ملت کی مومنانہ فراست، سیاسی بصیرت اور سیاسی شعور

از:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
9224599910

اس وقت ملک میں سیاست وسیادت پر ایسا فسطائی ٹولہ قابض ہے جس کے قائدین نے سو سال پہلے ملک کی صورت گری کو اس انداز سے ایک ایسا نظریہ دیا جو اسلام اور مسلم مخالفت پر مبنی تھا۔ قیادت نے قربانیاں دیں اور عوام نے Mandate ۔۔۔ملت کے قائدین اور دینی سربراہ 1857 اور1947 سے عہدہ بر آ ہونے کی سبیل نکال رہے تھے۔

دم توڑ چکی ان کا دو صدیوں کی غلامی

دینی اکابرین اور اہل مدرسہ نے کہا
دین میں سیاست نہیں

حکیم الامت شاعر مشرق نے ندا دی

جُدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

ملت کی سیاسی بے وزنی کے کئی اسباب میں سے چندایک

(1)مسلمانوں میں عام جہالت، دینی و عصری علوم اور تعلیم تربیت کی کمی۔
(ا)سیاسی شعور اوربصیرت کی کمی۔
سیاسی میدان الله کے باغیوں کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ملک تیزی سی ہندو راشٹر ہورہا ہےاس کی سمجھ کا نہ ہونا۔سیاست، جمہوریت کے 70سالوں میں سیاسی پیمانے کا فرقہ پرستی کا اقدام ۔اکثریت میں سیاسی، سماجی، نفسیاتی طور پر "ہندوتوا” کا نشہ سرایت کر جانا ۔اکثریت کا مسلمانوں، ان کی تہزیب کو اپنا دشمن سمجھنا۔مسلم کلچر پر حملےکرنا ۔
(ب)علماء کی عوام میں غیرمقبولیت۔قائدانہ صلاحیتوں کی کمی۔اب بھی "مچھر چھاننے اور ہاتھی نگل جانے” کی باتیں ۔
چاپلوسی ا ور اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کی سیاست۔
گروہ بندیاں، مسالک بندی، جماعت پرستی اکابر پرستی،
روادارtolerance کا فقدان ۔
ہرایک کی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد ۔ اتحاد کی جگہ انتشار۔
ہر عالم ،دانشور اپنے آپ میں مفتی، علامہ، قائد اعظم ،مہد ملّت، رہبر ملّت، مشیر ملّت ہے۔
(2)فیصلہ لیتے وقت واقفیت کی کمی، نفس مسئلہ کی گہرائی وگیرائی اوراس کے نتائج واثرات پر دورس نگاہ کانہ ہونا۔اعداد و شمار اور درست تجزیے اور صحیح فیصلہ لینے میں فراست اور بصیرت کی کمی۔
(3)ہر کسی کا اپنے آپ کو کشتی نوح کا ناخدا سمجھنا اور دوسروں کو گمراہ، جہنمی، راندہ درگاہ سمجھنا. اداروں اور جماعتوں کے صدور کا ایک ہی خاندان کا ہونا، با صلاحیت کارکنوں کو آگے بڑھنے سے روکنامخلصانہ وابستگی commitment کی جگہ مفاد پرستی۔( مثلاً:کانگریس کی طرح ایک خاندان میں قیادت کا حشر)
(4)وفاق سے ٹکراؤ، یہاں تک کہ مسلم پرسنل لاءبورڈ، آل اندیا مسلم مجلس مشاورت ،آل انڈیا علماء کاونسل کی اجتماعت کو بے بس بنا دینا۔
مسلمانوں کا چھوٹے مفادات اور وقتی فائدے کے لیے بک جانا۔صفوں میں”کالی بھیڑیں” اور مشن سے غداری.
(5)اپنے آپ، اپنی جماعت، اپنے مسلک، اپنے فرقے کو ناجی ، جنتی ہونے اور دوسروں کی کوشش کو عبث سمجھنا.ان کو جہنم کے فتوے دینا۔
(6) منصوبہ بندی، پالیسی پروگرام، اہداف حاصل کرنے اور بار بار جائزہ لینے کا فقدان ۔ (7)جو سو سال پہلے کی ضرورت تھی اس میں کمی ،بیشی کرنے کو اکابرین کی شان میں گستاخی سمجھنا اور اسی پر جمے رہنا ۔مثلاً (دینی مدارس کا نصاب ،چھے باتوں کی دعوت۔مدارس کو ساری زکواۃ، اجتہادی بصیرت کا نہ ہونا، مادری زبا ن میں تعلیم ،۔لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے معیاری اداروں کا بہت کم ہونا۔ملازمت،عورتوں کا میدان کار۔مسجد میں شرکت سے روکنا۔طلاق کا بدعی طریقہ اور غلط طریقہ۔ شادی بیاہ، موت حیات کی رسمیں اور اسراف،)۔
(8)زمین کے نیچے یعنی قبر و حشر کو مکمل دین سمجھنااور زمین کے اوپر کے معاملات ومسائل سے بے زاری، بے خبری ،بے تعلقی اور فساق وفجار کے لیے دنیا کی قیادت، سیادت، سیاست، معاملات، اختیار ات کے لیے میدان خالی کر دینا۔
(9) دین کی دعوت کو عام کرنے اور اسلام کو نجات دہندہ دین پیش کرنے میں ہچکچاہٹ، تساہل، تربیت کی کمی اور اسے ضروری نہ سمجھنا۔پہلے اسلام پر مکمل عمل کی سند لے لینے کے بعد برادران وطن میں دعوت دینے کا مفروضہ عام کرنا۔ مثلاً ۔۔۔۔
(ان کو مساجد سے دور رکھنا۔قرآں کے تراجم ان کے ہاتھوں میں نہ دینے کے فتاوے، جب کہ ان کے ساتھ کاروبار میں برابر کی شرکت )۔
(10) وسعت نطر،رواداری، معاملہ فہمی، اصابت رائے، اخلاص، مشاورت، اکرام مسلم ،متبادل سے فرار۔ اپنی رائے غلط اور دوسرے کی صحیح ہونے کے امکان کو رد کردینا اور اپنی اور اپنے اکابر کی رائےہی ماننے، منوانےپر اصرار کرنااوربضد ہونا۔
(11)امّت کی عام عادت واطوار( غیر حکیمانہ گفتگو،غیر شائستہ الفاظ اور درشت و سخت لہجہ گالی گلوچ اور فحش گوئی،انتہا پسندانہ سوچ،جلد غصہ، غیر محتاط اور بے شعوری کے فیصلے، ہماری بستیوں محلوں میں گندگی اور ماحولیاتی صفائی ستھرائی کا فقدان اور اجتماعی انحراف۔ محنت شاقّہ کی کمی، جلد دل شکستہ ہو کر بیٹھ جانا،اقدام سے جی چرانا ،اپنے حق سے زیادہ وصول کرنا اور دوسرے کو حق سے کم دینا یا محروم کردینارات دیر تک جاگنا، دن میں زیادہ سونے کی عادت، وغیرہ)
(12)لمبی معیاد کی منصوبہ بندی Long term planningنہ کرنا۔اس ملک میں جہاں اکثریت غیر مسلم ہوں اور بگڑا ہوا مسلم معاشرہ بھی تو یہاں دعوت دین، اکثریتی سماج سے کمیونیکیشن، امت کی تعلیمی، سماجی، معاشی اور سیادی قوت میں اضافہ، ملک میں عدل وانصاف کے قیام اور انسانوں کی خدمت، مسلم معاشرے کی اصلاح اور اسے اسلام کا عملی نمونہ بنانا ہوگا۔

وہی قانون فطرت ہے جسے تقدیر کہتے ہیں

جسے قسمت سمجھتے ہیں وہ تدبیروں کا حاصل ہے

(13) اجتماعی زکواة کا نظم، انفاق،اعانت، بیت المال کا اجتماعی نظام کا نہ ہونا۔( بھیک مانگنے اور ہاتھ ہھیلانے والوں میں مسلمانوں یا ان جیسی شکل میں فقراء و بھکاریوں کی بڑی تعداد کابازاروں محلوں میں پھرناہے۔)
(14) وقت کو ضائع کرنا، لایعنی مشغلوں اور رسم ورواج پر اسراف،نکاح کو مشکل بنادینااور بھاری جیز کو لازمی؟ وعدہ خلافی، اُدھار لے کروقت پرادا نہ کرنا بلکہ ضائع کردینا یا اس سے مکر جانا۔
(15) اخلاقی حساسیت کا زوال۔
مسلم معاشرے کی اخلاقی صورت حال کے مطالعات سے سبق۔
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے دو پروفیسر، شہزاد ایس رحمن اور حسین عسکری نے اپنی ریسرچ پیش کی ۔انھوں نے قرآن کی بعض اخلاقی تعلیمات کو لے کر اشارہ اسلامیات Islamicity index تشکیل دیا اور اعداد وشمار اور حقائق کو بنیاد بناکر208 ملکوں کاجائزہ لیا ۔اس جائزے کے مطابق اسلام کی ان اخلاقی تعلیمات پر سب سے زیادہ عمل جس ملک میں ہوتا ہے وہ یورپی ملک آئرلینڈ ہے۔اس کے بعدڈینماک، لکسمبرگ، سویڈن، نیوزی لینڈ، سنگاپور ہیں۔پہلا اسلامی ملک جو اس رینکنگ میں جگہ بناسکا وہ 33ویں نمبر پر ملیشیاء ہے۔سعودی عرب91 مقام پر، جبکہ ساری بڑی مسلم آبادیاں 100کے بعد انڈونیشیا 194،پاکستان 141،بنگلہ دیش 145 واں ہے۔
اس اسٹڈی میں زیادہ تر معاشی اور معاملات سے متعلق اخلاق کو بنیاد بنایا گیا ہے۔جیسے شفافیت، تجارتی معاہدوں کی پابندی کی۔