ڈاکٹر انور ایرج، کٹیہار
۷ – ڈاکٹر قسیم اختر، کشن گنج
۸ – رضوان ندوی، امور
۹ – نثار دیناج پوری، اتر دیناج پور
۱۰ – محسن نواز محسن دیناج پوری، اتر دیناج پور
۱۱ – ڈاکٹر احمد حسن دانش، پورنیہ
۱۲ – احسان قاسمی، پورنیہ
۱۳ – نجم السحر ثاقب، بلیا، کوچا دھامن
۱۴ – مبارک علمی، گنجریا، اتر دیناج پور
۱۵ – شہباز مظلوم پردیسی، اسلام پور
۱۶ – شاہنواز بابل، بہادر گنج

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی اور
جناب مسعود بیگ تشنہ نے منظوم تہنیتی پیغامات ارسال کیے۔
ڈاکٹر خالد مبشر، اسسٹنٹ پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جناب مستحسن عزم نے بھی اپنے تاثرات کا قلمی اظہار کیا۔
اختتامِ محفل پر یوتھ موومنٹ ویلفیئر سوسائٹی کے صدر جناب وسیم رحمانی اور اشتراک ڈاٹ کام کے روح رواں طیب فرقانی صاحبان نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔