مسلمان خواتین با پردہ رہنے کا عزم کریں

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی
خادم تدریس: جامعہ نعمانیہ ویکوٹہ آندھرا پردیش

آج کرناٹک ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ حجاب پر پابندی باقی رہے گی، اور اس طرح عدل و انصاف پر شب خون مار دیا گیا کورٹ میں بحث و تمحیص کے دوران قرآن مجید کی آیتیں اور احادیث نبویہ کو واضح طور پر پیش کیا گیا تھا جیسا کہ مولانا نصراللہ ندوی صاحب دامت برکاتہم اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:
ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران،حجاب کی پیروی کرنے والے وکلاء نے بڑی محنت کی اور عدالت کے سامنے حجاب کے ضروری ہونے سے متعلق سارے ثبوت وشواہد پیش کئے،عدالت کے سامنے قرآن کریم کا مستند ترجمہ پیش کیا گیا،سورہ احزاب کی آیت نمبر 59 اور سورہ نور کی آیت نمبر 31 کا حوالہ دیا گیا،جن میں واضح طور پر چہرہ پر گھونگھٹ ڈالنے اور سینہ پر دوپٹہ ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے،ایک مسلمان کیلئے قرآن کا حکم ماننا فرض اور ضروری ہے،اس کے بغیر چارہ کار نہیں ہے،اسی طرح عدالت کے سامنے بخاری ومسلم کے مترجم نسخے پیش کئے گئے ،اور ان روایتوں کی نشاندہی کی گئی،جن سے پردہ کے لازم ہونے کا ثبوت ملتا ہے،لیکن حیرت کی بات ہے کہ،عدالت نے قرآن وحدیث کے واضح احکام کو نظر انداز کردیا،دوسری طرف حکومت کی نمائندگی کرنے والا ایڈوکیٹ جنرل مسلسل ایک ہی رٹ لگاتارہا کہ،حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے،اپنے دعوی کی دلیل میں اس نے کوئی ثبوت بھی نہیں پیش کیا،لیکن عدالت نے اس کو قبول کر لیا،کہا جاتا ہے کہ عدالت میں صرف دلیل اور حجت کام آتی ہے،لیکن ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں ثبوت وشواہد کو بالکل نظر انداز کر دیا،کورٹ کے اس فیصلہ سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے انصاف پسندوں کو بہت مایوسی ہوئی ہے،اور عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوال کھڑا ہو گیا ہے!!
لیکن ہائے افسوس! تمام شواہد کے باوجود وکلاء نے غلط فیصلہ کیا ہے اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے اس سے پہلے بابری مسجد، تین طلاق میں بھی یہی ہوا تھا، اور حالیہ غلط فیصلہ سے یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہو، اللہ نہ کرے ایسا ہو!
اس لئے اب پہلی فرصت میں ہم مسلمانانِ بھارت خود شریعت پر عمل کرنے لگیں، یاد رکھیں اسلامی شریعت انسانی نہیں بلکہ ربانی شریعت ہے اس کے اندر کشش اور جاذبیت ہے، اس کے اندر لوگوں کے قلوب کو مسخر کرنے کی صلاحیت ہے، اس میں روشنی اور چمک ہے اور دنیا میں کون ایسا شقی القلب اور بدبخت انسان ہوگا جو روشنی سے بھاگے گا، اب ہمارا کام روشنی جلانا ہے اور وہ شریعت پر عمل کرنا ہے، اپنے اعمال کے ذریعے سے بے راہوں کو راہ یاب کرنے کی سعی کرنی ہے اور اس طرح یہ اسلام کی دعوت بھی ہوگی۔
ہماری مائیں اور بہنیں پہلے سے زیادہ با پردہ رہیں ، خاص طور سے شادی بیاہ یا کوئی اور فنکشن کے موقع پر جو بے پردگی ہوتی ہے اس سے بچیں، با پردہ لباس زیب تن کریں، آج کل جو کپڑے فیشن کے طور پر آ رہا ہے اسے خریدنا بالکل چھوڑ دیں، مارکیٹ میں جو برقعے دستیاب ہیں ان میں پردہ کے بجائے بے پردگی زیادہ ہوتی ہے ایسے جدید برقعے سے بھی بچیں، جو ہمارے ہاں برقعے یا دوپٹے استعمال کئے جارہے ہیں ان کے بارے میں کسی شاعر نے صحیح کہا ہے:

دامن تہذیب نسواں پارہ پارہ ہوگیا
اوڑھنی مفلر بنی برقع غرارہ ہوگیا

لیکن دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ ایسے ہی ملبوسات کی طرف ہماری مائیں، بہن اور بیٹیاں بڑھ رہی ہیں،اس سے لازمی طور پر بچیں ، نیز اپنی چھوٹی چھوٹی بچیوں کو بھی بچپن سے ہی با پردہ کپڑے پہنانے شروع کریں، شریعت پر عمل کی برکت سے ہمارے ملک میں دوبارہ ایمان کی باد بہاری چلے گی۔ ان شاءاللہ۔