روزہ : نفس اور شیطان سے بچنے کا جامع نسخہ

تحریر:(مفتی) عبدالمنعم فاروقی قاسمی
muftifarooqui@gmail.com
9849270160

ربانی احکامات اور نبوی تعلیمات وہ شاہ کلید ہے جس کے ذریعہ انسان دنیا کی زندگی میں کامیاب اور دنیا کے بعد والی زندگی یعنی آخرت میں نجات کا حقدار بن سکتا ہے ، انہیں چھوڑ کر کسی اور چیز کے ذریعہ کامیابی تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی مسافر کا دُور سے ریت کے سمندر کو دیکھ کر پیاس بجھانے کی امید کرنا ہے ، جس طرح مسافر کے لئے راستہ معلوم کئے بغیر منزل تک پہنچنا ناممکن ہوتا ہے اسی طرح اپنے خالق ومالک حقیقی کی مرضی معلوم کئے بغیر اس کی خوشنودی حاصل کرنا محال ہے ،انسان کے دنیا میں آنے میں اس کی مرضی کا دخل نہیں ہے بلکہ اس کا وجود محض اپنے خالق اور مالک حقیقی کے فضل سے ہے ، دنیا میں وہ آیا ضرور ہے مگر یہاں اس کا قیام عاضی اور وقت مقررہ تک ہے ،اس کی اصل اور حقیقی زندگی تو آخرت ہے جہاں اس کا قیام طویل بلکہ لامحدود ہوگا، دنیا اس کے لئے امتحان گاہ ہے ،یہاں اسے ہر لمحہ کی حفاظت کرنا ہے ،کامیابی کے لئے جد جہد کرنا ہے اور ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے ، یہاں اسے دو زبردست دشمنوں سے مقابلہ کرنا ہے جو اس سے اس کی کامیابی چھیننے اور اسے ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش میں لگے رہتے ہیں ،شیطان اور نفس انسان کے دو نہایت خطرناک اور طاقتور دشمن ہیں جو اسے ہر وقت بہلا پھسلاکر راستہ سے ہٹا کر ناکامی کے گڑہے میں ڈھکیلنے کی فکر کرتے رہتے ہیں ، ان کے بہکاوے میں آنے سے بچنے کا واحد راستہ شریعت اور اس کے احکامات ہیں ، جو شخص اپنی مرضی کو شریعت کی مرضی کے مطابق بنالیتا ہے وہ ان دشمنوں کے نقصان سے محفوظ ہوجاتا ہے ، آخرت میں اپنے مالک کے حضور حاضری کا خوف اسے شیطان اور نفس کا اسیر بننے سے بچاتا ہے ،جو شخص آخرت کی زندگی پر ایمان رکھتا ہے اور اپنے رب کے حضور حساب وکتاب کیلئے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے وہ ضرور شریعت اور اس کے حکم پر چلتا ہے اور شیطان ونفس کے باربار بہکانے کے باوجود ان کی غلامی سے محفوظ رہتا ہے ،قرآن کریم میں ایسے ہی اشخاص کے لئے کامیابی کا مژدہ سنایا گیا ہے اور انہی لوگوں کیلئے نعمتوںسے بھری جنت کا وعدہ کیا گیا ہے ،ارشاد ہے :وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الأَنْہَارُ (البقرہ ۲۵) جو لوگ ایمان لائے(اور دنیا میںکفر ،شرک اور شیطان کی پیروی سے رُکے رہے) اور نیک عمل کرتے رہے انکو اے نبی ؐآپ خوشخبری سنادیں کہ انکے لئے نعمت کے باغ ہیں جنکے نیچے نہریں بہ رہی ہیں،قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے : وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی فَإِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَأْوٰی( النازعات ۴۰ ،۴۱)جو لوگ اپنے رب کے سامنے (حساب وکتاب کیلئے) کھڑے ہونے سے ڈرتے رہے اور اور نفسانی خواہشات سے بچتے رہے تو ایسے لوگوں کا جنت ہی ٹھکا نا ہے ۔
ایک مسلمان جب تک اسلامی احکامات کے تابع رہتا ہے اور شیطان ونفس کے مقابلہ میں تعلیمات شریعت پر ثابت قدم رہتا ہے تب تک اللہ تعالیٰ اسکی مدد اور دستگیری فرماتا رہتا ہے اور اسے شیطان کے دھوکہ ونفس کے مکر سے بچائے رکھتا ہے اور جس وقت اس کی گردن سے اسلام کا قلادہ نکل جاتا ہے ، اس کے ہاتھ سے اللہ کی رسی چھوٹ جاتی ہے اور نبوی رنگ اس سے اتر جاتا ہے تو پھر اس کے بعد اس پر شیطان اپنا تسلط قائم کرلیتا ہے اور نفس اسے اپنا اسیر بنالیتا ہے جس کے بعد وہ گناہوں کے وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے اور ظلالت وگمراہی کے دلدل میں پھنس کر ہلاک وبرباد ہوجاتا ہے ،چنانچہ قرآن کریم کے ذریعہ انسانوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ ہر وقت شیطان اور نفس کے مکر وفریب سے چوکنا ر ہیں اور خود کو ان دونوں سے دور رکھیں ،ارشاد باری ہے إِنَّ الشَّیْْطَانَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا (الفاطر ۶) ’’شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسکو اپنا دشمن ہی سمجھو ‘‘، اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَنْ یُّوقِعَ بَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَائَ فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلاَۃِ(المائدہ ۹۰) شیطان تو چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تم میں دشمنی اور رنجش پیدا کردے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے ،اسی طرح نفس کے متعلق باری تعالیٰ کا ارشادہے :قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَکَّاہَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاہَا(الشمس ۹،۱۰) ’’جس نے اپنے نفس کو (برائی اور گناہ کی نحوست سے) پاک رکھا وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے اُسے خاک میں ملایا (یعنی اُسے یوں ہی چھوڑ دیا اس کے مکر سے بے خبر رہا )وہ خسارے میں رہ گیا، نفس کے مکر وفریب کے متعلق حضرت یوسفؑ کا قول قرآن کریم میں کچھ اس طرح مذکور ہے: وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِیْ إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَۃٌ بِالسُّوء ِ (یوسف ۵۳) میں اپنے کو پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس (امارہ انسان کو) بُرائی ہی سکھا تا رہتا ہے۔
شیطان انسان کا خارجی دشمن ہے وہ باہر سے انسان کو بہکاتا ہے اور طرح طرح کی تدبیروں کے ذریعہ اسے احکام شریعہ کی خلاف ورزی کی طرف اکساتا رہتا ہے اور اس کے ذریعہ خداکا نافرمان بنانے کی کوشش کرتا رہتاہے،اس کے مقابلہ میں نفس انسان کا داخلی دشمن ہے جو اسے نفسانی خواہشات کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اسے شریعت کا باغی بنا نے کی کوشش کرتا ہے ،چنانچہ کہا جاتا ہے کہ انسان کا نفس شیطان سے بھی زیادہ خطرناک ہے ،یہ انسان کیلئے آستین کے سانپ کی مانند ہے،یہ وہ زہر ہے جس کے اثر سے پورا وجود ہی زہر آلود ہوجاتا ہے اور یہ ایسا بت ہے کہ جسکی اتباع انسان کو ہلا ک وبرباد کر دیتی ہ ے چنانچہ قرآن کریم میں خواہش نفس کو بت سے تعبیر کیا گیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : أَرَأَیْْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَہَہُ ہَوَاہُ أَفَأَنتَ تَکُونُ عَلَیْْہِ وَکِیْلاً(الفرقان۴۲)کیا تم نے اس شخص کو دیکھا نہیں جس نے خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے تو کیا تم اس پر نگہبان ہو سکتے ہو ،مذکورہ آیات میں بڑی شدت کے ساتھ شیطان کے گمراہ کرنے اور نفس کے دھوکہ دینے سے بچنے اور چوکنا وہوشیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے، حضرت شداد بن اوس ؓ کی روایت ہے جس میں رسول اللہ ؐ نے اس شخص کو ہوشیار اور چالاک بتایا ہے جو کہ نفس امارہ کی چالوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھتا ہے،ارشاد فرمایا :چالاک اور ہوشیار وہ شخص ہے جس نے اپنے نفس ِ امارہ کو قابو میں رکھا (اور دنیا کی طرف نہیں کھنچا) اور موت کے بعد آنے والی زندگی کیلئے عمل کرتا رہا اور نادان ہے وہ شخص جس نے (نفس ِ امارہ کے پیچھے چل کر) اپنے کو دنیا کی محبت کا دلدادہ بنالیا اوراللہ تعالیٰ سے غلط توقع رکھی(ترمذی) ، یقینااس قدر صاف اور کھلی وضاحت کے بعد ایک مسلمان کو ہروقت ان دشمنوں سے چوکنا اورہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ، اگر ان سے ذرا سی غفلت اور بے توجہی کی گئی تو یاد رکھنا چاہئے کہ اس کے وبال سے انسان دنیا میں رحمت الہی سے محروم اور آخرت میں عذاب ِ الیم کا مستحق بن جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ کا کس قدر احسان عظیم ہے کہ اُس نے ان دشمنوں سے نہ صرف آگاہ کیا بلکہ ان سے بچنے کی تدبیر اور ترکیب بھی سکھلائی ۔
ماہِ رمضان المبارک اہل ایمان کے لئے نہایت اہم ترین مہینہ ہے ،اس مہینہ کو ماہ تربیت بھی کہا گیا ہے ،اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جس اہم ترین فریضہ کی ادائیگی کا حکم دیا ہے اس کے ذریعہ نفس اور شیطان سے مقابلہ کرنے اور ان کے مکر وفریب سے بچنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے ،گویا اس عبادت کے ذریعہ بندہ مومن کو ایک خاص تربیت دی جاتی ہے کہ وہ کس طرح سال کے دیگر مہینوں میں شیطان اور نفس کی شرارتوں سے بچ سکے ،باالفاظ دیگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ماہ رمضان المبارک اور اس کی خاص عبادت روزہ شیطان اور نفس کی خواہشات کو قابو میں کرنے کا بے مثال ربانی نسخہ ہے،اس کے ذریعہ شیطان کے منصوبوں کو ناکام اور نفس کی شرارتوں کو خاک میں ملایا جا سکتا ہے ،روزہ دار روزہ رکھ کر ایک طرف رب کے حکم کو پورا کرتا ہے اور اس کی تعمیل میں جائز اور حلال چیز کو بھی ایک مخصوص وقت تک اپنے حلق میں پہنچانے سے گریز کرتا ہے ،نیز جائز خواہشات کی تکمیل سے خود کو دور رکھتا ہے ،اس کے ذریعہ وہ یہ بتاتا ہے کہ اس کے نزدیک رب کی فرماں برداری سب سے اہم ہے ،وہ حکمِ ربی پر حلال ومباح تک کو چھوڑ نے کے لئے تیار ہے ،ایک مومن جب پورا رمضان اس کی پابندی کرتا ہے اور خلوت وجلوت ہر مقام پر رب کے حکم کی تعمیل میں خود کو حلال وجائز چیزوں کے استعمال سے دور رکھتا ہے تو اس کے ذریعہ اس کے دل ودماغ پر ایک خاص قسم کی کیفیت چھاجاتی ہے اور اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ رمضان گزرنے کے بعد وہ ان چیزوں سے خود بخود رکتا چلاجاتا ہے جن سے اسے روکا گیا ہے اور منع کیا گیا ہے ، مگر شرط یہ ہے کہ اپنے اندر اس طرح کا اثر پیدا کرنے کے لئے رمضان اور اس کی عبادتوں کو اس طور پر انجام دینا ضروری ہے جس طرح اسے انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے اور اس طرح اسے پورا کرنا ہے جس طرح رسول اللہ ؐ اور آپ کے اصحاب ؓ نے اپنے عمل کے ذریعہ پورا کرکے اسے بتا یا ہے ۔
روزہ کے ذریعہ ایک طرف شیطانی قوت کو کمزور کیا جاتا ہے اور قدم قدم پر شریعت کے نقش قدم پر چل کر شیطان اور اس کی مکروہ چالوں کو ناکام بنایا جاتا ہے جس سے شیطان کی کمر ٹوٹ کر رہ جاتی ہے ،رمضان کی تربیت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ بندہ مومن شریعت کا پابند بن جاتا ہے اس کے بعد شیطان کو اسے بہکانا بہت مشکل ہوجاتا ہے ،بلکہ رمضان اور اس کی عبادات کا صحیح حق ادا کرنے والوں سے شیطان مایوس ہوجاتا ہے تو دوسری طرف مکمل ایک ماہ کے روزوں کے ذریعہ نفس کی خواہشات کو کس دیا جاتا ہے ،اس عمل سے نفس کو قابو میں کیا جاتا ہے اور اس پر مکمل کنٹرول رکھتے ہوئے اس کا تزکیہ کیا جاتا ہے ، اس مجاہدہ کا روزہ دار پر یہ اثر ہوتا ہے کہ اس کی نفسانی وشہوانی خواہشات پر لگام لگ جاتی ہے اور پھر پورے مہینہ مجاہدہ کرنے کی وجہ سے اس کا نفس اعتدال پر آجاتا ہے ،خودرسول اللہ ؐ نے روزوں کو نفسانی خواہشات کے دبانے اور اسے لگام دینے کا ذریعہ بتا یا ہے چنانچہ آپ ؐنے ان نوجوانوں کو جو نکاح کے بعد کی ذمہ داریوں کے اُٹھا نے کی قوت نہیں رکھتے انہیں روزہ رکھنے کا حکم دیا ، آپ ؐ نے آگے روزہ کی خوبی وخاصیت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’فانہ لہ وجاء(بخاری)کہ روزہ شہوت کو توڑ نے میں مدد گار ومعاون ہوتا ہے ‘‘ ،روزے کے ذریعہ روزہ دار کو جہاں شہوانی قوت پر قابو پانی کی تربیت دی گئی ہے وہیں اُسے جائز چیزوں کے استعمال سے روک کر اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ جس طرح بحالت روزہ بحکم خداوندی حلال وجائز چیزوں کے استعمال سے روکا گیا ہے تو ٹھیک اسی طرح وہ چیزیں جو اصلاً ناجائز اور حرام ہیں ان سے رکنا اور دور رہنا بدرجہ اولیٰ ضروری ہے۔
حکیم الامت مجدد ملت حضرت تھانوی ؒ اپنے ملفوظات میں ر وزہ کی حقیقت کچھ اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ’’ روزہ کی ہیئت کا تصور ہی معاصی یعنی گناہ سے روکتا ہے ،کسی کو اگر عقل سلیم ہو تو روزہ کی حقیقت میں غور کرے کہ یہ کیا ہے؟ ،روزہ کی حقیقت نہ کھانا ،نہ پینا اور نہ ہی بیوی سے مشغول ہونا یعنی خواہش نفس میں نہ پڑنا ہے ،اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ چیزیں حلال تھیں جب یہ حرام کردی گئیں تو جو چیزیں پہلے سے ہی حرام ہیں ان ک ا کیا درجہ ہوگا ‘‘ اللہ تعالیٰ حکیم الامتؒ کی قبر پر رحمتوں کی بارش برسائے ، آپ ؒ نے بڑی عمدہ مثال دے کر سمجھایا ہے کہ فی نفسہ جائز اور مباح چیزوں میں نفس کی مخالفت سے کس طرح ناجائز اور حرام چیزوں سے نفس کو بچانا آسان ہوجاتا ہے فرماتے ہیں’’ محرمات میں تو نفس کی مخالفت واجب ہی ہے اور اصل مجاہدہ یہ ہے کہ آدمی مباحات میں نفس کی مخالفت کرے کیونکہ جب نفس کو مباحات سے روکا جائے گا تو اس وقت اسے محرمات سے بچانا آسان ہوجائے گا‘‘ یہی معاملہ جائز اور مباحات کا بھی ہے کہ آدمی اُسی وقت ناجائز چیزوں سے بچ سکتا ہے جب کہ وہ مباحات یعنی جائز چیزوں میں نفس کی مخالفت کرے ۔
رمضان المبارک میں بھی روزہ دار کو مباحات سے روک کر اس میں محرمات سے بچنے کی قوت پیدا کی جاتی ہے اور یہ اس میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر اس کے لئے زند گی بھر محرمات اور ناجائز چیزوں سے بچنا انتہائی آسان اور سہل ہوجاتا ہے ،حقیقت یہ ہے کہ روزہ ربانی احکامات پر عمل کرنے اور نفس و شیطان کے مکرو فریب سے بچنے کا نہایت جامع ترین نسخہ ہے ، یہ وہ عظیم تر اور مجرب ترین نسخۂ اکسیر ہے کہ جسکے اپنانے سے مومن بندہ ہمیشہ ہمیشہ شیطان اور نفس کے دھوکے اور اس کے مکر و فریب سے بچ کر نکلنے میں کا میاب ہوجاتا ہے ۔