قلب انسانی پر روزہ کے اثرات

تحریر: اظفر منصور

ماہ صیام اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے، جس چیز کی جانب نظر اٹھے وہ نور علی نور کا مصداق نظر آتی ہے، پورا ماحول ایک خاص ربانی و رحمانی رنگ میں رنگا ہوا ہے، ضعیف چہروں پر موجود ہشاشت و بشاشت، نوجوانوں اور بچوں کی صورتوں کی مسکان سے یہ دنیا معطر ہے۔ آسمان نور برسا رہا ہے، زمین قدم بوسی کر رہی ہے، گرد و غبار راستہ صاف کر رہے ہیں کہ خدا کا بندا حکم خدا و خوف خدا دل میں لئے فرشتوں کے ہمراہ نیکیوں اور انعامات خداوندی کو یقین کے بندھن میں باندھے ہوئے چلا آرہا ہے، یقیناً خالق کائنات نے اس ماہ کو بنایا ہی کچھ ایسا ہے کہ چاہ کر بھی شیطان مسلمانوں کو اپنی دلفریب اداؤں میں الجھا نہیں سکتا، لاکھ پیہم سعی کر لے پھر بھی راہِ صواب سے رخ پھیر نہیں سکتا کیونکہ یہ ماہ دیگر مہینوں (محرم صفر وغیرہ) کی طرح فقط ایک مہینہ نہیں بلکہ خدا کی عظیم عطیات میں سے ایک نہایت ہی اہم عطیہ ہے، اس ماہ کو رب کائنات نے کئی اوصاف سے سجا سنوار کر امت محمدیہ کو بطور تحفہ دیا ہے، اس میں ملعونین کو جکڑ دیا جاتا ہے، عبادات میں معمول سے زیادہ اضافہ کر دیا جاتا ہے، تاکہ بندا زیادہ سے زیادہ جنت کا حقدار بن سکے،
چنانچہ وہ مقام ِفلاح و نجاح کو پہنچے گا جو اس ماہ کا پورا پورا حق ادا کرے گا، خود کو صوم و صلاۃ کا پابند اور احکام الہی و تعلیمات نبوی کے تابع کرے گا،
قارئین، ایسا نہیں ہے کہ روزہ فقط مذہب اسلام یا امت محمدیہ کے حصے میں آیا، بلکہ حضرت ﷺ کی بعثت سے قبل جتنی امتیں آئیں تمام کے تمام کو اس خاص طریقہ خوشنودی یعنی ‘روزہ’ سے نوازا گیا، دنیا میں موجود تمام مذاہب میں روزہ’ کا تصور مذہبی شعائر میں شمار کیا جاتا ہے، ہاں یہ الگ بات ہے کہ گذشتہ امتوں میں روزے کی کیفیت مختلف ہوتی تھی، کہیں خاموشی کا روزہ ہوتا تھا تو کہیں کئی کئی گھنٹوں اور دن کا، کہیں یہ حکم چند مخصوص لوگوں پر نافذ ہوتا تھا تو کہیں روزہ رہتے ہوئے کھانے پینے کا سلسلہ جاری رہتا، کسی مذہب کے طریقۂ صیام میں حد درجہ آسانیاں تھیں تو کسی میں کئی مشکلات، کچھ افراط کے شکار تھے تو کچھ تفریط کے قائل، غرض کہ تمام طریقے بے اعتدالیوں کی رسی میں جکڑے ہوئے تھے، پھر اسلام نے مکمل و معتدل نظام دیا، عاقل بالغ، چھوٹا بڑا، امیر غریب، کالے گورے، عربی عجمی سب کو ایک نظام کا پابند و مکلف بنایا،
اور پھر اس امت محمدیہ کو روزے کا ایک ایسا میانہ طریقہ دیا جس میں فائدہ روحانی بھی ہے جسمانی بھی، یعنی روزہ کا یہ طریقہ جو رحمتہ اللعالمین ﷺ نے بتایا ہے: ایسا ہے کہ جہاں اس سے جسم دھیرے دھیرے تندرست و توانائی حاصل کرتا ہے وہیں روح پاک صاف ہوجاتی ہے، گناہ دھل جاتے ہیں، بدن خاکی میں تازگی آجاتی ہے،
اسلام نے باقی مذاہب کے مقابلے میں نہایت معتدل راہ اپناتے ہوئے رمضان المبارک کے روزوں کو طلوع آفتاب سے لیکر غروب آفتاب تک ایک خاص مدت تک کے لیے متعین کیا، جبکہ دیگروں کے یہاں یکبارگی ہی کئی کئی دنوں کا روزہ یا پھر مختصر دنوں کا روزہ ہوتا تھا اس سے نہ روح کا نفع ہوتا تھا نہ جسم کا، بلکہ اس طرح جسم بالکل ہی لاغر و کمروز ہوجاتا تھا، جبکہ اسلام نے ان غیرمعقول و غیرمانوس رواجوں کو توڑ کر نہایت ہی حکیمانہ انداز میں ایک مہینے کا مقرر کیا، جب ایک مسلمان خوف خدا دل میں لئے ایک مہینے تک گناہوں سے بچا رہے گا، نفسانی خواہشات کا قلع قمع کرے گا، ذکر و عبادات میں مشغول رہے گا، غریبوں اور فاقہ کشوں کی مانند بنا رہے گا، نیکی کا حکم برائی سے روکے گا، گالی گلوچ شراب و کباب سے کنارہ کش رہے گا، تو آپ سوچ سکتے ہیں ایسا روزہ روحانی اعتبار سے قلب و بدن پر کیا اثرات مرتب کرے گا، جبکہ دنیاوی لحاظ سے اسے باہمت، مضبوط، حالت مجبوری میں شدت بھوک و پیاس برداشت کرنے کی قوت عطا کرے گا، طبی لحاظ سے بقول ڈاکٹر معروف صاحب: ‘اس دوران اعضا کا فعل بھرپور قوت سے چلنے لگتا ہے اور آپ کی یادداشت اور ارتکاز کی قوت بہتر ہو جاتی ہے اور آپ کے اندر زیادہ توانائی آ جاتی ہے۔ ‘ اگر فاقہ کشی کئی دن تک مسلسل جاری رہے تو جسم پٹھوں کو پگھلانا شروع کر دیتا ہے، لیکن رمضان میں ایسا نہیں ہوتا کیوں کہ روزہ ایک دن میں ختم ہو جاتاہے، اسی طرح روزہ نہ صرف ذیابطیس (sugar ،(بلند فشار خون (pressure blood (اور انسانی وزن کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتاہے بلکہ دماغی افعال کو بہتر طریقے سے سر انجام دینے کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق روزہ نہ صرف انسان کو مختلف طبی امراض سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ انسانی عمر میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے، نیز ہندی اخبار دینک جاگرن کی رپورٹ کے مطابق رمضان میں بیس رکعت تراویح یعنی کہ چھ کلومیٹر کے دوڑ کی ورزش، صرف یہ اخبار ہی نہیں کئی غیر مسلم علماء بھی روزہ کے طبی و روحانی فوائد کے قائل ہیں، اور اپنے تاثرات میں قدرے تفصیل کے ساتھ مسلمانوں کو حاصل اس ایک مہینے کے تزکیہ و تطہیر ِنفس کے نصاب کے بارے میں لکھتے نظر آتے ہیں،
یہ تو اللہ رب العزت کی طرف سے بندوں پر ابتدائی احسانات و انعامات ہیں۔ ورنہ مسلمانوں کے لیے تو آخرت میں ایک اجر عظیم کا وعدہ اظہر من الشمس ہے،