حجاب کے سلسلےمیں کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ اسلامی تعلیمات اور شرعی احکام کے مطابق نہیں

ازقلم: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

پردہ شرعی حکم ہے، ہمارے ملک میں پردہ کے کئی طریقے رائےرائج ہیں، حجاب بھی پردہ کا ایک طریقہ ہے، اس کا حکم قرآن کریم میں دیا گیا ہےاور اس کی تشریح احادث میں بھی موجود ہے، اس طرح حجاب کے سلسلہ میں کرناٹک ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ کہ حجاب مذہب کا لازمی حصہ نہیں ہے، اسلامی تعلیمات اور شرعی حکم کے مطابق نہیں ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی نے کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حجاب کا تعلق مسلم پرسنل لا سے ہے، ہندوستان کے آئین نےاس ملک میں بسنے والے تمام باشندوں کو مذہبی اور ثقافتی آزادی دی ہے، جبکہ کرناٹک ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین کی جانب سے حجاب پہننا اسلام کے تحت ضروری مذہبی روایت کا حصہ نہیں ہے، اس اعتبار سے یہ فیصلہ ملک کے آئین سے بھی متصادم ہے، نیز اس سے مذہبی احکام کی غیرمناسب تشریح کے لئے راستہ بھی کھلتا ہے۔ یہ جہاں شرعی احکام اور مسلم پرسنل لا میں مداخلت ہے، وہیں یہ شرعی احکام کی غیرمناسب تشریح کے لئے آئندہ بھی جواز فراہم کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہایت ہی حساس معاملہ ہے، اس پرسنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کی ضرورت ہے۔ ایسے موقع پر علماء، دانشوران اور ملی تنظیموں کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ اس پر آپسی اتحاد کا مظاہرہ کریں اور اس جیسے تمام حسا س معاملہ میں صوبائی اور مرکزی حکومت سے بات چیت کی جائے اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے۔اس فیصلہ کے خلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے، اس کو تقویت دی جائے۔ انہوں نے مسلمانوں سے بھی اپیل کی ہے کہ ملک کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ ایسے موقع پر ہم حتی الامکان اس کی کوشش کریں کہ ٹکراو سے بچیں اور قانون کے دائرے میں اپنے مسائل کا حل تلاش کریں، نیز شریعت پر عمل کرکے عملی نمونہ پیش کریں اور صبروتحمل سے کام لیں، یقینا ہردشواری کے بعد آسانی آتی ہے، اس پر یقین رکھیں ،انہوں نے مزید کہا کہ ھندوستان ایسا ملک ھے ،جس میں مختلف مذاہب کے لوگ رھتے ہیں ،ہر ایک کا مذھب اور دھرم ھے ، وہ بھی ملک میں اپنے مذہب کے مطابق زندگی گذارنا چاہتے ہیں ، اس طرح برادران وطن میں بڑی تعداد میں لوگ ایک دوسرے سے خیالات و جذبات سے ھم آہنگ ہیں ،اس لئے وقت کا تقاضہ ھے کہ ھم اپنے ہر معاملات میں اچھے اور سلجھے برادران وطن کو ساتھ لیں ،تاکہ ملک کا سیکولر کردار برقرار رھے اور قومی یکجہتی کو فروغ حاصل ھو ، ھم کوئی ایسا کام نہ کریں ،جس سے علحدہ پسندی ٹپکتی ھو ، ملک میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو ماحول کو فرقہ وارانہ بنانا چاہتے ہیں ،ہمیں ان سے ہوشیار رھنے کی ضرورت ھے۔