اسلامی دعوہ سینٹر کے زیرِ اہتمام پپرا مرغیہواں کی جامع مسجد میں منعقد ہوا جلسہ

سدھارتھ نگر: 11 مارچ، ہماری آواز
اللہ چاہتا ہے کہ” تم مسلمانوں میں ایک جماعت موجود رہے جو خیرکی طرف دعوت دے اور نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے اور یہی لوگ کامیاب وکامران ہیں“ اور تنفیذاحکام کےلیے حکومت واقتدار کا ہونا لازم وضروری ہے،افسوس کہ بھارتی مسلمان سیاسی اعتبارسے بہت کمزور ہوتاجارہا ہے وہ سیاست و حکومت کی ضرورت سے بےخبرہوتا جارہا مسلمان اگر اپنے تشخصات کے ساتھ اس ملک میں رہنا چاہتا ہے تو اس کو سیاست میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا ان خیالات کا اظہار ”اسلامی دعوہ سینٹر اٹوا کے زیرِ اہتمام پپرامرغیہواں کی جامع مسجد میں منعقد جلسے کی صدارت کرتے ہوۓ مولاناسیِّدعزیزالرّحمٰن نے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اللہ چاہتا ہے کہ ہر بڑے طبقے میں ایک جماعت نکلے جو دین میں مہارت پیدا کرے اور اپنے لوگوں کوڈراٸیں جب ان کی طرف لوٹیں تاکہ ان کے اندر اللہ کا ڈر پیدا ہو، انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوۓ فرمایا کہ تبلیغ واصلاح کا کام علمآۓاسلام کی ذمہ داریوں میں سے ہے ،علمآ کو اپنی ذمہ داریاں اداکرتے رہناچاہیے ۔
اس موقع پرخطاب کرتے ہوۓ مولوی ارشد مہدی صاحب نےفرمایا کہ طاقتور کوظلم سے کرنے سےباز رہنا چاہیے ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کی شکل میں ہوگا۔مولوی حبیب الرّحمٰن عبیدی صاحب نے فرمایا کہ ”مسلمانوں کی ذمہ داریاں بہت بڑی ہیں مسلمانوں کااخلاق وکرادر ایسا ہونا چاہیے کہ پتہ چلے کہ امتِ محمدﷺ کے افراد ہیں ان کا عمل ہی غیروں کو دعوتِ اسلام دیتا ہو،مسلمانوں کواخلاقِ رذیلہ سے اجتناب کرنا چاہیے ،منکرات سے خود دور رہنا چاہیے اور لوگوں کو منکرات سے دور رکھنے کی کوشش کرتے رہناچاہیے، منکردیکھتے ہوۓ خاموش رہنا مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہوسکتا ۔
جلسے کی نظامت مولوی سعید احمدخان نے بخوبی انجام دی۔
اس موقع پر دعوہ سینٹر کےممبران محمد سعید عبدالرحیم ،رفیق سلمانی ، شفیع الرحمٰن صفی الرحمٰن وغیرہ بطورِ خاص موجود رہے۔