7/11ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملہ: خصوصی بینچ کی تشکیل کے لیئے وکلاء رجسٹرار بامبے ہائیکورٹ سے رجوع

ممبئی: 28/ فروری
7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے کی سماعت جلداز جلد کیئے جانے کے لیئے آج دفاعی وکلاء نے بامبے ہائیکورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ایک درخواست بھی دی جس میں تحریر ہے کہ اس مقدمہ کی سماعت کے لیئے خصوصی بینچ کی تشکیل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ مقدمہ اتنا بڑا ہے کہ فریقین کو بحث مکمل کرنے میں کم از کم چار ماہ کا وقت درکار ہوگا۔
ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے وکلاء کی ٹیم کے رکن ایڈوکیٹ انصار تنبولی نے ممبئی ہائی کورٹ کے رجسٹررار سے ملاقات کرکے انہیں ایک درخواست دی جس پر دفاعی وکلاء اور وکلاء استغاثہ کی مشترکہ دستخط ہے۔وکلاء نے رجسٹرار سے گذارش کی کہ اس مقدمہ کی سماعت کے لیئے خصوصی بینچ تشکیل دی جائے جس طرح سے 26/11 بم ددہشت گردانہ حملہ کی سماعت کرنے کے لیئے کیا گیا تھا۔ رجسٹرارسے مزید درخواست کی گئی کہ بینچ کی تشکیل کرنے سے چھ ہفتہ قبل وکلاء کو مطلع کیا جائے کیونکہ اس معاملے میں ملزمین کا دفاع کرنیکے لیئے دہلی اور چنئی سے سینئر وکلاء بحث کرنے کے لیئے ممبئی آئیں گے لہذا انہیں بحث تیار کرنے کے لیئے وقت درکار ہوگا۔
رجسٹرار کو مزید بتایا کہ گیا کہ مقدمہ جب بھی کسی بینچ کے سامنے سماعت کے لیئے پیش ہوتا ہے مقدمہ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے بینچ سماعت ملتوی کردیتی ہے اور گذشتہ سماعت پر ہی دو رکنی بینچ کے جسٹس پرتھوی راج چوہان اور جسٹس سادھنا جادھو نے فریقین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ خصوصی بینچ کی تشکیل کے لیئے رجسٹرار سے رجوع کریں کیونکہ ریگولر بینچ پر اس مقدمہ کی سماعت کرنا ممکن نہیں ہے۔
رجسٹرار بامبے ہائی کورٹ نے درخواست کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے ایڈوکیٹ انصار تنبولی کو کہا کہ وہ چیف جسٹس سے مشورہ کرکے فریقین کو مطلع کریں گے۔
اسی درمیان دفاعی وکلاء نے سی آر پی سی کی دفعہ 294 کے تحت ایک عرضداشت داخل کرکے استغاثہ سے مطالبہ کیاہیکہ وہ اس مقدمہ کا حصہ بننے والے چند دستاویزات کو قبول کریں یا انہیں مسترد کریں، اگر استغاثہ ان دستاویزات کو قبول کرلیتا ہے تو وہ عدالت کے ریکارڈ کا حصہ ہوجائیں گے اور اگر استغاثہ ان دستاویزات کو قبول کرنے سے انکارکردیتا ہے تو دوران بحث دفاعی وکلاء کو ان دستاویزات کو عدالت میں ثابت کرنا پڑیگا،26ایسے دستاویزات ہیں جن پر دفاعی وکلاء بھروسہ کرنے والے ہیں۔
واضح رہے کہ خصوصی مکوکا عدالت کے جج وائی ڈی شندے نے ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچ ملزمین احتشام قطب الدین صدیقی، کمال انصاری، فیصل عطاء الرحمن شیخ، آصف بشیر اور نوید حسین کو پھانسی اور 7/ ملزمین محمد علی شیخ، سہیل شیخ، ضمیر لطیف الرحمن، ڈاکٹر تنویر، مزمل عطاء الرحمن شیخ،ماجد شفیع، ساجد مرغوب انصاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ایک ملزم عبدالواحد دین محمد کو باعزت بری کردیا تھا، گذشتہ برس کرونا کی وجہ سے کمال انصاری کی ناگپور جیل میں موت ہوچکی ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹرا