کامیابی کی ایک شرط تیاری اور جہد مسلسل

تحریر: نقی احمد ندوی، ریاض، سعودی عرب

ہم میں سے بیشتر لوگ کوئی بھی کام کرتے ہیں مگر اس کام کو کرنے سے پہلے ضروری تیاری نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہمیں بہت سے مقاصد میں ناکامی ہوتی ہے۔
امتحان کا وقت قریب آچکا تھا، پروفیسر نے طلباء کو بتادیا تھا کہ ٹیسٹ ہونے والا ہے۔ ہاسٹل کے کچھ طلباء کی تیاری نہیں ہوپائی تھی، انھوں نے ٹیسٹ کو مؤخر کرنے اور تیاری کے لیے کچھ اور وقت حاصل کرنے کا پلان بنایا۔ وہ لوگ صبح سویرے پروفیسر کے چیمبر میں پہنچے، گاڑی میں استعمال ہونے والی گریس اپنے ہاتھپاؤں میں لگا لی اور کپڑے گندے کرلیے۔ پھر پروفیسر سے کہا کہ کل رات ہم لوگ ایک دوست کی شادی میں گاڑی سے گئے تھے۔ واپسی میں گاڑی خراب ہوگئی، ٹائر پنکچر ہوگیا، لہٰذا ہم سب دھکا لگاتے ہوئے گاڑی ہاسٹل تک لائے، چونکہ دیر ہوچکی تھی اس لیے ٹیسٹ کی تیاری نہیں ہوپائی۔
پروفیسر نے غور سے سنا اور کہا کوئی بات نہیں۔ تین دن بعد آپ لوگوں کا ٹیسٹ ہوگا۔ ٹیسٹ کا دن آیا تو پروفیسر نے چاروں طلبہ کو الگ الگ روم میں بٹھا دیا، وہ لوگ خوش تھے کہ تیاری اب مکمل ہے کوئی بات نہیں، جب ان لوگوں نے ٹیسٹ پیپر دیکھا تو ان کے ہوش اڑگئے، اس میں صرف دو سوال تھے:
سوال نمبر:1 نام(1نمبر) سوال نمبر:2 کون سا ٹائر پنکچر ہوا تھا؟(99نمبر)
اس کہانی سے سبق یہ ملتا ہے کہ تیاری وقت پر مکمل کریں اور ذمہ داری کے ساتھ دانشمندانہ فیصلے کیا کریں۔ وقت پر تیاری نہ ہو تو نتیجہ ایسا ہی آتا ہے۔
ایک کسان کے پاس ایک خرگوش اور ایک کتا تھا۔ اس نے ایک دن دونوں سے کہا کہ میں نے اس کھیت میں دس گاجر اور ایک بڑی سی ہڈی چھپا دی ہے۔ جو اسے پہلے ڈھونڈ لے گا وہ ریس میں جیت جائے گا۔ خرگوش کو گاجر اور کتے کو ہڈی کے سوا اور کیا چاہیے۔ دونوں میں ریس شروع ہوئی، تھوڑی دیر بعد کتا سونگھتے سونگھتے ایک جگہ جاکر بیٹھگیا کہ اس پورے کھیت میں ایک ہڈی کو ڈھونڈنا آسان کام نہیں۔ خرگوش ایک جگہ کھودتا، گاجرنہیں ملتی تو دوسری جگہ کھودتا، وہ سوچتا تھا کہ کم سے کم یہ تو پتہ چل گیا کہ اس جگہ پر گاجر نہیں ہے۔ میرے مشن میں ایک جگہ تو کم ہو ہی گئی۔ وہ گڈھے کھودتا رہا، ڈھونڈتا رہا یہاں تک کہ اس جگہ پہنچ گیا۔ جہاں پر کتا ہمت ہار کر بیٹھ گیا تھا۔ وہاں اس نے کھودا تو گاجر اور ہڈی دونوں عین اس کتے کے نیچے پوشیدہ تھا، آخر کار خرگوش نے ریس اپنی محنت سے جیت لی۔
کتے کو سونگھنے کی فطری صلاحیت ہوتی ہے، چنانچہ وہ صحیح جگہ پر پہلی ہی دفعہ میں پہنچ چکا تھا مگر اس کی کاہلی اور محنت چوری نے اسے ریس میں ہرا دیا۔
کچھ لوگوں کے اندر صلاحیت اور قابلیت، ذہانت اور فطانت اور مطلوبہ تمام وسائل موجود ہوتے ہیں مگر محنت نہیں کرتے جس کا نتیجہ نہ صرف امتحانات اور ٹیسٹ میں ناکامی بلکہ ایک روشن مستقبل سے محرومی کی صورت میں ہمیشہ آتا ہے۔ اسی لیے امریکہ کے ایک صدر کالوین کولیج(Calvin Coolidge 1872-1933)نے کہا تھا کہ ”کوئی بھی چیز تسلسل اور عمل پیہم کی جگہ نہیں لے سکتی، ٹیلنٹ بھی نہیں۔ یہ دنیا ایسے ناکام لوگوں سے بھری پڑی ہے جن کے پاس ٹیلنٹ ہے۔ ناکام ذہین لوگ تو ایک کہاوت ہی بن چکی ہے۔ ایجوکیشن بھی نہیں، اس دنیا میں نہ جانے کتنے پڑھے لکھے تعلیم یافتہ لوگ بے گھر، بے کار اور مفلس ہیں تسلسل اور عزم محکم ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے جیت حاصل ہوسکتی ہے۔“
جب آپ کسی مقصد کو حاصل کرنے کی عزم کریں تو سب سے پہلے اس کے لئے ضروری تیاری کریں اور جب شروع کردیں تو منزل تک پہونچنے سے پہلے اس کو کسی بھی قیمت پر نہ چھوڑیں اور یہی کامیاب لوگوں کی صفت ہوتی ہے۔