نومنتخت ممبر پارلیمنٹ مفتی محمد خالد صدیقی نے سنگھ دربار میں لیا حلف

جمعیت علماء نیپال کے مرکزی دفتر میں اپیندر یادو اور مفتی محمد خالد صدیقی کا ہوااہم خطاب!

انوار الحق قاسمی
(ناظم نشر و اشاعت جمعیت علماء ضلع روتہٹ نیپال)

بتاریخ 26/جنوری 2022ء بروز بدھ راشٹریہ سبھا صوبہ نمبر 2 کے اوپن سیٹ پر صدرِ جمعیت علماء نیپال مفتی محمد خالد صدیقی کو ایک بڑی کامیابی(6678 /ووٹوں کے ذریعہ)ملی۔اور کل بتاریخ 5/مارچ بروز سنیچر کاٹھمانڈو کے سنگھ دربار میں تقریب حلف برداری منعقد ہوئی،جس میں صدر جمعیت علماء نیپال مفتی محمد خالد صدیقی نے تقریباً 12/بجے راشٹریہ سبھا کے عہدہ کا حلف اٹھایا۔تقریب حلف برداری میں شرکت کرنے والے جملہ رہنماؤں اور لیڈروں کو مخاطب کرتے ہوئے صدرِ جمعیت مفتی محمد خالد صدیقی نے کہا:کہ آپ تمام سے گزارش ہے کہ بندہ کا ہر پل اور ہر لمحہ ساتھ دیں اور مجھے امید قوی ہے کہ آپ حضرات ساتھ بھی دیں گے ۔
اور پھر شام 7/بجے کاٹھمانڈو باغ بازار میں واقع جمعیت علماء نیپال کے مرکزی آفس میں ایک تہنیتی پروگرام منعقد ہوا۔جس کی صدارت جمعیت علماء نیپال کے نائب صدر مولانا محمد شفیق الرحمن قاسمی نے فرمائی اور نظامت کا فریضہ جنرل سکریٹری جمعیت علماء نیپال مولانا وقاری محمد حنیف عالم قاسمی مدنی نے بحسن وخوبی انجام دیا۔
مجلس کا آغاز مولانا وقاری درخشید انور (مرکزی رکن جمعیت علماء نیپال)کی تلاوت قرآن سے ہوا۔شان رسالت میں نذرانہ عقیدت قاری مسیح اللہ پرواز(مرکزی رکن جمعیت علماء نیپال) خطبہ استقبالیہ مولانا محمد ثناء اللہ ندوی (مرکزی رکن جمعیت علماء نیپال)نے پیش کیا۔اور ناچیز کو تعریفی کلمات پیش کرنے کا موقع ملا۔
ممبر پارلیمنٹ وصدر جمعیت مفتی محمد خالد صدیقی نے اپنے تمام گرامی قدر احباب کا مختصر تعارف پیش کرنے کے بعد کہا:کہ میں ایک طویل عرصہ تک کانگریس کا جھولا اٹھایا؛مگر مجھےجب یقین ہوگیا کہ یہاں ہمیں کچھ ملنے والا نہیں ہے،تومیں نے کانگریس سے علاحدگی اختیار کر کے جنتاسماج وادی پارٹی میں شامل ہوگیا اور اس پارٹی کے صدر اوپیندر یادو جی نے مجھے انتہائی قلیل عرصہ میں راشٹریہ سبھا کے لیے نامزدگی کا اعلان کرکے مجھے کثیر تعداد ووٹوں سے کامیاب بنایا۔ممبر پارلیمنٹ وصدر جمعیت نے مزید کہا:کہ آج ایک مسلمان (میری شکل میں) ممبر پارلیمنٹ بناہے،یہ سب اوپیندر یادو جی کا نظر کرم کا اثر ہے۔ممبر پارلمینٹ نے یہ بھی کہا:کہ آپ اوپیندر یادو جی کو کسی چپل چھاپ یا چائے کی دکان پر فضول اور بکواس کرنے والوں سے کیوں جانتے ہیں،آپ انہیں براہ راست ان ہی کی کتاب ،جس کا میں نے اردوزبان میں ترجمہ کیا ہے،اسے پڑھ کر پہچانیں،تب آپ کو معلوم ہوگا کہ اوپیندر یادو کسی معمولی انسان کا نام نہیں ہے۔ ممبر پارلیمنٹ نے مزید یہ کہا :کہ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ ان کی پارٹی میں شامل ہی ہوجائیں؛مگر میں اتنا ضرور کہوں کا بلاتحقیق الزام تراشی سے گریز کریں؛کیوں کہ قرآن و سنت میں اس کی قباحت بیان کی گئی ہے،اور جس چیز کی قباحت کاتذکرہ قرآن وسنت میں ہو ،اس کا مرتکب بھلا کوئی شریف انسان ہوسکتاہے؟ ہرگز نہیں!۔
ممبر پارلیمنٹ نے اپنا بیان یہ کہہ کر ختم کردیا”کہ جنتاسماج وادی پارٹی کے علاوہ جتنی بھی پارٹیاں ہیں،سبھوں نے مسلمانوں سے صرف اپنا جھولا ہی اٹھوایا ہے اور انہیں اعلی مناصب سے دور رکھا ہے، مگر افسوس یہ کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اسی میں خوش ہے،میں مسلمانوں کو یہی پیغام دیتا ہوں کہ مسلمان کسی بھی پارٹی میں شامل ہونے سے پہلے خوب غور وفکر کرلیں ،تاکہ بعد میں افسوس نہ کرنا پڑے ۔
جنتا سماج وادی پارٹی کے صدر اوپیندر یادو جی نے کہا:کہ ہم انصاف پسند انسان ہیں،اس لیے ہم ملک نیپال میں انصاف چاہتے ہیں۔ ہمارا یہ کہنا یے:کہ اس ملک کے ہر شہری کو برابر کے حقوق ملنے چاہییں،کسی کو کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں ہونی چاہیے۔
اوپیندر یادو جی نے یہ بھی کہا:کہ چند سال پہلے جب ہم کاٹھمانڈو آتے تھے،تو ہمیں یہاں کے لوگ حقیر نظروں سے دیکھتے تھے اور ہمیں دھوتی والے کہتے تھے؛مگر اب کسی میں ہمت ہے ،جو ہمیں دھوتی والے کہہ سکے۔انہوں نے مزید یہ کہا:کہ ہندو مسلم بھائی چارگی کی مسلمان،جو آپ کو مدھیش میں ملے گا،وہ کہیں نہیں ملے گا اور ہم یہی چاہتے بھی ہیں ہند و مسلم باہم مل کر ترقی کرے۔
اوپیندر یادو جی نے یہ بھی کہا:کہ سوائے مسلمان کے تقریباً ہر طبقہ میں اب سیاسی بصیرت رکھنے والے افراد کی کثرت ہوئی ہے، اگر کمی رہ گئی ہے ،تو وہ صرف مسلم طبقہ میں،اس لیے میں چاہتا ہوں کہ مسلمان بھی اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کریں اور ملک کے سیاسی میدان میں آگے بڑھیں،تب ہی جاکر مسلمانوں کی ترقی ممکن ہے،ورنہ نہیں!
میں آپ کا ہر پل ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں،آپ بھی ہمارا ساتھ دیں ،ہر موڑ پر ہم آپ کی رہنمائی کریں گے۔
اخیر میں اپیندر یادو جی نے نو منتخب ممبر پارلیمنٹ مفتی محمد خالد صدیقی کو بہت بہت مبارک باد پیش کیا اور نیک خواہشات کا اظہار بھی۔
پروگرام میں شرکت کرنے والے چند اہم شخصیات کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں: مولانا محمد عزرائیل مظاہری،مفتی ابوبکر صدیق قاسمی،مولانا محمد گلزار،مکھیا سلیم اللہ،انجینئر محمد عبد الجبار ،مولانا ثناء اللہ بھگوان پور،قاری فاروق،تنویر،ٹھیکدار عبدالشکور،سرکاری وکیل مشتاق،سنسد کار کرتا:بھائی عمران۔