ہجرت حبشہ مشکل حالات میں راہنمائی کا نمونہ!

تحریر: محمد ابوبکر عابدی قاسمی ندوی
موبائل نمبر : 8271507626

ہجرت حبشہ اسلام میں پہلی ہجرت تھی، یہ ہجرت جن حالات میں ہوئی وہ اسلام، پیغمبرِ اسلام اور جانثار مسلمانوں کے لئے صبر آزما اور حوصلہ شکن تھا، قریش کی مخالفت کا طوفان، طنز اور دشنام طرازی کی حدوں سے گزر کر جسمانی اذیتوں، ناقابلِ برداشت زیادتیوں اور قتل و غارت گری میں داخل ہوچکا تھا، ایمان آزمائش میں اور جان خطرے میں تھی، ان حالات میں پیغمبرِ اکرم صلی الله عليه وسلم کے لیے ایک ہی راستہ تھا کہ اپنے ساتھیوں کو مکہ مکرمہ چھوڑ کر کہیں اور چلے جانے کا حکم دے دیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ انتخاب بر اعظم افریقہ کے ملک حبشہ پر اٹھی، اگرچہ اس ملک کا بھی سرکاری مذہب عیسائیت تھی؛ مگر وہاں کا حکمراں انصاف پسند تھا، عرب اور حبشہ کے درمیان سمندر حائل تھا، وہاں سے مہاجرین کو واپس لانا آسان نہ تھا، چنانچہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک حبشہ ہجرت کرجانے کا حکم دیا، لہذا ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق جب دربار رسالت سے ہجرت کا حکم صادر ہوا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار ساتھی حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حبشہ کے لئے روانہ ہوگئے، ان میں گیارہ مرد اور پانچ عورتیں شامل تھیں ۔ یہ ہجرت نبوت کے پانچویں سال ماہ رجب میں ہوئی اور یہ کل سولہ افراد پر مشتمل تھے، جب یہ حضرات حبشہ جانے والے سمندر کے ساحل پر پہنچے تو دو کشتیاں مل گئی جس پر سوار ہوکر یہ لوگ چلے گئے، کفار مکہ تعاقب میں نکلے لیکن ناکامی ملی، اور نجاشی بادشاہ نے ان کا خیر مقدم کیا ۔ کفار قریش کو جب یہ بات معلوم ہوئی کہ شاہ حبشہ نے ان کا خیر مقدم کیا ہے تو یہ بات ان کو ہضم نہیں ہوئی، اور یہ ٹھان لیا کہ ان کو ہر حال میں حبشہ سے واپس لے کر آنا ہے، اہل مکہ کا حبشہ سے تجارتی تعلقات کافی مضبوط تھا، چنانچہ عمرو بن العاص اور عبد اللہ ابن ربیعہ کو تحفہ تحائف دے کر بادشاہ کی خدمت میں بھیجا گیا، لہذا وفد قریش دربار کے وزراء کے ذہن کو اپنے قبضہ میں کرلیا اور نجاشی بادشاہ کی خدمت میں بھی تحائف پیش کیا، پھر اپنا مدعا پیش کیا، کہ ” چند بے وقوف نوجوان اپنے قومی دین کو چھوڑ کر آپ کے ملک میں آگئے ہیں مگر آپ کے دین میں داخل نہیں ہوئے ہیں بل کہ ایک ایسے دین کی اتباع کرتے ہیں جس سے نہ ہم واقف ہیں اور نہ آپ، ان کی قوم کے بزرگوں نے ہمیں آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ آپ ان کو لوٹا دیں؛ کیوں کہ وہی لوگ ان کے سرپرست ہیں، وہی جانتے ہیں کہ ان میں کیا عیب ہے اور کیوں ان سے ناراض ہیں ” نجاشی سے وفد قریش نے بغیر کسی گفتگو کے مہاجرین حضرات کو حوالہ کرنے کی درخواست کی اور تمام وزراء نے اس کی تائید بھی کی جس سے شاہ حبشہ غضبناک ہوگئے اور کہا کہ جب تک میں ان سے بلا کر سوال نہ کرلوں ہر گز میں تمہارے حوالہ نہیں کرونگا، لہذا جب نجاشی نے صحابہ کرام کو بلاکر وزراء، علماء، مشاہدین، مدعی اور مدعا علیہ سے بھرے مجمع میں وفد قریش کے مقدمہ کو رکھا تو مہاجرین کے قائد حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے اپنے دفاع میں نجاشی بادشاہ کے واسطے سے ان کے سامنے تین سوال رکھے ۔
1 کیا ہم کسی کے غلام ہیں؟ جو بھاگ کر آگئے ہیں؛ اگر ایسا ہے تو ہمیں ضرور واپس کیا جائے، نجاشی نے عمرو بن العاص سے جواب طلب کیا تو اس نے کہا کہ نہیں بل کہ یہ لوگ آزاد اور شریف ہیں ۔
2 کیا ہم نے کسی کو قتل کیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں مقتول کے ورثاء کی طرف ضرور حوالہ کردیا جائے، نجاشی نے عمرو بن العاص سے جواب طلب کیا تو اس نے جواب دیا کہ نہیں، انہوں نے کسی کا ایک قطرہ خون بھی نہیں بہایا ہے ۔
3 کیا ہم کسی کا مال لے کر بھاگ آئے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہم مال ادا کرنے کے لئے تیار ہیں، نجاشی نے جواب طلب کیا تو اس نے کہاکہ نہیں انہوں نے ایک پیسہ بھی کسی کا نہیں لیا ہے ۔
حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے قریش کے الزامات کے رد میں جو سوالات اٹھائے تھے وہ اتنے معقول، برمحل اور عام ذہن کو قبول کرنے والے تھے کہ عدالت میں موجود ہرشخص نے مہاجرین کی بے گناہی اور کفار کی ایذا رسانی کو تسلیم کرلیے تھے؛ لیکن پھر بھی شاہ حبشہ نے مقدمہ کو خارج نہیں کیا، بل کہ ان سے مزید سوالات کیے کہ آخر تم نے کون سا دین اختیار کیا ہے جو نہ ہمارے مذہب میں ہے اور نہ دنیا کے دوسرے مذہب میں ہے ۔ اس سوال کے جواب میں حضرت جعفر طیار نے اپنے دینی موقف اور مذہبی تعلیم کی وضاحت نہایت معقولیت اور بصیرت آمیز لہجہ میں دیا ۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ : ” زمانہ جاہلیت میں جتنے غلط کام ہم کرتے تھے ان سے پیغمبر اکرم صلی الله عليه وسلم نے منع فرمایا اور خداوند لاشریک کی پرستش کا حکم دیا اور بتوں کی عبادت سے مکمل طور پر منع کردیا "
لہذا ہم ان پر ایمان لے آئے، ہمارا صرف یہی جرم ہے جس کی بنا پر ہماری قوم نے ہم سے دشمنی کی ہے ۔ نجاشی اور ان کی عدالت عالیہ جب مطمئن ہوگئی کہ قریش کا الزام غلط ہے اور مسلمانوں کا بیان درست ہے تو نجاشی نے آخری سوال کیا کہ جس خدائی حکم اور تعلیم کا تم حوالہ دے رہے ہو اس کے متن کا کوئی حصہ تمہارے پاس موجود ہے؟ تب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا جی ہاں موجود ہے اور موقع کی مناسبت سے سورہ مریم کی ابتدائی رکوع کی تلاوت کی جس کو سن کر بادشاہ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی، اور کہا کہ یہ تعلیم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم ایک ہی سرچشمہ نور کی ضیا پاشیاں ہیں، اور وفد قریش سے کہا کہ تم واپس چلے جاؤ، میں ان لوگوں کو ہرگز تمہارے حوالہ نہیں کرونگا ۔

قریش کے نمائندے مقدمہ ہار گئے مگر پھر بھی پیچھے نہیں ہٹے اور اگلے دن حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق کہا کہ یہ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو عبد یعنی بندہ سمجھتے ہیں؛ تو بادشاہ نے پوچھا کہ تم حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق کیا عقیدہ رکھتے ہو؟ چنانچہ بھڑی عدالت میں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ” ہم ان کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے کہا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور ان کے رسول ہیں اور ان کے روح اور کلمہ تھے جسے کنواری مریم پر اللہ نے القاء کیا تھا ” نجاشی نے یہ سن کر زمین سے ایک لکڑی اٹھائی اور کہا کہ جو تم لوگ بتائے ہو حضرت عیسی علیہ السلام ان سے ایک لکڑی کے برابر بھی مختلف نہیں تھے، اور مہاجرین سے کہا تم لوگ جاؤ اور میرے ملک میں امن و سکون کی زندگی بسر کرو اور جو تم پر زیادتی کرے گا ان سے مؤاخذہ ہوگا ۔
پہلی بار اجنبی ملک میں یہ پہلا مقدمہ تھا جو مسلمانوں نے جیتا تھا اور 15 سال تک حبشہ میں مقیم رہے اور سنہ 7 ہجری میں فتح خیبر کے موقع پر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی معیت میں مدینہ تشریف لے آئے ۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ صحاہ کرامؓ مکی زندگی میں کفار و مشرکین سے عاجز آکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ملک حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے، لہذا اگر اج بھی حالات ایسے پیدا ہوجائیں کہ شریعت مطہرہ پر عمل کرنا دشوار ہوجائے، اور ایمان آزمائش میں اور جان خطرے میں پڑ جائے تو ہجرت کرنا درست اور صحیح ہے اور وہ ثواب کا بھی مستحق ہوگا ۔