زندگی کا ہر عمل کھلی کتاب میں محفوظ ہو رہا ہے

تحریر: محمدقاسم ٹانڈؔوی
09319019005

ممکن ہے کہ زیادہ ہوشیار و چالاک قسم کے آدمی اس دنیا میں کامیاب و بامراد ہو جائیں اور اپنی ہوشیاری و چالاکی کی بدولت نیک و ستودہ صفات لوگوں پر بازی مار لے جائیں؛ لیکن یہ طے ہےکہ آخرت کا ابدی سکون اور وہاں کا شاہانہ انعام و اکرام انہیں ستودہ صفات متقی اور پرہیزگار حضرات کے مقدر میں آئےگا، جو اپنی اس مختصر زندگی کو احکام خداوندی کی پابندی اور شریعت مطہرہ کی پاسداری میں گزار کر جائیں گے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
"یقینا پرہیزگاروں کےلئے بڑی کامیابی ہے‌‍‍‌؞ باغات ہیں اور انگور ہیں؞ اور ایک عمر کی نوخیز لڑکیاں ہیں؞ اور چھلکتے ہوئے جام ہیں؞ وہاں نہ کوئی لغو بات سنیں گے اور نہ کوئی جھوٹ؞ یہ سب آپ کے رب کی طرف سے بدلہ ہوگا، جو (اعمال کے) حساب سے دیا جائےگا”۔ [سورۃالنبا:31تا36]
ایسے ہی قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہےکہ:
"کہہ دیجئے کہ اے میرے ایمان والے بندوں! اپنے رب سے ڈرو، جنھوں نے اس دنیا میں اچھے کام کئے؛ ان کےلئے اچھائی ہے، اور اللہ کی زمین بڑی کشادہ ہے، یقینا صبر کرنے والوں کو ان کا بدلہ پورا پورا بےحساب دیا جائےگا” [سورۃالزُّمر:10]
قرآن و حدیث میں جابجا مؤمن کا آخری ٹھکانہ اور اس کی آخری قرار گاہ جنت کو بتایا گیا ہے، اس لئے ایک مؤمن کامل کی طلب صادق ہمیشہ یہی رہنی چاہئے کہ میری زندگی کا کوئی لمحہ اور وقت کا ایک ثانیہ بھی ایسا نہ گزرے، جو رضا الہی کی جستجو کے بغیر، حصول جنت کے پختہ اسباب و عوامل سے خالی اور بروز قیامت رب کی ملاقات و عنایات سے محروم کر دینے والا ہو؟ اور مؤمن بندہ کے قلب و جگر کی تختی پر ہر وقت یہ بات نقش رہے کہ: ہمارا حقیقی محافظ و نگراں ہمارا رب ہے، جو ہر وقت گھات میں لگا ہے، اور ہمارا کوئی بھی فعل و عمل اس سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، وہ "علیم و خبیر” ہونے کے ساتھ ہماری ابتدا و انتہا کا مالک بھی ہے "ھُوَ یُبدِئُ و یُعِیدُ” جو مجرموں کو تو سخت سزا دینے والا ہے؛ مگر اطاعت و فرمانبرداروں کے حق میں بڑا مہربان ہے، کیونکہ وہ اپنی صفات "ھُوَالغَفُورُالوَدُودُ” کا حامل و قائل ہے۔ اس لئے اہل ایمان کو اس طرف مکمل غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے؛ کہ ان کی وسیع نظروں کا زاویہ اور فکری وسعتوں کا دائرہ اسی مقصود اصلی کا طواف کر رہے ہیں یا نہیں؟ اس لئے کہ دار آخرت کی تمام نعمتیں اور وہاں کا حقیقی آرام و آسائش انھیں کے مقدر میں آئیں گے جن کے دل کی کیفیت ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال ہوگی اور وہ بن دیکھے اللہ سے ڈر کر اپنی زندگی کو گزارا ہوگا۔
لہذا اس زندگی کے تئیں ہمارا تصور بس اتنا ہونا چاہئے کہ ہمارا قیام اس دنیا میں چند روزہ ہے، اور وہ بھی امانت و عاریت کے طفیل ہمیں بخشا گیا ہے، نیز امانتوں کے سلسلے میں جو الہی تاکید واضح کر دی گئی ہے، وہ بھی ہمیشہ دامن گیر رہے کہ ان کی بابت رتی رتی کا حساب ہوگا، اگر امانت کے ضائع و برباد کرنے میں ذرہ برابر بھی کوتاہی و لاپرواہی برتی گئی ہوگی تو اس کی سزا بھگتنی ہوگی اور صاحب معاملہ کو اس کی بھرپائی کرنی ہوگی۔ اس لئے اہل ایماں کو اپنی اس حیات مستعار کو گزارنے میں اس کے اوقات و لمحات کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے؛ جس کی تفصیل یہ ہےکہ:
"بالآخر یہاں سے ہر ایک کو پلٹ کر اپنے مالک حقیقی سے ملاقات کرنی ہے، یعنی ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ہم اس دنیا میں یوں ہی فضول و بےمقصد بھیج دئے گئے ہیں اور ہمیں یہاں سے پلٹ کر بھی نہیں جانا ہے۔ نہیں؛ ایسا ہرگز نہیں ہے، قرآن اس کی نفی کرتا ہے اور اس سلسلے میں سورۃ المؤمنون میں اللہ کا یہ ارشاد مذکور ہے:
"کیا تم نے یہ جان رکھا ہے کہ ہم نے تم کو یوں ہی پیدا کر دیا ہے اور تم پلٹ کر ہمارے پاس نہیں آؤگے”؟ [23/115] اس آیت کریمہ کی روشنی میں دو باتیں یقینا طے ہو جاتی ہیں کہ نہ تو انسان کی پیدائش فضول و عبث ہے اور نہ ہی کسی انسان کو ہمیشہ اس دنیا میں رہنا ہے؛ بلکہ اس کی زندگی کا ایک مقصد ہے، جسے قرآن میں دوسری جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے:
"(اے نبی ﷺ!) آپ یاد دہانی کراتے رہیے، اس لئے کہ یاد دلانا ماننے والوں کو نفع پہنچاتا ہے؞ اور میں نے انسانوں اور جناتوں کو تو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت و بندگی کریں” [سورۃالذّٰریٰت:55-56] قرآن کی اس آیت میں صاف طور پر فرما دیا گیا کہ انسان کی پیدائش کا مقصد اللہ رب العزت کی بندگی ہے، جب مقصد زندگی ہمارے سامنے آ گیا تو اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی اس زندگی کو ایسے امور کی انجام دہی میں صرف کریں، جو ایک طرف تو مقصد کی تکمیل میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہوں اور دوسرے وہ اعمال و افعال ہمیں بروز قیامت ندامت و شرمندگی سے بھی محفوظ و مامون کرنے والے ہوں۔ لہذا یہ بندگی احکام و فرامین کی بجاآوری کا تقاضہ کرتی ہے، اس کی یہ بندگی ہر موقع پر طاعات و فرمانبرداری کا اظہار اور اللہ پاک کی عطا کردہ نعمتوں پر سجدہ ریزی کا سبق ہمیں دیتی ہے، ارتکاب معاصی اور بغاوت و منافقت سے کنارہ کش ہونے اور اس کی طرف سے مقرر کردہ حدود کی خلاف ورزی سے خود کو محفوظ رکھنے کا مطالبہ کرتی ہے اور زندگی کے ہر موڑ پر خواہ موقع رنج و غم کا ہو یا فرحت و شادمانی کا، حالات موافق ہوں یا مخالف اور صحت و تندرستی حاصل ہو یا ضعف و لاغری سے واسطہ لاحق ہو؛ ہر حال میں خود کو شکر خدا کا عادی، عبادت الہی میں خود کو مستغرق رکھنے اور خلاف فطرت و طبیعت امور سے دوری بنائے رکھنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ نرمی و گرمی کا احساس و ادراک اور حالات زمانہ کی طرف نظر و فکر کئے بغیر ہمیں اسی ایک دربار عالی کا محتاج و نیاز مند بن کر چمٹے رہنا ہوگا، جہاں سے تمام مخلوق کے واسطے ہر دن رزق کے دروازے کھولے جاتے ہیں، اسی ایک پالنہار کی دہلیز کا بھکاری و سوالی بن کر اپنے تمام مسائل و مشکلات حل کرانے اور رنج و الم کو زائل کرنے کےلئے اسی کے در پر ڈیرا ڈالنا ہوگا، جہاں سے تمام بیماروں کی صحت یابی کے فیصلے صادر ہوتے ہیں، تنگ دستوں اور فاقہ کشوں کو تونگری سے نوازا جاتا ہے اور غربت و افلاس کی دلدل میں زندگی گزارنے والوں کی دستگیری و راہنمائی فرمائی جاتی ہے۔
اور بروز قیامت رب کی ملاقات کی بابت ہمیں یہ عہد باندھنا ہوگا کہ اس دن کی ملاقات کا انجام دو ہی شکلوں میں ہر ایک کے سامنے آنا ہے؛ یا تو اس نے خود کو "جنّٰت نعیم” کا مستحق بنایا ہوگا، جہاں ہر قسم کا راحت و سکون میسر اور دلی تمناؤں کی تکمیل ہوگی، یا پھر خود کو "نار جہنم” کی خار دار وادیوں کا مسافر بنا کر اس دنیا سے پلٹا ہوگا، جہاں وہ ہر وقت موت موت چلا رہا ہوگا اور دردناک و وحشتناک تکالیف کے سبب سِسک اور کراہ رہا ہوگا۔ سو کتنے خوش نصیب اور فیروز بخت ہوں گے وہ حضرات جو اپنا ٹھکانہ اسی دنیا میں رہ کر خود کو پہلی والی کیٹیگری میں شامل و داخل کرکے یہاں سے پلٹے ہوں گے اور کتنے بدبخت و بدقسمت ہوں گے وہ لوگ جو خود کو جہنم کا ایدھن و خوراک بنا کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہوں گے۔
اوپر قرآن حکیم کی جس آیت کریمہ میں جنت اور جنت کی نعمتوں سے جن لوگوں کو لطف اندوز ہونے کا موقع ملےگا؛ ان کا وصف اور خاص علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ تقوی شعار اور پرہیزگاری اختیار کرنے والے ہوں گے۔ اور تقوی نام ہے اللہ کا ڈر و خوف اور اس کی خشیت دل میں پیدا کرنے اور سمانے کا، بدوں خشیت و تقوی جنت کی نعمتیں اور لقاء رب ممکن نہیں۔ اب جو سمجھنا چاہے، سمجھے اور خوف خدا اپنے دل میں اتار کر اپنی زندگی کے نشیب و فراز اور گردش لیل و نہار پر غور و فکر کرنے کے بعد عبرت و نصیحت پکڑے اور خود کو اس جنت کا مکین بنائے جس کا کوئی ثانی و متبادل نہیں اور جو نہ سمجھنا چاہے، اس کےلئے بھی راہیں کھلی ہیں وہ بھی اس عارضی زندگی کا مالک و مختار ہے، وہ جو چاہے کرے اور جہاں چاہے منہ مارے؛ لیکن اتنا یاد رہے کہ: جو بھی یہاں اچھے یا برے عمل کرکے جائےگا، ان کے اثرات و نشانات چھوڑ کر جائےگا۔ اب اگر ان اعمال کا تسلسل باقی رہا تو یہ اعمال یا تو اس کے حق میں خیر و بھلائی کا ذریعہ بنیں گے یا شر و فساد کا سبب ہوں گے۔ چنانچہ پہلی صورت میں تو صدقہ جاریہ بن کر ثواب ملےگا اور دوسری حالت میں وبال جان بن کر عذاب سہنا ہوگا، "کُلَّ شَیْئٍ أَحْصَیْنٰہُ فِیْٓ إِمَامٍ مُّبِیْنٍ” کہ ہم نے ہر چیز کو ایک کھلی کتاب میں گن کر رکھا ہے۔[سورہ یٰس:12]
(mdqasimtandvi@gmail.com)