7/11ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملہ: نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف داخل اپیلوں کو عدالت نے سماعت کے لیئے منظور کرلیا

ممبئی12/ مارچ
7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے میں خصوصی مکوکا عدالت کی جانب سے پانچ ملزمین کو پھانسی اور سات ملزمین کو عمر قید کی سزا دیئے جانے والے فیصلہ کے خلاف داخل اپیلوں کو ممبئی ہائی کورٹ نے گذشتہ کل سماعت کے لیئے منظور کرلیا۔
ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس جادھو اور جسٹس سارنگ وجئے کمار کوتوا ل نے ملزمین احتشام قطب الدین صدیقی، فیصل عطاء الرحمن شیخ، آصف بشیر اور نوید حسین، محمد علی شیخ، سہیل شیخ، ضمیر لطیف الرحمن، ڈاکٹر تنویر، مزمل عطاء الرحمن شیخ،ماجد شفیع، ساجد مرغوب انصاری کی جانب سے داخل اپیلوں کو سماعت کے لیئے منظور کرلیا، عدالت نے اپیل داخل کرنے میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر کو بھی قبول کرلیا۔
دو رکنی بینچ نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے توسط سے ملزمین کے دفاع میں مقرر کردہ دفاعی وکلاء کی جانب سے سی آر پی سی کی دفعہ 294 کے تحت داخل عرضداشت کو بھی سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے استغاثہ کو حکم دیا کہ وہ معاملے کی اگلی سماعت پر اپنا جواب داخل کریں۔
دفاع نے عرضداشت میں استغاثہ سے مطالبہ کیاہیکہ وہ اس مقدمہ کا حصہ بننے والے چند دستاویزات کو قبول کریں یا انہیں مسترد کریں، اگر استغاثہ ان دستاویزات کو قبول کرلیتا ہے تو وہ عدالت کے ریکارڈ کا حصہ ہوجائیں گے اور اگر استغاثہ ان دستاویزات کو قبول کرنے سے انکارکردیتا ہے تو دوران بحث دفاعی وکلاء کو ان دستاویزات کو عدالت میں ثابت کرنا پڑیگا،26ایسے دستاویزات ہیں جن پر دفاعی وکلاء بھروسہ کرنے والے ہیں۔ استغاثہ کا جواب آنے بعد عدالت دفاع کی عرضداشت پر فیصلہ کریگی۔
عیاں رہے کہ اس سے قبل کی سماعت پر دفاعی وکلاء نے بامبے ہائیکورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ایک درخواست بھی دی تھی جس میں تحریر ہے کہ اس مقدمہ کی سماعت کے لیئے خصوصی بینچ کی تشکیل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ مقدمہ اتنا بڑا ہے کہ فریقین کو بحث مکمل کرنے میں کم از کم چار ماہ کا وقت درکار ہوگا۔حالانکہ خصوصی بینچ کی تشکیل کے تعلق سے ابھی تک رجسٹرار کی جانب سے فریقین کو
نوٹس نہیں ملا ہے۔
آج ممبئی ہائی کورٹ میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ گورو بھوانی، ایڈوکیٹ ادتیہ مہتہ اور دیگر موجود تھے جبکہ استغاثہ کی جانب سینئر ایڈوکیٹ راجا ٹھاکرے اور ان کے معاونین بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ خصوصی مکوکا عدالت کے جج وائی ڈی شندے نے ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچ ملزمین احتشام قطب الدین صدیقی، کمال انصاری، فیصل عطاء الرحمن شیخ، آصف بشیر اور نوید حسین کو پھانسی اور 7/ ملزمین محمد علی شیخ، سہیل شیخ، ضمیر لطیف الرحمن، ڈاکٹر تنویر، مزمل عطاء الرحمن شیخ،ماجد شفیع، ساجد مرغوب انصاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ایک ملزم عبدالواحد دین محمد کو باعزت بری کردیا تھا، گذشتہ برس کرونا کی وجہ سے کمال انصاری کی ناگپور جیل میں موت ہوچکی ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹرا