اترپردیش میں ہندوتوا دہشت گردی، اکھلیش یادو کہاں ہیں ؟

تحریر: سمیع اللہ خان

انتخابات سے پہلے تک جب وہ مسلمانوں کا نام نہیں لیتے تھے اور مسلم ایشوز سے دامن بچاتے ہوئے، رام مندر والی سیاست کررہےتھے تو فرمایا گیا کہ، دراصل ابھی مسلمانوں کے مسائل پر بولنے سے ہندو ووٹ بھاجپا کی طرف چلے جائےگا اس لیے اکھلیش جی نے فرمایا ہےکہ الیکشن تک میاں بھائی کو اس بار قربانی دینی ہے، تھوڑا برداشت کرنا ہوگا،
اکھلیش کے وفادار مسلمانوں نے الیکشن تک اپنے مسائل کی قربانی دی اور فرنٹ پر نہیں آئے، گراؤنڈ پر محنت کرتے رہے، الیکشن میں مسلمانوں نے یکطرفہ اکھلیش کو ووٹنگ کی، اکھلیش اور سپا کی عزت بچالی اور انہیں اترپردیش پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے کا مقام دلایا، دلتوں اور یادوؤں نے بھاجپا کو جتانے میں اپنا رول ادا کیا، اکھلیش بھیّا کو یادو برادری سے مطلوبہ حمایت نہیں ملی، جبکہ اکھلیش نے پورے الیکشن خوب رام۔نام کی سیاست کی، پھر بھی یادو برادران بھاجپا کے مسلم۔دشمن چرس پر ہی ٹکے رہے، اور اس طرح یوگی جیت گیا، اور اکھلیش ہار گئے، البتہ اکھلیش کو باعزت مقام پر پہنچانے کا کردار مسلمانوں نے ہی نبھایا، قربانی بھی دی، لیکن جناب اکھلیش صاحب ابھی بھی اترپردیش میں مسلمانوں کےخلاف ہورہی ہندوتوا دہشتگردی کےخلاف بحیثیت اپوزیشن لیڈر لڑنا تو درکنار بحیثیت سیکولر نیتا کھل بولنا بھی پسند نہیں کرتےہیں، مسلم عورتوں کےساتھ غلط کاری کی دھمکی ہندو پنڈت نے اترپردیش میں ہی دی ہے، لیکن اکھلیش بھیا اس پر بھی چپ ہیں، مسلمانوں کا نام لینے سے اس حد تک بچنے والے انسان کو کوئي سیاسی مجبوری نہیں بلکہ اسلاموفوبیا کا مرض لاحق ہے، ایسا مریض آدمی خوداعتماد نہیں ہوپاتا، اور کوئی بھی کامیاب پاری نہیں کھیل سکتاہے جو حضرات کھل کر اکھلیش کی حمایت میں تھے ضرورتاً ہی سہی وہ ابھی سے اکھلیش بھیا کی کرتوت ذہن نشین رکھیں، تاکہ اگلے الیکشن میں جب عام مسلم نوجوان اکھلیش کےخلاف مشتعل رہے تو، آپ کو تعجب نہیں ہوناچاہئے۔