مدرسہ جامعہ فرقانیہ سندیلہ میں عالمی یوم خواتین منایا گیا، نشست منعقد

ہردوئی (یاسر قاسمی)
مدرسہ جامعہ فرقانیہ سندیلہ میں آج 8 مارچ منگل کے روز عالمی یوم خواتین منایا گیا۔
عالمی یوم خواتین کے تحت منعقدہ نشست میں مرکزی دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃعلماء ضلع ہردوئی کے جنرل سکریٹری یاسر عبدالقیوم قاسمی نے تبادلہ خیالات کیا، انہوں نے کہا مغرب میں خواتین پر مظالم کی داستان بڑی طویل ہے، یہود و نصاری کے معاشرے میں عورت زمرہ انسانیت سے باہر محض ایک استعمالی سامان سمجھی جاتی، اس کے کوئی حقوق نہیں تھے،تقسیم وراثت کے بعد ایک ماں اپنے ہی بیٹے کی مملوکہ بن جاتی، ان مظالم کے خلاف 1910 میں جرمنی کی ایک خاتون کلارازیڈ نے آواز بلند کی اور اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے ایک تجویز پیش کی، تقریبا آٹھ ممالک کی 100 خواتین نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا، ان خواتین کی جدوجہد کے نتیجے میں انہیں کامیابی ملی،اور مغربی معاشرے میں عورتوں کو کچھ جزوی حقوق حاصل ہوگئے، اپنی اس کامیابی پر خواتین نے 8مارچ 1911 میں پہلی مرتبہ عالمی یوم خواتین منایا پھر بتدریج دیگر ممالک میں بھی 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منایا جانے لگا، انہوں نے کہا جہاں تک ایک مسلمان عورت کے حقوق کی بات ہے تو صدیوں پہلے اسلام نے ہر حیثیت سے خواتین کےحقوق کا تعین فرمایا،فرمان باری تعالی ہے ,,اے لوگو ڈرو اپنے اس پروردگار سے جس نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا،، اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ دنیا کے تمام انسان خواہ وہ مرد ہوں یا عورت ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں، بحیثیت انسان دونوں میں کوئی تفریق نہیں، اس لیے مردوں کی برتری اور عورتوں کی کمتری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، مزید برآں ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی، بہنوں اور بیٹیوں کی پرورش پر جنت کی ضمانت دی، بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کی سفارش کی، اب اگر کوئی مرد عورتوں کے حقوق پامال کرے تو وہ ظالم ہے، اور اگر حقوق ادا کرے تو عورتوں پر اس کا کوئی احسان نہیں بلکہ خود اپنے لئے بہتر کر رہا ہے، کیوں کہ حقوق کی عدم ادائیگی کی صورت میں وہ عدالت الہیہ میں ماخوذ ہوگا اور سزا کا مستحق ہوگا، تو گویا آزمائش اور عذاب سے بچنے کے لئے وہ خالق کائنات کی طرف سے مقرر کی گئی اپنی ذمہ داری نبھارہاہے، انہوں نے کہااس اعتبار سے صرف 8 مارچ ہی نہیں بلکہ ہر دن یوم احتساب اور یوم اعتراف ہے کہ ہر شخص روزانہ اپنے اوپر عائد ہونے والے حقوق کا جائزہ لے کر ان کی ادائیگی کی فکر کرے، نشست میں مدرسے کے سبھی اساتذہ و معلمات، طلباء و طالبات اور دیگر خواتین نے شرکت کی۔